بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 128 hadith
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ ایک مُدْ (پانی) سے وضوء فرما لیتے اور ایک صاع سے پانچ مُدْ (پانی) تک سے غسل فرما لیتے۔
حضرت سفینہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کو ایک صاع پانی غسلِ جنابت کے لئے کافی ہو جاتا اور ایک مُدْ پانی وضوء کے لئے کفایت کرتا۔
حضرت سفینہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں حضرت ابو بکرؓ صاحبِ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ ایک صاع (پانی) سے غسل فرما لیتے اور ایک مُدْ (پانی) سے وضوء فرما لیتے۔ ابن حجر کی روایت میں (یَتَطَھَّرُ بِالْمُدِّ کے بجائے) یُطَھِّرُہُ الْمُدُّ کے الفاظ ہیں اور راوی کہتے ہیں کہ وہ عمر رسیدہ ہو گئے تھے اس لئے مجھے ان کی روایت پر اعتماد نہیں۔
حضرت جبیرؓ بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس غسل کے بارہ میں باتیں کر رہے تھے۔ کسی نے کہا کہ میں اپنا سر اس اس طرح دھوتا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے سر پر تین اوک پانی ڈالتا ہوں۔
حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس غسلِ جنابت کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیتا ہوں۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ ثقیف کے وفد نے نبی ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا کہ ہمارا علاقہ بڑا سرد علاقہ ہے تو غسل کیسے ہو؟ آپؐ نے فرمایا کہ میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال لیتا ہوں۔ ابو بِشر کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ثقیف کے وفد نے یا رسول اللہ! کے الفاظ کہے تھے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب غسلِ جنابت فرماتے اپنے سر پر تین اوک پانی ڈال لیتے۔ حسن بن محمد نے اُن سے عرض کیا کہ میرے بال بہت زیادہ ہیں۔ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ اے میرے بھتیجے! رسول اللہﷺ کے بال تمہارے بالوں سے زیادہ گھنے اور پاکیزہ تھے۔
حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں مَیں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں ایک ایسی عورت ہوں جو اپنے سر پر کس کر مینڈھی بناتی ہوں۔ کیا میں غسلِ جنابت کے وقت اسے کھولوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں بلکہ تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم تین اُوک پانی اپنے سر پر ڈال لو۔ پھر اپنے اُوپر پانی ڈال لو تو تم پاک ہو جاؤ گی۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے (حضرت امّ سلمہؓ نے پوچھا کہ) کیا میں حیض اور جنابت کے (غُسل کے وقت) اس مینڈھی کو کھول دُوں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ ایوب بن موسیٰ نے اسی سند سے روایت کی ہے اور کہا (حضرت اُمِّ سلمہؓ نے پوچھا) کیا میں اُسے (مینڈھی کو) کھولوں اور غسلِ جنابت کروں۔ راوی نے حیض کا ذکر نہیں کیا۔
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ کو یہ بات پہنچی کہ حضرت عبداللہ بن عمروؓ عورتوں کو ان کے غسل کے وقت بال کھولنے کے لئے کہتے ہیں آپؓ نے فرمایا اس ابن عمروؓ کی اس بات پر تعجب ہے وہ عورتوں کو غسل کے وقت بال کھولنے کا کہتے ہیں ان کو سر منڈوانے کا کیوں نہیں کہہ دیتے۔ میں اور رسول اللہﷺ ایک ہی برتن سے غسل کر لیتے اور میں اپنے سر پر تین دفعہ سے زیادہ پانی نہ ڈالتی۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے نبیﷺ سے پوچھا کہ وہ غسلِ حیض کس طرح کرے؟ راوی نے کہا کہ حضرت عائشہؓ نے ذکر کیا کہ آپؐ نے اسے سکھایا کہ وہ کیسے غسل کرے پھر مشک کا ایک پھایا لے اور اس کے ذریعہ صفائی کرے۔ اس نے عرض کیا کہ اس کے ذریعہ میں کیسے صفائی کروں؟ آپؐ نے فرمایا تم اس کے ذریعہ صفائی کرو، سبحان اللہ اور پھر آپؐ نے منہ ڈھانپ لیا۔ سفیان بن عیینہ نے ہمیں اپنے ہاتھ اپنے چہرہ پر رکھ کر دکھایا اور کہا کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اس پر مَیں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی کہ نبیﷺ کا کیا منشا ہے۔ پس میں نے کہا کہ جہاں جہاں خون کا نشان پاؤ وہاں وہاں اسے لگاؤ۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبیﷺ سے پوچھا کہ میں پاک ہونے پر کس طرح غُسل کروں؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ ایک مشک لگا ہوا پھایا لو پھر اس کے ساتھ صفائی کر لو۔