بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو، زندگی و موت کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ قبر کے عذاب سے، جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنہ سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ یہ دعا سکھایا کرتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے۔ آپؐ فرماتے کہو اے اللہ ! ہم جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتے ہیں اور میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور زندگی و موت کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ مسلم بن حجاج کہتے ہیں کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ طاؤس نے اپنے بیٹے سے پوچھا کیا تم نے اپنی نماز میں یہ دعا کی تھی اس نے کہا نہیں۔ طاؤس نے کہا نماز دوبارہ پڑھو۔
حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے نیز کہتے اے اللہ! تو سلام ہے اور سلامتی کا منبع ہے۔ اے جلال اور عزت والے! تو بہت برکت والا ہے۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے پوچھا کہ استغفار کیسے کرتے؟ انہوں نے کہا تم کہتے ہو استغفراللہ استغفراللہ۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب سلام پھیرتے تو صرف اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر میں یہ کہتے اے اللہ! تو سلام ہے اور سلامتی تجھی سے ملتی ہے اے جلال اور عزت والے! تو بہت برکت والا ہے۔ ابن نمیر کی روایت میں یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے آزاد کردہ غلام ورّاد سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے امیر معاویہؓ کی طرف خط لکھا کہ جب رسول اللہﷺ نماز سے فارغ ہوتے اور سلام پھیرتے تو کہتے لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اسی کی ہے تمام تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جو تو عطاء فرمائے وہ کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے، وہ کوئی عطاء نہیں کر سکتا اور کسی شان والے کو اس کی شان تیرے مقابلہ میں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ ابو بکر اور ابو کریب دونوں کی روایتوں میں ہے (مغیرہ کے کاتب وراد نے کہا) کہ مجھے مغیرہ نے لکھوایا اور میں نے وہ (خط) معاویہ کو لکھا۔ ابن جریج سے روایت ہے کہ عبدۃ بن ابی لبابہ نے مجھے بتایا کہ حضرت مغیرہؓ بن شعبہ کے غلام ورّاد نے کہا کہ حضرت مغیرہؓ بن شعبہ نے امیر معاویہؓ کی طرف وہ خط لکھا تھا۔ (راوی کہتے ہیں ) وہ خط ورّاد نے ہی (مغیرہؓ کی طرف سے) لکھا تھا کہ رسول اللہﷺ نے جب سلام پھیرا تو میں نے آپؐ کو فرماتے ہوئے سنا۔ آگے ان دونوں (راویوں) کی روایتوں کی طرح بیان کیا سوائے اس کے کہ انہوں نے آپؐ کے قول وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے کاتب کہتے ہیں امیر معاویہؓ نے حضرت مغیرہؓ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی بات لکھیں جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنی ہو۔ وہ کہتے ہیں اس پر انہوں نے انہیں لکھا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو نماز پورا کرنے کے بعد یہ دعا کرتے ہوئے سنا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں بادشاہت اسی کی ہے تمام تعریف بھی اسی کے لئے ہے اور وہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جو تو عطاء فرمائے وہ کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے، وہ کوئی عطاء نہیں کرسکتا اور کسی شان والے کو اس کی شان تیرے مقابلہ میں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
ابوالزبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن زبیرؓ ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو عرض کرتے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اسی کی ہے تمام تعریف اسی کے لئے ہے اور وہ ہر ایک چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا نہ تو کوئی (گناہ سے بچانے کی) طاقت اور نہ نیکی (عطا کرنے کی) قوّت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ ہر نعمت ہر فضل اور ہر اچھی تعریف اسی کی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے خواہ کافر ناپسند ہی کریں۔ نیز انہوں نے کہا رسول اللہﷺ ان کلمات کے ساتھ ہر نماز کے بعد ذِکر الٰہی فرماتے۔ (عبداللہ بن زبیرؓ کے خاندان) کے آزاد کردہ غلام ابو الزبیر سے ایک اور روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ ہر نماز کے بعد لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہتے تھے۔ ابن نمیر کی روایت کے آخر میں ہے کہ ابن زبیر کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہر نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ ذکرِ الٰہی کیا کرتے تھے۔ ابوالزبیر سے ایک روایت میں ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو اس منبر پر خطاب کرتے ہوئے سنا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نماز یا نمازوں کے بعد جب سلام پھیرتے تو کہتے۔۔۔۔ اور پھر انہوں نے ہشام بن عروہ جیسی روایت بیان کی۔ ابوالزبیر مکّی نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبداللہؓ بن زبیر سے سنا۔ وہ ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو کہتے۔۔۔۔ (اوپر کی) دو راویوں کی روایت) کے مطابق اور ہر راوی نے روایت کے آخر میں کہا کہ وہ (عبداللہ بن زبیرؓ) اس بات کو رسول اللہﷺ سے ذکر فرماتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ غریب مہاجر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مالدار لوگ بلند درجات اور دائمی نعمتیں لے گئے۔ آپؐ نے فرمایا: وہ کیسے؟ انہوں نے کہا کہ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم روزے رکھتے ہیں مگر وہ صدقہ دیتے ہیں ہم صدقہ نہیں دیتے اور وہ غلام آزاد کرتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں کرتے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ سکھاؤں جس کے ذریعہ تم اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پا لوگے اور اپنے سے بعد والوں سے آگے رہو گے اور کوئی تم سے آگے نہیں بڑھ سکے گا سوائے اس کے کہ وہ ایسا ہی کرے جیسا تم کرو۔ انہوں نے عرض کیا ضرور یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا ہر نماز کے بعد تم تینتیس تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو گے اللہ اکبر کہو گے اور الحمدللہ کہو گے۔ (راوی) ابو صالح کہتے ہیں کہ غریب مہاجر پھر رسول اللہﷺ کی خدمت میں دوبارہ آئے اور عرض کیا کہ ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی سن لیا ہے۔ وہ بھی ویسا ہی کرنے لگ گئے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ ابن عجلان سے روایت ہے کہ سُمَیّ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر والوں میں سے کسی سے یہ روایت بیان کی تو اس نے کہا کہ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم تینتیس دفعہ سبحان اللہ کہو اور تینتیس دفعہ الحمدللہ کہو اور تینتیس دفعہ اللہ اکبر کہو۔ اس پر میں ابو صالح کے پاس واپس گیا اور ان سے یہ کہا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمدللہ۔ اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمدللہ۔ یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک کی میزان تینتیس تک پہنچ جائے۔ حضرت ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! دولت مند بلند درجات اور دائمی نعمتیں لے گئے۔ آگے لیث سے قتیبہ کی روایت کے مطابق روایت ہے مگر اس میں راوی نے ابو صالح کا قول شامل کر دیا ہے کہ غریب مہاجرین دوبارہ آئے (آخر روایت تک) اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ سہیل نے کہا کہ گیارہ گیارہ یہ سب مل کر تینتیس ہوتے ہیں۔
حضرت کعبؓ بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کچھ مُعَقِّبَاتٌ (محافظ کلمات) ہیں جنہیں ہر فرض نماز کے بعد کہنے یا کرنے والا کبھی نقصان نہیں اٹھاتا۔ تینتیس دفعہ تسبیح، تینتیس دفعہ تحمید اور چونتیس دفعہ تکبیر۔