بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
عبداللہ بن یحیٰ بن ابو کثیر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو کہتے ہوئے سنا کہ جسمانی آرام کے ساتھ علم پر دسترس حاصل نہیں ہوتی۔
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے کسی آدمی نے نماز کے وقت کے بارہ میں پوچھا آپؐ نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ یہ دو دن نماز پڑھو۔ جب سورج کا زوال ہوا تو آپؐ نے بلالؓ کو فرمایا۔ انہوں نے اذان دی۔ پھر آپؐ نے انہیں فرمایا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی۔ پھر آپؐ نے ان سے فرمایا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج بلند اور صاف روشن تھا۔ پھر آپؐ نے ارشاد فرمایا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی جبکہ سورج غائب ہو چکا تھا۔ پھر آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایا تو انہوں نے عشاء کے لئے اقامت کہی جبکہ شفق غائب ہو گئی تھی۔ پھر آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایا تو انہوں نے فجر کے لئے اقامت کہی۔ پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایا تو انہوں نے ظہر کو ٹھنڈا کیا، اسے ٹھنڈا کیا اور خوب ٹھنڈا کیا اور جب عصر پڑھی تو سورج بلند تھا لیکن (پہلے روز سے) کچھ تاخیر کر کے پڑھی اور مغرب شفق کے غائب ہونے سے پہلے پڑھی اور جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا تو عشاء پڑھی اور خوب روشنی کر کے فجر پڑھی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ وہ نماز کے وقت کے بارہ میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس پر اس آدمی نے عرض کیا میں ہوں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا کہ تمہاری نمازوں کے اوقات جو تم نے دیکھا ان کے درمیان ہیں۔
سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور اُس نے آپؐ سے نماز کے اوقات کے بارہ میں پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہو۔ چنانچہ آپؐ نے بلالؓ کو فرمایا تو انہوں نے جھٹپٹے کے وقت فجر کی اذان دی۔ چنانچہ طلوع فجر کے وقت آپؐ نے فجر پڑھائی۔ پھر آپؐ نے ظہر کے لئے ارشاد فرمایا۔ جب آسمان کے درمیان سے سورج کا زوال ہو گیا پھر جبکہ سورج بلند تھا تو آپؐ نے انہیں عصر کے لئے ارشاد فرمایا۔ پھر جب سورج غروب ہو گیا تو آپؐ نے مغرب کے لئے اُنہیں ارشاد فرمایا۔ پھر جب شفق ختم ہوئی تو آپؐ نے عشاء کے لئے انہیں ارشاد فرمایا۔ اگلے دن ارشاد فرمایا اور صبح خوب روشن کر کے پڑھی۔ پھر آپؐ نے ظہر کے لئے ارشاد فرمایا اور ٹھنڈا کر کے پڑھی۔ پھر جب دھوپ سفید اور صاف تھی اور اس میں زردی نہیں ملی تھی تو آپؐ نے اُنہیں عصر کے لئے ارشاد فرمایا پھر شفق ختم ہونے سے قبل مغرب کے لئے ارشاد فرمایا۔ پھر جب رات کا ایک تہائی یا کچھ حصہ گزر جانے پر {اس بارہ میں حرمی کو شک ہے} آپؐ نے انہیں عشاء کے لئے ارشاد فرمایا پھر جب صبح ہوئی تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ سائل کہاں ہے؟ جو تم نے دیکھا ان کے درمیان (نماز کا) وقت ہے۔
ابو بکر بن ابو موسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک سائل آپؐ سے نمازوں کے اوقات دریافت کرنے کے لئے آیا تو آپؐ نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ نے فجر پڑھائی جب فجر طلوع ہوئی لیکن اس وقت لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں پا رہے تھے۔ پھر آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایا اور سورج کے زوال کے وقت ظہر کی نماز پڑھائی۔ کہنے والا کہتا کہ دن کا نصف حصہ گزر چکا ہے اور آپؐ ان میں سے سب سے بہتر جانتے تھے۔ پھر آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایا جبکہ ابھی سورج بلند تھا۔ عصر کی نماز پڑھائی۔ جب سورج ڈوب گیا آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایا اور مغرب کی نماز پڑھائی۔ پھر شفق ختم ہونے پر آپؐ نے انہیں ارشاد فرمایا اور عشاء کی نماز پڑھائی۔ پھر دوسرے دن آپؐ نے فجر کی نماز تاخیر سے ادا فرمائی یہاں تک کہ آپؐ اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا کہ سورج نکل آیا، یا نکلنے کے قریب ہے۔ پھر دوسرے دن آپؐ نے ظہر تاخیر سے ادا کی یہاں تک کہ وقت گزشتہ دن کے عصر کے قریب ہوگیا۔ پھر آپؐ نے عصر بھی تاخیر سے ادا فرمائی یہاں تک کہ جب اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا کہ سورج سرخ ہو گیا ہے۔ پھر آپؐ نے مغرب تاخیر سے ادا فرمائی یہاں تک کہ شفق کے غائب ہونے کا وقت ہوگیا۔ پھر عشاء تاخیر سے ادا کی یہاں تک کہ رات کی پہلی تہائی ہو گئی۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپؐ نے سوال کرنے والے کو بلایا اور فرمایا کہ (نماز کے) اوقات ان دونوں (اوقات) کے درمیان ہیں۔ بدر بن عثمان، ابو بکر بن ابو موسیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے سنا کہ ان کے والد نے بتایا کہ ایک سائل نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے نماز کے اوقات کے بارہ میں سوال کیا۔ پھر ابن نمیر جیسی روایت بیان کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ آپؐ نے دوسرے دن شفق غائب ہونے سے قبل مغرب کی نماز پڑھائی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب شدید گرمی ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت بھی جہنم کی لپٹ سے ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جب گرم دن ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت پر پڑھو کیونکہ گرمی کی شدّت بھی جہنم کی لپٹ سے ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ گرمی بھی جہنم کی لپٹ سے ہے اس لئے نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔
ہمام بن مُنَبِّہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ احادیث ہمیں حضرت ابو ہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے روایت کرکے بتائیں۔ انہوں نے احادیث بیان کیں جن میں ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: گرمی سے بچنے کے لئے نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدّت جہنم کی لپٹ سے ہے۔
حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے مؤذن نے ظہر کے وقت اذان دی تو نبیﷺ نے فرمایا کہ ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔ ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔ یا آپؐ نے فرمایا: انتظار کر لو، انتظار کر لو۔ نیز فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے۔ پس جب گرمی شدید ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔ حضرت ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ یہا ں تک کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آگ نے اپنے رب کے حضور شکایت کی اور کہا کہ اے میرے رب! میرے ایک حصّہ نے دوسرے کو کھا لیا ہے تو اُس نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی۔ ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔ یہ وہ ہے جو تم گرمی میں سے سب سے زیادہ شدید پاتے ہو اور سردی میں جو تم سب سے زیادہ شدت محسوس کرتے ہو۔