بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسارؓ المُزَنی کی عیادت کرنے اس بیماری میں جس میں انہوں نے وفات پائی آئے۔ حضرت معقلؓ نے کہا میں تم سے ایسی حدیث بیان کرنے لگا ہوں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے۔ اگر مجھے زندگی کی اُمید ہوتی تو میں تم سے بیان نہ کرتا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے آپؐ نے فرمایا جس شخص کو اللہ رعیّت کا نگران بنائے اور جب وہ مرے تو اس حال میں مرے کہ وہ اپنی رعیّت سے خیانت کرنے والا ہو تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔ حسن سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن زیاد حضرت معقلؓ بن یسار کے پاس آئے وہ بیمار تھے۔ انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ ابن زیاد نے حضرت معقلؓ سے کہا آپؓ نے مجھ سے یہ بات پہلے کیوں نہ بیان کی۔ انہوں نے کہا میں نے تم سے بیان نہیں کی یا (کہا) میں تم سے بیان کرنے والا نہیں تھا۔
ابو الملیح سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد حضرت معقلؓ بن یسار کے پاس ان کی بیماری میں آیا۔ حضرت معقلؓ نے اس سے کہا میں تم سے ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں کہ اگر میں موت کی حالت میں نہ ہوتا تو ہر گز تم سے بیان نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے آپؐ نے فرمایا جو کوئی امیر مسلمانوں کے معاملات کا والی ہو پھر وہ ان کے لئے جد و جہد اور خیر خواہی نہ کرے تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت معقلؓ بن یزید بیمار ہوئے اور عبید اللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لئے آیا۔
حسن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائذ ؓ بن عمرو اور وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے تھے عبید اللہ بن زیاد کے پاس آئے اور انہوں نے کہا اے میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپؐ نے فرمایا سب سے بُرا حاکم ظلم کرنے والا ہے۔ پس تم بچو کہ تم ان میں سے ہو۔ اس نے ان سے کہا تشریف رکھیئے کیونکہ آپؓ محمد ﷺ کے صحابہ ؓ کا چھان ہو۔ انہوں نے کہا کیا ان کا بھی چھان ہے؟ چھان تو ان کے بعد والوں میں اور ان کے غیروں میں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور (قومی مال میں) خیانت کا ذکر فرمایا اور اس بات کو بہت بڑا (گناہ) قرار دیا اور اس معاملہ کو سنگین قرار دیا۔ پھر فرمایا میں تم میں سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر ایک اُونٹ بلبلا رہا ہو اور وہ شخص کہے یا رسولؐ اللہ! میری مدد فرمائیے تو میں کہوں کہ میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا میں نے تجھے کھول کر بتا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو اور وہ شخص کہے یا رسولؐ اللہ! میری فریاد رسی کیجئے۔ تو میں کہوں کہ میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا میں نے تجھے کھول کر بتا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر ایک بکری منمنا رہی ہو۔ وہ شخص کہے یا رسولؐ اللہ! میری فریاد رسی کیجئے تو میں کہوں کہ میں تیری کچھ مدد نہیں کر سکتا۔ میں نے تجھے کھول کر بتا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ کوئی تم میں سے قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر کوئی جاندار چیخ رہا ہو اور وہ شخص کہے یا رسولؐ اللہ! میری فریاد رسی کیجئے تو میں کہوں میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا میں نے تجھے کھول کر بتا دیا تھا میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ تم میں سے کوئی قیامت کے دن آئے کہ اس کی گردن پر کپڑے، اس پر (ہوا سے) ہل رہے ہوں اور وہ کہے یا رسولؐ اللہ! میری فریاد رسی کیجئے۔ تو میں کہوں کہ میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا میں نے تجھے کھول کر بتا دیا تھا میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ تم میں سے کوئی قیامت کے دن اس حال میں آئے کہ اس کی گردن پر سونا چاندی ہو اور وہ شخص کہے یا رسولؐ اللہ! میری فریاد رسی کیجئے۔ تو میں کہوں کہ میں تیری کوئی مدد نہیں کر سکتا میں نے تجھے کھول کر بتا دیا تھا۔
حضرت ابوحُمیدؓ الساعدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے اسد (قبیلہ) میں سے ایک شخص جسے ابنُ اللُّتبِیَّۃ کہتے تھے عامل بنایا عمر وؓ اور ابن ابی عمر کہتے ہیں کہ صدقہ وصول کرنے پر (مقرر کیا) جب وہ (واپس) آیا تو اس نے کہا یہ آپ لوگوں کے لئے ہے اور یہ میرے لئے ہے جو مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ منبر پر کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا اُس عامل کو کیا ہوا؟ کہ میں بھیجتا ہوں اور وہ کہتا ہے یہ آپ لوگوں کا اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا وہ اپنے باپ کے گھر یا ماں کے گھر بیٹھا رہتا پھر وہ دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں، اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمدؐ کی جان ہے تم میں سے کوئی بھی اس میں سے کوئی چیز نہ لے گا مگر وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ وہ اپنی گردن پر بلبلا تا ہوا اونٹ اُٹھائے ہوئے ہوگا۔ یا گائے جو آواز نکال رہی ہوگی یا بکری جو چیخ رہی ہوگی پھر آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھائے یہاں تک کہ ہم نے آپؐ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر آپؐ نے دو مرتبہ فرمایا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا! حضرت ابو حُمیدؓ الساعدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے ازد قبیلہ کے ابنُ اللُّتبِیَّۃِ کو صدقات جمع کرنے کے لئے عامل مقرر فرمایا۔ وہ مال لے کر آیا اور اسے نبیﷺ کو پیش کیا اور کہا یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ تحفہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ نبیﷺ نے اسے فرمایا کہ تم کیوں اپنے باپ اور ماں کے گھر نہیں بیٹھے رہے اور دیکھتے کہ تمہیں تحائف دئیے جاتے ہیں یا نہیں۔ پھر نبیﷺ خطاب فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے۔ باقی روایت پہلی روایت کی طرح ہے۔
حضرت ابو حُمیدؓ الساعدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ازد قبیلہ کے ایک شخص کو جو ابنُ الاُ تبِیَّۃِ کہلاتا تھا بنو سُلیم کے صدقات کے لئے عامل بنایا۔ جب وہ آیا تو آپؐ نے اس سے حساب لیا۔ اس نے کہا یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ تحفہ ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اپنے باپ اور ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے۔ اگر تم درست کہہ رہے ہو تو تمہارے پاس تحفہ آتا۔ پھر آپؐ نے ہم سے خطاب فرمایا۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا امّا بعد میں تم میں سے کسی شخص کو ان کاموں پر جن پر اللہ نے مجھے والی بنایا ہے مقرر کرتا ہوں وہ میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ آپ لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ وہ کیوں اپنے باپ اور ماں کے گھر نہیں بیٹھا کہ اگر وہ درست بات کرتا ہے تو اس کے پاس تحفہ آتا۔ بخدا تم میں سے کوئی شخص اس میں سے اپنے حق کے علاوہ کوئی چیز نہیں لیتا مگر وہ قیامت کے دن اسے اُٹھائے ہوئے اللہ کو ملے گا۔ میں ضرور تم میں سے اسے پہچان لوں گا کہ جو بلبلاتا ہوا اونٹ یا ڈکراتی ہوئی گائے یا منمناتی ہوئی بکری اُٹھائے ہوئے ملے گا۔ پھر آپؐ نے دونوں بازو اُٹھائے یہانتک کہ آپؐ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی گئی۔ پھر آپؐ نے کہا اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا۔ (راوی کہتے ہیں) میری آنکھ نے دیکھا اور میرے کان نے سنا۔ ایک اور روایت میں (وَاللَّہِ لَا یَأْخُذُ اَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْھَا شَیْئًا کی بجائے) تَعْلَمُنَّ وَاللَّہِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا یَأْخُذُ اَحَدُکُمْ مِنْھَا شَیْئًا کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابو حُمیدؓ ساعدی نے کہا میری آنکھ نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا اور (کہا) حضرت زیدؓ بن ثابت سے پوچھ لو کیونکہ وہ میرے ساتھ تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص صدقہ پر عامل مقرر فرمایا تو وہ بہت سا سامان لے کر آیا اور کہنے لگا یہ آپ لوگوں کے لئے ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔ راوی عروہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو حُمیدؓ الساعدی سے کہا کیا آپؓ نے رسول اللہﷺ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا مِنْ فِیْہِ اِلَی اُذُنِیْ آپؐ کی زبان مبارک سے میرے کان تک۔۔۔ ۔
حضرت عدی ؓ بن عمیرہ الکندی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپؐ نے فرمایا ہم تم میں سے جسے کسی کام پر مقرر کریں پھر وہ سوئی یا اس سے کم یا زیادہ ہم سے چھپاتا ہے تو یہ خیانت ہے۔ جسے وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا۔ راوی کہتے ہیں اس پر انصار کا ایک سیاہ رنگ کا شخص کھڑا ہوا گویا میں (اس وقت بھی) اسے دیکھ رہا ہوں اس نے کہا یا رسولؐ اللہ! اپنا کام مجھ سے لے لیجئے۔ آپؐ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا میں نے آپ کو یہ بات کہتے سنا ہے۔ آپؐ نے فرمایا میں اسے اب بھی کہتا ہوں ہم تم میں سے کسی کو کسی کام پر مقرر کریں تو وہ سب چیزیں لے کر آوے، تھوڑی ہوں یا بہت۔ پس اسے اس میں سے جو کچھ دیا جاوے لے لے اور جس سے اسے منع کیا جائے تو وہ رک جائے۔
حجاج بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا کہ یہ آیت یٰا اَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اَطِیْعُوا اللَّہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُولَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ یعنی اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اولی الامر کی۔ عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سھمی کے بارہ میں نازل ہوئی نبیﷺ نے انہیں ایک سریّہ میں بھیجا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے یقینا اللہ کی اطاعت کی اور جو میری نافرمانی کرتا ہے وہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور جو امیر کی اطاعت کرتا ہے اس نے میری اطاعت کی اور جو امیر کی نافرمانی کرتا ہے اس نے یقینا میری نافرمانی کی۔ ایک اور روایت میں مَنْ یَّعْصِ الْاَمِیْرَ فَقَدْ عَصَانِیْ کے الفاظ مذکور نہیں ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے یقینًا اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے یقینًا اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے امیر کی اطاعت کی اس نے یقینًا میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے یقینًا میری نافرمانی کی۔ ایک اور روایت میں مَنْ اَطَاعَ الْاَمِیْرَ کے الفاظ ہیں مگر اَمِیْرِیْ کا لفظ نہیں۔