حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ .
ہمام بن منبّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیں اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جس بستی میں آؤ اور اس میں ٹھہرو تو تمہارا اس میں حصہ ہے اور وہ بستی جس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کی تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے باقی تمہارے لئے ہے۔
حضرت عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بنو نضیر کے اموال اس میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فئے کے طور پر عطا کئے تھے۔ جن پر مسلمانوں نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ وہ نبی ﷺ کی صوابدید پر تھے۔ آپؐ اپنے اہل کے لئے سال کا خرچ (ان میں سے) کرتے تھے اور جو باقی بچتا وہ اللہ کے راستہ میں تیاری کے لئے گھوڑوں اور اسلحہ پر خرچ فرماتے۔
زہری سے روایت ہے کہ مالک بن اوس نے انہیں بتایا وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے مجھے بلایا۔ میں ان کے پاس دن چڑھے آیا۔ وہ کہتے ہیں میں نے انہیں ان کے گھر تخت پر جس پر کوئی کپڑا نہ تھا چمڑے کے تکیے کا سہارا لئے بیٹھے دیکھا۔ انہوں نے مجھے کہا اے مال! تیری قوم کے بہت سے افراد تیزی سے میری طرف آئے تو میں نے انہیں کچھ مال دینے کا حکم دیا ہے تم وہ لے لو اور ان میں تقسیم کردو۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اگر آپ یہ حکم میرے علاوہ کسی اور کو دیتے! آپ نے فرمایا اے مال! وہ لے لو۔ وہ کہتے ہیں یرفا آیا اور اس نے کہا اے امیر المؤمنین! عثمانؓ اور عبد الرحمان بن عوفؓ اور زبیرؓ اور سعدؓ کے بارہ میں کیا ارشاد ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں تو انہیں اجازت دی گئی وہ اندر آئے وہ پھر آیا اور کہا عباسؓ اور علیؓ کے بارہ میں کیا ارشاد ہے۔ انہوں نے کہا ہاں۔ ان دونوں کو بھی اجازت دے دی۔ حضرت عباسؓ نے کہا اے امیر المؤمنین آپؓ میرے اور اس جھوٹے گناہگار دھوکہ باز اور خیانت کرنے والے کے درمیان فیصلہ کیجیے۔ ان لوگوں نے کہا ہاں اے امیر المؤمنین! ان کے درمیان فیصلہ کیجئے اور انہیں آرام پہنچایئے۔ مالک بن اوس کہتے ہیں میرا خیال ہے وہ اسی لئے ان سے پہلے آئے تھے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ٹھہرو میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارا ورثہ نہیں چلے گا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے؟ انہوں نے کہا ہاں پھر آپ عباسؓ اور علیؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارا ورثہ نہیں چلے گا اور جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے؟ ان دونوں نے کہا ہاں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ عزّوجل نے اپنے رسول ﷺ کے لئے ایک بات خاص کی تھی جو آپؐ کے علاوہ کسی کے لئے مختص نہیں ہے۔ آپؓ نے فرمایا جو مالِ فئے اللہ تعالیٰ نے اہل قریٰ میں سے اپنے رسولؐ کو دیا ہے وہ اللہ اور رسولؐ کے لئے ہے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نہیں جانتا کہ آپؓ نے اس سے پہلے کی آیت پڑھی یا نہیں۔ آپؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے اموال تمہارے درمیان تقسیم فرما دئیے۔ اللہ کی قسم آپؐ نے اپنے آپ کو تم لوگوں پر ترجیح نہیں دی اور نہ تمہیں چھوڑ کر وہ (مال) خود لیا یہانتک کہ یہ مال باقی رہ گیا۔ رسول اللہ ﷺ اس سے ایک سال کا خرچ لیتے تھے پھر جو بچ جاتا وہ اسلامی اموال کے طرز پر رکھتے۔ پھر فرمایا میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں کیا تم یہ جانتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں! پھر عباسؓ اور علیؓ کو بھی ویسے ہی قسم دی جیسے ان لوگوں کو دی تھی کیا تم یہ جانتے ہو؟ ان دونوں نے کہا ہاں! آپؓ نے فرمایا جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا میں رسول اللہ ﷺ کا ولی ہوں تو تم دونوں آئے۔ تم اپنے بھتیجے کا اور یہ اپنی بیوی کے لئے اس کے والد کی میراث طلب کرنے آئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ تم نے انہیں جھوٹا، گناہ گار، دھوکہ دینے والا، خائن ٹھہرایا اور اللہ جانتا ہے کہ وہ راست باز نیک ہدایت یافتہ حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ پھر ابو بکرؓ وفات پاگئے اور میں رسول اللہ
فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ
.
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے تو نبی ﷺ کی ازواج نے حضرت عثمانؓ بن عفان کو حضرت ابو بکرؓ کے پاس نبی ﷺ کی میراث سے حصہ طلب کرنے کے لئے بھیجنے کا ارادہ کیا۔ حضرت عائشہؓ نے ان سے کہا کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم - فِي هَذَا الْمَالِ . وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فِي ذَلِكَ - قَالَ - فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت فاطمہ بنت رسول ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اپنی میراث طلب کرنے کے لئے پیغام بھیجا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ سے اس میراث میں جو اللہ نے آپؐ فئے کے طور پر مدینہ اور فدک میں دی تھی اور جو خیبر کے خمس سے باقی بچ گیا تھا۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا۔ جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔ محمد ﷺ کی آل اس مال میں سے کھائے گی اور (حضرت ابو بکرؓ ) نے فرمایا میں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے صدقہ کو اس حال سے ذرہ بھی تبدیل نہیں کروں گا جس حال میں وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا اور میں اس بارہ میں وہی عمل کروں گا جو رسول اللہ ﷺ عمل فرماتے تھے پس حضرت ابو بکرؓ نے کچھ بھی حضرت فاطمہ ؓ کو دینے سے انکار کر دیا۔ حضرت فاطمہؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے اس وجہ سے ناراضگی محسوس کی۔ راوی کہتے ہیں وہ آپؓ سے ناراض رہیں اور انہوں نے آپؓ سے بات نہ کی یہاں تک کہ وفات پا گئیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ جب وہ فوت ہوئیں تو ان کے خاوند حضرت علیؓ بن ابی طالب نے انہیں رات کے وقت دفن کیا اور حضرت ابو بکرؓ کو اس کی اطلاع نہ کی اور حضرت علیؓ نے ان کی نماز (جنازہ) پڑھی۔ حضرت فاطمہؓ کی زندگی میں لوگوں کی توجہ حضرت علیؓ کی جانب تھی جب وہ وفات پا گئیں تو حضرت علیؓ لوگوں کے نزدیک اجنبی ہوگئے انہوں نے حضرت ابو بکرؓ سے مصالحت اور بیعت کا موقعہ تلاش کیا اور انہوں نے ان مہینوں میں بیعت نہیں کی تھی۔ انہوں نے حضرت ابو بکرؓ کو بلا بھیجا کہ آپ میرے پاس آئیں اور آپ کے ساتھ اور کوئی نہ آئے۔ وہ حضرت عمر ؓ بن خطاب کے آنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا اللہ کی قسم! آپ ان کے پاس اکیلے نہ جائیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا وہ میرے ساتھ کیا کریں گے اللہ کی قسم! میں تو ان کے پاس جاؤں گا۔ پھر حضرت ابو بکرؓ ان کے پاس گئے۔ حضرت علی بن ابی طالبؓ نے تشہد پڑھا پھر کہا اے ابو بکر ؓ! ہم نے آپ کی فضیلت اور جو (مقام) اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے اسے ہم نے پہچانا ہے اور جو خیر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے ہم اس پر حسد نہیں کرتے لیکن آپ نے یہ کام اکیلے اپنے طور پر کر لیا ہے اور ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے قرابت کی وجہ سے ہمارا کوئی حق ہے۔ وہ حضرت ابو بکرؓ سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابو بکرؓ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ پھر جب حضرت ابو بکرؓ نے کلام کیا تو آپؓ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے رسول اللہ ﷺ کی قرابت مجھے اپنی قرابت سے زیادہ محبوب ہے اور وہ اختلاف رائے جو میرے اور تمہارے درمیان ان اموال کے بارہ میں پیدا ہوا تو اس معاملہ میں میں نے حق کی ادائیگی میں کوئی کمی نہیں کی اور میں نے کوئی بات جسے میں نے رسول اللہ
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ . فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ . قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ إِنِّي أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ حضرت فاطمہؓ بنت رسول ﷺ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ سے رسول اللہ ﷺ کے ترکہ میں سے ان کے لئے وہ میراث تقسیم کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو بطور فئے عطا فرمایا تھا ان سے حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارا کوئی وارث نہیں ہوگا اور جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔ راوی کہتے ہیں وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں۔ حضرت فاطمہؓ حضرت ابو بکرؓ سے اس میں سے جو رسول اللہ ﷺ نے خیبر اور فدک اور مدینہ کے صدقہ میں سے چھوڑا اپنا حصہ مانگتی تھیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے ان سے اس کا انکار کیا اور فرمایا میں اس میں سے کچھ بھی چھوڑنے والا نہیں جو رسول اللہ ﷺ اس میں کیا کرتے تھے۔ میں بھی اس میں وہی کروں گا میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں اس معاملہ میں کچھ چھوڑوں تو کہیں کج نہ ہو جاؤں جہاں تک آپؐ کے مدینہ والے صدقہ کا تعلق ہے تو وہ حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ کے سپرد کر دیئے تھے اور حضرت علیؓ ان پر اس صدقہ میں غالب آگئے اور خیبر اور فدک کو حضرت عمرؓ نے اپنے انتظام میں رکھا اور فرمایا یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے صدقات تھے۔ یہ دونوں آپؐ کے ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے اور آپؐ کی وقتًا فوقتًا پیش آنے والی ضروریات کے لئے تھے اور اب ان دونوں کا معاملہ اس کے سپرد ہے جو صاحبِ امر ہے۔ راوی کہتے ہیں پس یہ دونوں آج تک اسی طرح ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے وارث ایک دینار بھی تقسیم نہیں کریں گے۔ مَیں اپنی بیویوں کے خرچ اور اپنے کارکن کی اجرت کے بعد جو چھوڑ جاؤں وہ صدقہ ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے مالِ غنیمت میں سے دو حصے گھوڑے اور ایک حصہ آدمی کے لئے تقسیم فرمایا۔ ایک اور روایت میں فِی النَّفَلِ کے الفاظ نہیں ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے مجھ سے بیان کیا بدر والے دن رسول اللہ ﷺ نے مشرکوں کو دیکھا وہ ایک ہزار تھے اور آپؐ کے صحابہؓ تین سو اُنیس تھے۔ اللہ کے نبی ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کیا پھر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور اپنے رب کو بلند آواز سے پکارتے رہے اے اللہ! جو تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے پورا فرما اے اللہ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ مجھے عطا فرما۔ اے اللہ! اگر تو نے مسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک کردیا تو زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ قبلہ کی طرف منہ کئے دونوں ہاتھ پھیلائے آپؐ مسلسل اپنے رب کو بلند آواز سے پکارتے رہے یہانتک کہ آپؐ کی چادر آپؐ کے کندھے سے گر گئی۔ حضرت ابو بکرؓ آپ کے پاس آئے اور آپ کی چادر اٹھائی اور آپؐ کے کندھوں پر ڈال دی پھر آپؓ رسول اللہ ﷺ کو پیچھے سے چمٹ گئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ! آپؐ کی اپنے رب کے حضور الحاح سے بھری ہوئی دعا آپؐ کے لئے کافی ہے۔ وہ آپؐ سے کئے گئے وعدے ضرور پورے فرمائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (یاد کرو) جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے اس نے تمہاری التجا کو قبول کر لیا (اس وعدہ کے ساتھ) کہ میں ضرور ایک ہزار قطار در قطار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا۔ پس اللہ نے ملائکہ کے ذریعہ آپؐ کی مدد فرمائی۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عباسؓ نے بتایا کہ اس اثناء میں کہ اس دن مسلمانوں میں سے ایک آدمی مشرکوں کے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا اور وہ (مشرک) اس کے آگے تھا کہ اس نے اوپر سے کوڑا لگنے کی اور گھوڑسوار کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہا تھا حیزوم آگے بڑھو! اس نے اپنے آگے مشرک کی طرف دیکھا۔ وہ (مشرک) پشت کے بل گرا۔ اس نے اس کو دیکھا تو اس کی ناک پر زخم تھا اور اس کا چہرہ کوڑے کی مار سے پھٹا ہوا تھا اور اس وجہ سے اس پر نیل پڑ گیا تھا۔ وہ انصاری آیا اور اس نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی۔ آپؐ نے فرمایا تو نے درست کہا۔ یہ تیسرے آسمان سے (اترنے والی) مدد تھی۔ انہوں نے اس دن ستّر کو قتل کیا اور ستّر کو قیدی بنایا۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابن عباسؓ نے کہا جب انہوں نے قیدیوں کو پکڑا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ سے فرمایا ان قیدیوں کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ! وہ ہمارے چچا زاد اور رشتہ دار ہیں۔ میرا خیال ہے آپؐ اُن سے فدیہ لے لیں۔ وہ ہمارے لئے ان کفار کے مقابلہ میں قوت کا باعث ہوگا۔ اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اسلام کی طرف رہنمائی فرمائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب! تمہاری کیا رائے ہے؟ میں نے کہا نہیں، یا رسولؐ اللہ! اللہ کی قسم میری وہ رائے نہیں ہے جو ابو بکرؓ کی رائے ہے۔ بلکہ میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے سپرد کر دیں۔ ہم ان کی گردنیں مار دیں اور علیؓ کے سپرد عقیل کریں کہ وہ اس کی گردن مارے اور میرے سپرد فلاں کو کریں جو نسبًا حضرت عمرؓ کا رشتہ دار تھا تو میں اس کی گردن مار دوں کیونکہ یہ سب کفار کے لیڈر اور ان کے سردار ہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکرؓ کی بات کو ترجیح دی۔ جب اگلا دن ہوا تو میں آیا اور میری بات کو ترجیح نہ دی، اگلے دن میں آیا تو رسول اللہ
اور حضرت ابو بکرؓ کا ولی ہوں تو تم نے مجھے جھوٹا گناہگار، دھوکہ دینے والا، خائن سمجھا اور اللہ جانتا ہے کہ میں راست باز، نیک، ہدایت یافتہ اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں۔ میں اس (مال) کا بھی ولی رہا پھر تم اور یہ میرے پاس آئے تم دونوں اکٹھے تھے اور تمہارا معاملہ ایک تھا۔ تم دونوں نے کہا وہ (مال) ہمیں دے دیں۔ میں نے کہا اگر تم یہی چاہتے ہو تو میں تم سے اللہ تعالیٰ کا یہ عہد لے کر کہ تم دونوں اس مال کے معاملہ میں وہی کرو گے جو رسول اللہ
ﷺ
کیا کرتے تھے۔ تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ تم دونوں نے یہ (مال) لے لیا۔ آپؓ نے پوچھا کیا معاملہ اسی طرح ہی ہے؟ ان دونوں نے کہا ہاں۔ آپؓ نے فرمایا (اب) پھر تم دونوں میرے پاس آئے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں، نہیں اللہ کی قسم میں اس کے علاوہ تمہارے درمیان قیامت تک کوئی اور فیصلہ نہیں کروں گا۔ اگر تم دونوں یہ نہیں کرسکتے تو وہ (مال) مجھے واپس کردو۔ ایک اور روایت میں (
کو کرتے دیکھا تھا ترک نہیں کیا بلکہ میں نے ویسے ہی کیا۔ حضرت علیؓ نے حضرت ابو بکرؓ سے کہا بیعت کے لئے شام کا وعدہ ہے۔ جب حضرت ابو بکرؓ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو مِنبر پر چڑھے۔ آپؓ نے تشہد پڑھا اور علیؓ کا معاملہ اور ان کے بیعت سے پیچھے رہ جانے اور ان کے اس عذر کو جو انہوں نے پیش کیا تھا بیان کیا۔ پھر آپؓ نے استغفار کیا اور حضرت علیؓ بن ابی طالب نے تشہد پڑھا اور حضرت ابو بکرؓ کے حق کی عظمت بیان کی اور یہ کہ ان کا حضرت ابو بکرؓ کی بیعت نہ کرنا کسی حسد اور اس فضیلت سے انکار کی وجہ سے نہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو دی ہے۔ لیکن ہم سمجھتے تھے کہ معاملہ میں مشورہ لئے بغیر انفرادی طور پر فیصلہ کر دیا گیا ہے تو ہم نے اپنے دل میں کچھ محسوس کیا۔ مسلمان اس بات سے خوش ہوگئے اور انہوں نے کہا آپؓ نے درست بات کہی اور جب انہوں نے امر معروف اختیار کیا تو لوگ حضرت علیؓ سے تعلق رکھنے لگے۔ ایک اور روایت میں ہے حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہؓ اور حضرت عباسؓ، حضرت ابوبکرؓ کے پاس رسول اللہ
ﷺ
کی میراث مانگنے آئے اور اس وقت وہ دونوں فدک میں آپؐ کی زمین اور خیبر میں آپؐ کا حصہ طلب کر رہے تھے۔ ان دونوں کو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ
ﷺ
سے سنا۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس میں یہ بھی ہے کہ ’’پھر حضرت علیؓ کھڑے ہوئے اور حضرت ابو بکرؓ کے حق کی عظمت بیان کی اور آپؓ کی فضیلت اور مسابقت کا ذکر کیا۔ پھر حضرت ابو بکرؓ کی طرف گئے اور آپؓ کی بیعت کی تو لوگ حضرت علیؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا
اَصَبْتَ وَاَحْسَنْت
کہ آپ نے درست کیا اور خوب کیا اور لوگ حضرت علیؓ کے قریب ہوئے جب وہ امر معروف کے قریب ہوئے۔
اور حضرت ابو بکرؓ بیٹھے رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے بتائیے! کس چیز نے آپؐ کو اور آپؐ کے ساتھی کو رُلایا ہے؟ اگر مجھے رونا آیا تو میں بھی روؤں گا وگرنہ میں آپ دونوں کے رونے کی طرح رونے کی صورت بناؤں گا۔ رسول اللہ
ﷺ
نے فرمایا میرے رونے کی وجہ یہ ہے جو تمہارے ساتھیوں نے میرے سامنے ان سے فدیہ لینے کی تجویز پیش کی تھی۔ میرے سامنے ان کا عذاب اس درخت سے زیادہ قریب پیش کیا گیا ہے_جو درخت اللہ کے نبی
ﷺ
کے قریب ہی تھا_ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ترجمہ: کسی نبی کے لئے جائز نہیں کہ زمین میں خونریز جنگ کے بغیر قیدی بنائے۔ آیت کے اس حصہ تک ’’پس جو مالِ غنیمت تم حاصل کرو، اس میں سے حلال اور پاکیزہ کھاؤ۔‘‘ پس اللہ نے اُن کے لئے غنیمتیں جائز کر دیں۔