بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے سورج غروب ہونے سے قبل عصر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پالی اور جس نے سورج طلوع ہونے سے قبل فجر کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پالی۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے عصر کی نماز میں کچھ تاخیر کی اس پر عروہ نے ان سے کہا کہ جبریل اترے اور رسول اللہ ﷺ کے امام کے طور پر نماز پڑھی۔ تب حضرت عمرؒ (بن عبدالعزیز) نے ان سے کہا کہ اے عروہ ! پتہ ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا میں نے بشیر بن ابو مسعود کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے ابو مسعود کو کہتے سنا۔ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جبریل اترے اور مجھے نماز پڑھائی۔ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کا حساب کر رہے تھے۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ عمرؒ بن عبدالعزیز نے ایک دن نماز میں کچھ تاخیر کی تو عروہؓ بن زبیر ان کے پاس گئے اور ان کو بتایا کہ ایک روز حضرت مغیرہؓ بن شعبہ نے نماز میں تاخیر کی جبکہ وہ کوفہ میں تھے۔ ان کے پاس حضرت ابو مسعودؓ انصاری گئے اور کہا اے مغیرہؓ! کیا بات ہے؟ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ جبریل آئے۔ انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہﷺ نے بھی نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہﷺ نے بھی نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہﷺ نے بھی نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہﷺ نے بھی نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہﷺ نے بھی نماز پڑھی۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے۔ اس پر حضرت عمرؒ (بن عبدالعزیز) نے عروہ سے کہا دیکھو عروہ! یہ کیا بات کر رہے ہو؟ کیا جبریل نے رسول اللہﷺ کے لئے نماز کا وقت مقرر کیا تھا؟ عروہ نے کہا کہ اسی طرح بشیر بن ابو مسعود اپنے والد سے روایت کرتے تھے۔ عروہ کہتے ہیں کہ مجھے نبیﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ قبل اس کے کہ سورج کی روشنی آپؐ کے حجرہ (کی دیوار) پر چڑھتی آپؐ عصر کی نماز پڑھ لیتے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے اس وقت سورج کی دھوپ میرے حجرے میں روشن ہوتی تھی اور ابھی سایہ نہ آیا ہوتا۔ راوی ابوبکر نے بتایا ابھی سایہ (دیوار پر) نہ چڑھا ہوا ہوتا۔
عروہ بن زبیر نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو سورج کی روشنی ان کے حجرہ میں ہوتی تھی۔ ان کے حجرہ میں ابھی سایہ (دیوار پر) چڑھا نہیں ہوتا تھا۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ عصر کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے تھے اور دھوپ میرے حجرہ میں پڑ رہی ہوتی تھی۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ جب تم فجر کی نماز پڑھو تو اس کا وقت سورج کا پہلا کنارہ نکلنے تک ہے۔ پھر جب تم ظہر پڑھو تو اس کا وقت عصر کے ہونے تک ہے۔ جب تم عصر پڑھو تو اس کا وقت دھوپ کے زرد ہو جانے تک ہے۔ پھر جب تم مغرب پڑھو تو اس کا وقت شفق کے غائب ہونے تک ہے۔ پھر جب تم عشاء پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ظہر کا وقت عصر تک ہے اور عصر کا وقت سورج زرد ہونے تک ہے اور مغرب کا وقت شفق کی تیزی ختم ہونے تک ہے اور عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے اور فجر کا وقت جب تک سورج طلوع نہ ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ظہر کا وقت جب سورج کا زوال ہو اور (پھر) آدمی کا سایہ اس کی قامت کے برابر ہو جائے اور عصر کا وقت نہ آجائے، اور عصر کا وقت دھوپ کے زرد ہو جانے تک ہے اور نماز مغرب کا وقت شفق کے غائب ہونے تک ہے اور نماز عشاء کا وقت درمیانی رات کے نصف رات تک ہے اور صبح کی نماز کا وقت فجر کے طلوع سے لے کر طلوع آفتاب تک ہے۔ پس جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمروؓ بن العاص سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے نمازوں کے اوقات کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ فجر کی نماز کا وقت سورج کے پہلے کنارہ کے طلوع ہونے تک ہے اور نماز ظہر کا وقت آسمان کے وسط سے سورج کے زوال سے جب تک عصر نہ آئے، اور نماز عصر کا وقت سورج کے زرد ہوجانے اور اس کا پہلا کنارہ ڈوبنے تک ہے۔ مغرب کی نماز کا وقت سورج ڈوبنے سے شفق غائب ہونے تک ہے اور عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔