بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم پر مشکل اور سہولت اور بشاشت اور ناپسندیدگی اور اپنے پر ترجیح دیئے جانے پر (بھی) سننا اور اطاعت کرنا فرض ہے۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے دوستؐ نے وصیت کی کہ میں سنوں اور اطاعت کروں اگرچہ وہ ایسا غلام ہو جس کے اعضاء کٹے ہوئے ہوں۔ ایک روایت میں عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجَدَّعَ الْاَطْرَافِ کے الفاظ ہیں۔
یحیٰ بن حُصین سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی دادی سے سنا۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبیﷺ کو حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے سنا اور آپؐ فرما رہے تھے اگرچہ ایک غلام تمہارا حاکم بنایا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔ ایک روایت میں (عَبْدٌ کی بجائے) عَبْدًا حَبَشِیًّا کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجَدَّعًا کے الفاظ کا ذکر نہیں مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ انہوں (حضرت ام حصینؓ) نے رسول اللہﷺ کو منیٰ یا عرفات میں فرماتے ہوئے سنا تھا۔
یحیٰ بن حصین اپنی دادی حضرت ام حصینؓ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں وہ بیان کرتی تھیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کا حج کیا۔ وہ کہتی ہیں رسول اللہﷺ نے بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں اور میں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا اگرچہ تم پر ایک کٹے ہوئے اعضاء والا غلام _ میرا خیال ہے انہوں (حضرت ام حصینؓ ) نے کہا تھا سیاہ رنگ کا _ اگر وہ تمہاری قیادت اللہ کی کتاب کے مطابق کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔
حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک مسلمان شخص پر سننا اور اطاعت کرنا فرض ہے۔ اس میں جو وہ پسند کرے یا ناپسند کرے سوائے اس کے کہ اسے معصیت کا حکم دیا جائے۔ اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے نہ اطاعت کرنا ہے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس پر ایک شخص کو امیر بنایا اس نے آگ جلائی اور کہا اس میں داخل ہو جاؤ۔ بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا مگر دوسروں نے کہا اسی سے تو ہم بھاگے ہیں۔ پھر اس بات کا رسول اللہﷺ سے ذکر کیا گیا۔ آپؐ نے ان لوگوں سے جنہوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا فرمایا اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک اس میں رہتے اور دوسروں کے بارہ میں اچھی بات فرمائی اور فرمایا اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔
حضرت علیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے ایک مہم بھیجی اور انصارؓ کے ایک شخص کو اُن پر امیر مقرر فرمایا اور انہیں اس کی بات سننے اور اطاعت کرنے کا حکم دیا۔ کسی معاملے میں انہوں نے اسے غصہ دلایا تو اس نے کہا میرے لئے لکڑیاں جمع کرو انہوں نے اس کے لئے جمع کیں پھر اس نے کہا آگ جلاؤ انہوں نے آگ جلائی پھر انہیں کہا کیا تمہیں رسول اللہﷺ نے نہیں کہا تھا کہ تم میری بات سنو اور اطاعت کرو؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ اس نے کہا تو اس میں داخل ہو جاؤ۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا ہم تو آگ سے بچنے کے لئے رسول اللہﷺ کی طرف بھاگ کر آئے ہیں۔ وہ اسی طرح رہے اور اس کا غصہ جاتا رہا اور آگ بجھ گئی۔ جب وہ لوٹے تو انہوں نے اس کا ذکر نبیﷺ سے کیا۔ آپؐ نے فرمایا اگر وہ اس میں داخل ہو جاتے تو ہر گز اس میں سے نہ نکلتے۔ اطاعت تو صرف معروف میں ہے۔
عبادہ بن ولید بن عبادہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے (اغلباً عبادہ کے دادا مراد ہیں نہ کہ ولید کے) روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ ﷺ کی سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی تنگی اور سہولت ہو بشاشت اور ناپسندیدگی اور اپنے پر ترجیح (کی صورت) میں اور اس بات پر کہ اختیارات کے بارہ میں ذمہ دار لوگوں سے نزاع نہیں کریں گے اور اس بات پر کہ ہم جہاں بھی ہوں سچ کہیں گے اور اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
جنادہ بن ابی امیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت عبادہؓ بن صامت کے پاس گئے اور وہ بیمار تھے ہم نے کہا اللہ آپؓ کو صحت دے، ہم سے کوئی ایسی حدیث بیان کریں جو آپؐ نے رسول اللہﷺ سے سنی ہو اور اللہ اس کے ذریعہ نفع دے۔ انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے ہمیں بلایا۔ ہم نے آپؐ کی بیعت کی آپؐ نے جو عہد ہم سے لیا اس میں یہ بھی تھا کہ ہم نے بیعت کی سننے اور اطاعت کرنے پر اپنی خوشی اور ناخوشی میں اور اپنی تنگی اور اپنی سہولت میں اور اپنے پر ترجیح (کی صورت) میں اور اس بارہ میں کہ صاحب اختیار سے اختیار کے بارہ میں کش مکش نہیں کریں گے۔ آپؐ نے فرمایا سوائے اس کے کہ تم کھلا کھلا کفر دیکھو اور اللہ کی طرف سے جس میں تمہارے پاس واضح دلیل موجود ہو۔
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا امام ایک ڈھال ہے اور اس کے پیچھے ہو کر لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ بچا جاتا ہے۔ اگر وہ اللہ عزّ وجل کے تقوٰی کا حکم دے اور عدل سے کام لے تو اس کے لئے اس بات کا اجر ہے۔ اور اگر وہ اس کے علاوہ حکم دے تو اس کا وبال اس پر ہے۔