حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی جنبی ہونے کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں جب وضوء کر لے۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنبی ہونے کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں، چاہیے کہ وضوء کر لے پھر سوئے پھر جب چاہے غُسل کرے۔
لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ تُصِيبُهُ جَنَابَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ثُمَّ نَمْ
.
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ان کو رات کو جنابت ہوتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے آپؓ سے فرمایا کہ وضوء کرو، اپنی شرم گاہ کو دھو ڈالو پھر سو سکتے ہو۔
حضرت عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے رسول اللہﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا اور راوی نے یہ حدیث بیان کی۔ (راوی نے کہا) میں نے پوچھا کہ رسول اللہﷺ جنابت کی حالت میں کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے قبل غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سو جاتے تھے؟ آپؓ (حضرت عائشہؓ) نے فرمایا کہ آپؐ دونوں طرح کر لیتے تھے۔ کبھی غسل کرتے اور سو جاتے، کبھی وضوء کرتے پھر سوتے۔ میں نے کہا سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس نے اس معاملہ میں اتنی وسعت رکھی۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے اور پھر دوبارہ جانے کا ارادہ ہو تو اسے چاہیے کہ وضوء کر لے۔ راوی ابو بکر نے اپنی روایت میں مزید کہا کہ دونوں کے درمیان وضوء ہے۔
اسحاق بن ابی طلحہؓ نے کہا مجھے حضرت انس بن مالکؓ نے بتایا۔ کہتے ہیں کہ اسحاق کی دادی حضرت امّ سلیمؓ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں۔ انہوں نے اس وقت جبکہ حضرت عائشہؓ آپؐ کے پاس تھیں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! عورت وہ دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے اور اپنے آپ میں وہ دیکھتی ہے جو مرد اپنے آپ میں سوتے ہوئے دیکھتا ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اے امّ سلیم! اللہ تیرا بھلا کرے، تونے عورتوں کو شرمندہ کر دیا۔ حضورؐ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا بلکہ تم نے، اللہ تیرا بھلا کرے ہاں اے ام سلیم! اگر ایسا دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ غسل کرے۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ حَدَّثَتْ أَنَّهَا سَأَلَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَتْ ذَلِكِ الْمَرْأَةُ فَلْتَغْتَسِلْ . فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَاسْتَحْيَيْتُ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ وَهَلْ يَكُونُ هَذَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَمْ فَمِنْ أَيْنَ يَكُونُ الشَّبَهُ إِنَّ مَاءَ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ وَمَاءَ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ فَمِنْ أَيِّهِمَا عَلاَ أَوْ سَبَقَ يَكُونُ مِنْهُ الشَّبَهُ .
حضرت قتادہؓ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ نے انہیں بتایا حضرت ام سلیمؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبیﷺ سے اس عورت کے بارہ میں سوال کیا جو اپنی نیند میں وہ دیکھے جو مرد دیکھتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب عورت یہ دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ غسل کرے۔ حضرت ام سلیمؓ کہتی ہیں میں اس سے جھجک گئی۔ انہوں نے کہا کیا ایسا ہوتا ہے؟ اس پر اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا ہاں (اگر ایسا نہ ہو تو) مشابہت کہاں سے ہو؟ مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور پیلا ہوتا ہے۔ پس دونوں میں سے جو غالب آجائے یا سبقت لے جائے تو اس سے مشابہت ہو جاتی ہے۔