بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 171 hadith
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس نے اپنے امیر کی کوئی بات ناپسند کی تو وہ اس پر صبر کرے کیونکہ جو شخص بھی اپنے حاکم سے ایک بالشت بھی جدا ہوا اور اس حالت میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حضرت عبد اللہ البجلیؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو کوئی اندھے جھنڈے تلے مارا گیا اور وہ عصبیت کی طرف بلاتا تھا یا عصبیت کی مدد کرتا تھا تو یہ قتل جاہلیت کا ہوگا۔
نافع سے روایت ہے کہ یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب حرّہ کا واقعہ ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، عبد اللہ بن مطیع کے پاس آئے انہوں (عبد اللہ بن مطیع) نے کہا ابو عبد الرحمان کے لئے تکیہ لگاؤ انہوں (حضرت ابن عمرؓ) نے کہا کہ میں تمہارے پاس بیٹھنے نہیں آیا میں اس لئے تمہارے پاس آیا ہوں کہ تمہیں ایک حدیث سناؤں جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپؐ فرما رہے تھے جس نے اطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ قیامت کے دن اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حضرت عرفجہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ آپؐ نے فرمایا عنقریب خرابیاں ہوں گی۔ جو شخص اس امت کی وحدت کے معاملہ کو بگاڑنا چاہے اور وہ (امت) متحد ہو تو خواہ وہ کوئی ہو، اسے تلوار سے مارو۔ ایک اور روایت میں (جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہُ کی بجائے) جَمِیْعًا فَاقْتُلُوْہُ کے الفاظ ہیں۔
حضرت عرفجہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تمہارے پاس آئے۔ تم ایک شخص پر متفق ہو اور وہ تمہارا عصا توڑنا چاہے یا تمہاری جماعت میں تفرقہ پیدا کرنا چاہے تو اسے قتل کردو۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دو خلفاء کی بیعت کی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کردو۔
حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب ایسے امیر ہوں گے تم جن میں اچھی باتیں بھی پاؤ گے اور بُری باتیں بھی پاؤ گے۔ جس نے اچھی بات مان لی وہ بری الذمہ ہے اور جس نے امیر کی بات کو ناپسند کیا وہ محفوظ رہا لیکن جو راضی ہو گیا اور اس نے پیروی کی۔۔۔ انہوں نے عرض کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم پر حاکم مقرر کیے جائیں گے جن میں تم اچھی باتیں پاؤ گے اور بُری باتیں بھی پاؤ گے۔ جس نے ناپسند کیا تو وہ بری الذمہ ہوا اور جس نے ناپسند کیا تو وہ محفوظ رہا۔ لیکن جو راضی ہوا اور جس نے پیروی کی۔۔۔ لوگوں نے عرض کیا کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں یعنی جس نے دل سے ناپسند کیا اور جس نے دل سے بُرا جانا۔ ایک روایت میں فَمَنْ اَنْکَرَ فَقَدْ بَرِیَٔ وَ مَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور ایک روایت میں وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَ تَابَعَ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت عوف بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہارے بہترین آئمہ وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔ وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں اور تم ان کے لئے دعا کرتے ہو اور تمہارے برے آئمہ وہ ہیں تم ان سے نفرت کرتے ہو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہیں تم ان پر لعنت ڈالتے ہو اور وہ تم پر لعنت ڈالتے ہیں عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! کیا ہم تلوار سے ان کا مقابلہ نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہارے اندر نماز قائم کریں جب تم اپنے حاکموں میں کوئی بری بات دیکھو تو اس کے عمل سے نفرت کرو، اطاعت سے اپنا ہاتھ نہ کھینچو۔
حضرت عوف بن مالکؓ اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارے بہترین امام وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں۔ تم ان کے لئے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہیں اور تمہارے بُرے آئمہ وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہیں تم ان پر لعنت ڈالتے ہو اور وہ تم پر لعنت ڈالتے ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا ہم اس صورت میں ان کا مقابلہ نہ کریں؟ آپؐ نے فرمایا نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں، نہیں جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں۔ غور سے سنو! وہ جس کا کوئی والی ہو اور وہ دیکھے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کی بات کرتا ہے تو اس بات کو ناپسند کرے جو وہ خدا کی نافرمانی کی بات کرتا ہے لیکن اپنا ہاتھ اطاعت سے ہرگز باہر نہ نکالے۔ ابن جابرؓ کہتے ہیں میں نے رُزیق سے جب اس نے مجھے یہ حدیث سنائی کہا کہ اے ابو المقدام! اللہ کی قسم کیا انہوں نے یہ حدیث تم سے بیان کی ہے یا تم نے مسلم بن قرظہ سے یہ روایت سنی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ میں نے عوفؓ سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا؟ راوی کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھے اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور کہا ہاں، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے مسلم بن قرظہ کو یقینا کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عوفؓ بن مالک کو کہتے ہوئے سنا تھا وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔