بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
ابی حازم سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوہریرہؓ کا پانچ سال ہم نشین رہا۔ میں نے ان کو نبیﷺ سے حدیث بیان کرتے سنا آپؐ نے فرمایا بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی فوت ہوتا تو اس کا جانشین نبی ہوتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ میرے بعد خلفاء ہوں گے اور ایک وقت میں ایک سے زیادہ ہوں گے۔ انہوں نے عرض کی تو پھر آپؐ ہمیں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا پہلے کی بیعت سے وفاداری کرو اور پھر پہلے کی اور ان کے حق انہیں دو کیونکہ اللہ ان سے ان کے بارہ میں پوچھے گا جن کا اس نے انہیں نگران بنایا تھا۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا میرے بعد ترجیحی سلوک ہوگا اور ایسے معاملات ہوں گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! اگر کوئی ہم میں سے ایسے حالات سے دوچار ہو تو آپؐ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا جو تم پر حق ہیں وہ ادا کرو اور اپنے حقوق اللہ سے طلب کرو۔
عبد الرحمان بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے۔ میں ان کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم ایک جگہ اُترے۔ ہم میں سے کوئی تو اپنا خیمہ ٹھیک کرنے لگا اور کوئی ہم میں سے تیر چلانے لگا اور کوئی ہم میں سے اپنے مویشیوں میں تھا۔ جب رسول اللہﷺ کے منادی نے پُکارا ’’اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ ‘‘ ہم رسول اللہﷺ کے پاس اکٹھے ہوگئے۔ آپؐ نے فرمایا کہ مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گذرا مگر اس پر فرض تھا کہ وہ اپنی امت کو وہ بات جسے وہ ان کے لئے بہتر سمجھتا ہے بتائے اور اسی طرح انہیں اس بات سے ہوشیار کرے جسے وہ ان کے لئے ضرر رساں سمجھتا ہے اور تمہاری اس امت کے پہلے حصہ میں عافیت رکھی گئی ہے اور اس کے آخر میں آزمائش ہے اور ایسے امور ہیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو اور ایسے فتنے آئیں گے کہ ایک دوسرے کو بے حیثیت کر دے گا اور ایک فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا یہ تو میری تباہی ہے۔ پھر وہ جاتا رہے گا اور ایک فتنہ آئے گا مومن کہے گا (اصل میں) یہ ہے وہ۔ پس تم میں سے جو چاہتا ہے کہ آگ سے بچایا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو اس پر ایسی حالت میں موت آئے کہ وہ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتا ہو اور چاہیے کہ لوگوں سے ایسا سلوک کرے جیسا وہ چاہتا ہے کہ اس سے کیا جائے۔ اور جس نے کسی امام کی بیعت کی اور اس کو اپنا ہاتھ دے دیا اور اپنا دل اس کو دے دیا اور وہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر دوسرا اس سے جھگڑنے کو آئے تو دوسرے کی گردن ماردو۔ میں ان کے قریب ہوا اور انہیں کہا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا آپ نے یہ رسول اللہﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے اپنے کانوں اور اپنے دل کی طرف اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا اور کہا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ تمہارا چچا زاد معاویہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کا مال ناحق کھائیں اور اپنے لوگوں کو قتل کریں حالانکہ اللہ فرماتا ہے۔ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَینَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَکُونَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللَّہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے اموال آپس میں ناجائز طریق پر نہ کھایا کرو۔ ہاں اگر وہ ایسی تجارت ہو جو تمہاری باہمی رضامندی سے ہو اور تم اپنے لوگوں کو قتل نہ کرو۔ یقینا اللہ تم پر بار بار رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں وہ کچھ دیر خاموش ہوئے پھر انہوں نے کہا اللہ کی اطاعت میں اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی معصیت میں اس کی نافرمانی کرو۔
حضرت انس بن مالکؓ حضرت اُسید بن حضیرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے علیحدگی میں کہا کیا آپؐ مجھے بھی ویسے ہی حاکم نہیں بنائیں گے جیسے فلاں کو بنایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تم میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھے حوضِ (کوثر) پر ملو۔ ایک اور روایت میں خَلَا بِرَسُوْلِ اللَّہِ ﷺ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت علقمہ بن وائل حضرمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں سلمہؓ بن یزید جعفی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا اور کہا اے اللہ کے نبیؐ ! اگر ہمارے حاکم ایسے ہوں کہ وہ ہم سے تو حق طلب کریں مگر ہمارا حق ادا نہ کریں تو اس بارہ میں آپؐ کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ آپؐ نے اس سے اعراض کیا۔ پھر اس نے آپؐ سے سوال کیا۔ پھر آپؐ نے اس سے اعراض کیا۔ پھر اس نے دوسری یا تیسری بار پوچھا تو اشعثؓ بن قیس نے انہیں کھینچا اور آپؐ نے فرمایا کہ سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر صرف ان کے اعمال کی ذمہ داری ہے اور تم پر تمہارے اعمال کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ اشعثؓ بن قیس نے انہیں (سلمہ بن یزید جعفی کو) کھینچا پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سنو اور اطاعت کرو۔ جو ذمہ داری ان پر ہے وہ اس کے جواب دہ ہیں اور جو ذمہ داری تم پر ہے تم اس کے جواب دہ ہو۔
حضرت حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں لوگ رسول اللہﷺ سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں آپؐ سے اس ڈر سے کہ میں اس کا شکار نہ ہوجاؤں شر کے بارہ میں پوچھتا تھا میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ تعالیٰ ہمارے پاس یہ خیر لایا۔ کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ میں نے پوچھا اس شر کے بعد پھر خیر ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا ہاں اور اس میں (کچھ) دھواں ہوگا۔ میں نے پوچھا اس کے دھوئیں سے کیا مراد ہے؟ آپؐ نے فرمایا کچھ لوگ ہوں گے جو میری سنت کی بجائے اور طریق اختیار کریں گے۔ اور میری ہدایت کے خلاف رہنمائی کریں گے۔ ان میں تم کچھ اچھائی پاؤ گے اور کچھ ناپسندیدہ بات بھی۔ میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے بعد شر ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ جہنم کے دروازوں پر کچھ بلانے والے ہوں گے جو اس کی طرف جانے کے لئے ان کی بات مانے گا وہ اسے اس میں ڈال دیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ للہ! ہمیں ان کی کیفیت بتائیے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ وہ ہمارے لوگوں میں سے ہوں گے۔ وہ ہماری زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اگر یہ وقت مجھ پر آئے تو فرمائیے آپؐ کا کیا ارشاد ہے؟ آپؐ نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ وابستہ رہنا۔ مَیں نے عرض کیا اگر ان کی جماعت نہ ہو، نہ ہی امام؟ آپؐ نے فرمایا پھر ان تمام فرقوں سے الگ رہنا اگرچہ درخت کی جڑ سے چمٹے رہنا پڑے یہاں تک کہ اسی حال میں تمہیں موت آجائے۔
حضرت حذیفہ بن یمانؓ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! ہم برے حال میں تھے۔ تو اللہ خیر لے آیا اور ہم اس میں ہیں۔ کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہوگی؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ میں نے عرض کیا کیسے؟ آپؐ نے فرمایا میرے بعد ایسے آئمہ ہوں گے جو نہ میری ہدایت پر چلیں گے اور نہ میری سنت اختیار کریں گے۔ ان میں ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جن کے دل انسانی جسم میں شیطان کے دل ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اگر مجھ پر یہ وقت آئے تو آپؐ کا کیا ارشاد ہے؟ آپؐ نے فرمایا تم امیر کی سنو گے اور اطاعت کرو گے، اگرچہ تیری پیٹھ پر مارا جائے اور تیرا مال لے لیا جائے (پھر بھی) سننا اور اطاعت کرنا۔
حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا جو اطاعت سے نکلا اور جماعت سے علیحدہ ہوا اور الگ رہا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو اندھے جھنڈے کے نیچے لڑے وہ عصبیت کی وجہ سے غصہ میں آیا ہو یا عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی مدد کرتا ہو اور وہ مارا جائے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی اور جو میری امت کے خلاف نکلے اور ان کے اچھوں اور بُروں کو مارے نہ کسی مومن کو چھوڑے اور نہ عہد والے سے عہد پورا کرے۔ اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور نہ میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو اطاعت سے باہر نکلا اور جماعت سے علیحدہ ہوا پھر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو اندھے جھنڈے کے نیچے لڑا وہ عصبیت کے لئے غضب ناک ہوا اور عصبیت کے لئے لڑا تو وہ میری امت میں سے نہیں ہے اور جو میری امت میں سے میری امت کے خلاف نکلا اور اس کے اچھے بروں کو مارا۔ نہ (اس امت کے) کسی مومن کی پرواہ کی اور نہ (اس امت کے) کسی عہد والے کا عہد پورا کیا تو اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے امیر میں ایسی بات دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے تو صبر کرے کیونکہ جو جماعت سے ایک بالشت علیحدہ ہوا اور وہ مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت ہوگی۔