بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک عورت نے رسول اللہﷺ سے اس عورت کے بارہ میں جو نیند میں وہ دیکھے جو مرد نیند میں دیکھتا ہے سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر ایسا عورت سے ہو جو مرد سے ہوتا ہے تو چاہیے کہ وہ غُسل کرے۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حضرت ام سلیمؓ نبیﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ یقینا حق سے نہیں شرماتا۔ کیا جب عورت کو احتلام ہو تو وہ غسل کرے؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا ہاں، جب پانی دیکھے۔ حضرت ام سلمہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اللہ تیرا بھلا کرے (اگر ایسا نہ ہو) اس کا بچہ اس سے کیوں مشابہ ہوتا ہے؟ ہشام بن عروہ نے مزید کہا قَالَتْ قُلْتُ فَضَحْتِ النِّسَائَ کہ حضرت ام سلمہؓ نے کہا تھا تم نے عورتوں کو شرمندہ کر دیا۔ ابن شہاب سے روایت ہے انہوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے آپ کو بتایا کہ حضرت ابو طلحہؓ کے بیٹوں کی والدہ حضرت ام سلیمؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ پھر ہشام والی روایت بیان کی سوائے اس کے کہ اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے کہا افوہ! کیا عورت بھی ایسا دیکھتی ہے؟
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کیا جب عورت کو احتلام ہو اور وہ پانی دیکھے تو غسل کرے؟ تو آپؐ نے فرمایا ہاں۔ حضرت عائشہؓ نے اس سے کہا تیرا بھلا ہو۔ وہ کہتی ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔ اور مشابہت کس وجہ سے ہوتی ہے۔ جب اس کا پانی مرد کے نطفہ پر غالب ہو تو بچہ اپنے مامؤوں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچوں سے مشابہ ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبانؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا کہ یہودی علماء میں سے ایک عالم آیا اور کہنے لگا اے محمدؐ! تجھ پر سلام ہو۔ میں نے اس کو ایک دھکا دیا قریب تھا کہ وہ اس سے گر جاتا۔ اس نے کہا کہ تم مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا کہ تم یا رسول اللہ کیوں نہیں کہتے؟ یہودی نے کہا کہ ہم اسے اُسی نام سے پکارتے ہیں جو اس کے گھر والوں نے اسے دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا نام محمدؐ ہے جو میرے گھر والوں نے مجھے دیا۔ یہودی نے کہا کہ میں آپؐ کے پاس (کچھ) پوچھنے کے لئے آیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا کہ اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں تو کیا وہ بات تمہیں فائدہ دے گی؟ اس نے کہا کہ میں اپنے دونوں کانوں سے سنوں گا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے چھڑی سے جو آپؐ کے پاس تھی اس سے زمین پر نشان لگایا پھر فرمایا کہ پوچھو، یہودی نے کہا جب یہ زمین دوسری زمین سے اور آسمان بدل دئیے جائیں گے تو لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اندھیرے میں پل کے ورے ہوں گے۔ اس نے پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے عبور کرنے والے کون ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا مہاجر فقراء۔ یہودی نے پوچھا کہ جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کا تحفہ کیا ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا کہ مچھلی کے جگر کا (بڑھاہوا) ٹکڑا۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد ان کی غذا کیا ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا کہ ان کے لئے جنت کا بیل قربان کیا جائے گا جو اس کے کناروں سے چرا کرتا تھا۔ پھر اس نے پوچھا کہ اس کے بعد ان کا مشروب کیا ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا اس میں ایک چشمہ ہے جو سلسبیل کہلاتا ہے۔ اس یہودی نے کہا کہ آپؐ نے سچ فرمایا۔ اس نے کہا کہ میں آپؐ سے ایسی بات پوچھنے آیا ہوں جسے زمین والوں میں سے سوائے نبی کے یا ایک دو آدمیوں کے کوئی نہیں جانتا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر میں تمہیں بتاؤں تو تمہیں کوئی فائدہ ہوگا؟ اس نے کہا کہ میں اپنے دونوں کانوں سے سنوں گا۔ اس نے کہا کہ میں بچہ کے بارہ میں پوچھنے آیا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا مرد کا پانی سفید اور عورت کا زردی مائل ہوتا ہے جب وہ دونوں ملتے ہیں اور مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آجاتی ہے تو اللہ کے اذن سے ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آجائے تو اذنِ الٰہی سے ان کے ہاں لڑکی ہوگی۔ یہودی نے کہا کہ آپؐ نے سچ فرمایا آپؐ ضرور نبی ہیں۔ پھر وہ مُڑا اور چلا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس نے مجھ سے پوچھا اور جن باتوں کے متعلق اس نے مجھ سے پوچھا مجھے ان کا کچھ علم نہیں تھا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اس بارہ میں علم دیا۔ عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی کی روایت میں (کُنْتُ قَائِمًا کے بجائے کُنْتُ قَاعِدًا کے الفاظ ہیں۔ نیز (زِیَادَۃُ کَبِدِ النُّوْنِ کے بجائے) زَائِدَۃُ کَبِدِ النُّوْنِ کے الفاظ ہیں اور (
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب غُسلِ جنابت فرماتے تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرمگاہ دھوتے۔ پھر نماز کے وضوء کی طرح وضوء فرماتے۔ پھر پانی لیتے اور اپنی انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے یہاں تک کہ جب آپؐ دیکھتے کہ اچھی طرح صفائی ہوگئی ہے تو اپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین دفعہ پانی ڈالتے۔ پھر اپنے سارے جسم پر پانی ڈالتے۔ پھر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے غسلِ جنابت فرمایا تو سب سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا۔ پھر راوی نے ابو معاویہ کی حدیث کی طرح ہی ذکر کیا۔ ہاں دونوں پاؤں کے دھونے کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غُسلِ جنابت فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے دھونے سے شروع فرماتے قبل اس کے کہ آپؐ برتن میں اپنا ہاتھ داخل کرتے۔ پھر آپؐ نماز کے وضوء کی طرح وضوء فرماتے۔
حضرت ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ مجھے میری خالہ حضرت میمونہؓ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کے غُُسلِ جنابت کے لئے پانی آپؐ کے قریب رکھا۔ آپؐ نے دو یا تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ دھوئے۔ اور آپؐ نے اپنا ہاتھ برتن میں داخل فرمایا۔ اور آپؐ نے اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا اور بائیں ہاتھ سے دھویا۔ اور آپؐ نے بایاں ہاتھ زمین پر مارا اور اسے اچھی طرح رگڑا۔ پھر آپؐ نے نماز کے وضوء کی طرح وضوء فرمایا۔ پھر آپؐ نے اپنے سر مبارک پر تین مرتبہ اوک بھر کر پانی ڈالا۔ پھر آپؐ نے سارا جسم دھویا۔ پھر آپؐ اپنی اس جگہ سے ہٹ گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ پھر میں نے آپؐ کو ایک رومال دیا جسے آپؐ نے واپس کر دیا۔ یحیٰ بن یحیٰ اور ابو کریب دونوں کی روایتوں میں تین مرتبہ اوک بھر کر پانی ڈالنے کا ذکر نہیں ہے اور وکیع کی روایت میں مکمل وضوء کا بیان ہے۔ وہ کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا اس میں ذکر کرتے ہیں اور معاویہ کی روایت میں رومال کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت ابن عباسؓ حضرت میمونہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک رومال پیش کیا گیا لیکن آپؐ نے اُسے نہ چھؤا اور پانی کے ساتھ ایسا کرنے لگے یعنی آپؐ اسے جھاڑنے لگے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غُسلِ جنابت فرماتے تو حلاب جیسی چیز منگواتے پھر اپنے ہاتھ میں لے کر پہلے سر کے دائیں اور پھر بائیں حصہ پر ڈالتے۔ پھر اسے دونوں ہاتھوں میں لے لیتے۔ پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر پر (پانی) ڈالتے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک برتن جسے ’’فرق‘‘ کہتے ہیں سے غُسلِ جنابت فرماتے تھے۔