بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ کی نماز کے اختتام کا تکبیر سے ہی پتہ لگتا تھا۔ عمرو کہتے ہیں کہ ابو معبد سے میں نے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ میں نے تم سے یہ روایت بیان نہیں کی۔ عمرو کہتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس سے قبل مجھے یہ روایت بتائی تھی۔
حضرت ابن عباسؓ نے بتایا کہ نبیﷺ کے زمانہ میں جب لوگ فرض نماز سے فارغ ہوتے تو بلند آواز سے ذکرِ الٰہی کرتے۔ نیز راوی نے کہا کہ حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ جب میں یہ (آواز) سُنتا تو جان لیتا کہ لوگ (نماز سے) فارغ ہو گئے ہیں ۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ ایک یہودی عورت میرے پاس تھی اور کہہ رہی تھی کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ قبروں میں آپ لوگوں کی آزمائش ہو گی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ فکر مند ہوئے اور فرمایا کہ آزمائش تو صرف یہود کی ہو گی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ ہم پر کئی راتیں گزریں پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تمہیں پتہ ہے کہ میرے پر وحی کی گئی ہے قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہﷺ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے بعد قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ یہود مدینہ کی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ اہلِ قبور کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور میں نے پسند نہیں کیا کہ ان دونوں کی تصدیق کروں۔ چنانچہ وہ دونوں چلی گئیں تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! مدینہ کے یہود میں سے دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں۔ ان کا خیال تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ان دونوں نے سچ کہا یقینا انہیں ایسا عذاب دیا جاتا ہے جسے جانور بھی سنتے ہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں اس کے بعد میں نے کوئی نماز نہیں دیکھی جس میں آپؐ قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگتے ہوں۔ ابو الاحوص کی حضرت عائشہؓ سے یہی روایت ہے اس میں انہوں نے فرمایا کہ آپؐ نے اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی جس میں میں نے آپؐ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے نہ سنا۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو نماز میں دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی تشہد میں بیٹھے تو اسے چاہئے کہ یہ کہتے ہوئے چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے۔ اے اللہ ! میں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی و موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زوجہ (مطہرہ) حضرت عائشہؓ نے ان کو بتایا کہ نبی ﷺ نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، میں تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی و موت کے فتنہ سے۔ اے اللہ! میں گناہ اور مالی بوجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ کسی کہنے والے نے آپؐ سے کہا یا رسولؐ اللہ! کیا بات ہے، کتنا ہی زیادہ آپؐ مالی بوجھ سے پناہ مانگتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ جب آدمی قرض کے بوجھ تلے دب جائے تو بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو اسے چاہئے کہ اللہ سے چار چیزوں کی پناہ مانگے۔ جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی و موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے شر سے۔ `اوزاعی نے اسی سند سے یہی روایت بیان کی لیکن انہوں نے تشہد کے ساتھ الآخر کا لفظ نہیں بولا۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبیﷺ نے کہا اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے، آگ کے عذاب سے، زندگی و موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔