بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 297 hadith
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا رات کا کھانا چن دیا جائے اور نماز کھڑی ہو جائے تو کھانے سے ابتداء کرو اور ہر گز کوئی جلدی نہ کرے یہانتک کہ اس سے فارغ ہو جائے۔
ابنِ ابی عتیق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مَیں اور قاسم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس باتیں کر رہے تھے۔ اور قاسم کلام کرتے وقت بہت غلطی کرتے تھے اور وہ ایک ام ولد کے بیٹے تھے۔ حضرت عائشہؓ نے ان سے کہا کہ تمہیں کیا ہوا ہے کہ اس طرح بات نہیں کر پاتے جس طرح میرا یہ بھتیجا بات کرتا ہے۔ ہاں البتہ مجھے پتہ ہے کہ یہ (کمزوری) تمہیں کہاں سے ملی ہے۔ اس (میرے بھتیجے کی) تربیت اس کی ماں نے کی ہے اور تمہاری تربیت تمہاری ماں نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پر قاسم کو بہت غصّہ آیا اور حضرت عائشہؓ سے اس کو رنج ہوا مگر اس نے اسے مخفی رکھا۔ جب اُس نے دیکھا کہ حضرت عائشہؓ کے لئے کھانا لایا گیا ہے وہ کھڑا ہوگیا۔ آپؓ (حضرت عائشہؓ) نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ مَیں نماز پڑھنے جا رہا ہوں۔ آپؓ نے کہا بے وفا بیٹھ جاؤ۔ اس نے کہا میں نماز پڑھنے لگا ہوں۔ حضرت عائشہؓ نے کہا کہ بیٹھ جاؤ اے فلاں! مَیں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کھانے کی موجودگی میں نماز نہیں ہے۔ اور نہ (اس وقت) جب دو ناپاک چیزیں اسے روک رہی ہوں۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے غزوئہ خیبر کے موقعہ پر فرمایا کہ جو اِس پودہ یعنی لہسن سے کھائے تو وہ ہرگز مسجدوں میں نہ آئے۔ زہیر نے کسی غزوہ کا ذکر کیا ہے لیکن خیبر کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو اس ترکاری میں سے کھائے تو وہ ہرگز ہماری مساجد میں نہ آئے یہانتک کہ بو ختم ہوجائے۔
عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت انسؓ سے لہسن کے بارہ میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اس پودے سے کھائے تو نہ تو وہ ہمارے قریب آئے اور نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو اس پودہ سے کھائے تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور لہسن کی بو سے ہمیں تکلیف نہ دے۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے پیاز اور گندنا کے کھانے سے منع فرمایا جب اس کی ضرورت ہم پر غالب آگئی اور ہم نے اس میں سے کھالیا تو آپؐ نے فرمایا: جو اس بدبودار پودہ میں سے کھائے تو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں اس سے فرشتے بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں۔
ابنِ شہاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے بتایا کہ حضرت جابرؓ بن عبداللہؓ نے کہا اور حرملہ کی روایت میں ہے کہ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا فرمایا ہماری مسجد سے الگ رہے اور اپنے گھر میں بیٹھے اور یہ کہ آپؐ کی خدمت میں ایک ہنڈیا پیش کی گئی جس میں کچھ سبزی ترکاریاں تھیں۔ آپؐ نے ان سے بو محسوس کی تو آپؐ نے استفسار فرمایا۔ آپؐ کو بتایا گیا کہ اس میں کونسی ترکاریاں ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ ان کو آپؐ کے ایک صحابیؓ کے قریب کر دو۔ آپؐ نے دیکھا کہ اس (صحابیؓ) نے اس کا کھانا نا پسند کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ کھالو، یقینا جس سے میں رازو نیاز کرتا ہوں اس سے تم راز و نیاز نہیں کرتے۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو اس ترکاری یعنی لہسن میں سے کھائے اور ایک مرتبہ فرمایا کہ جو پیاز، لہسن اور گندنا کھائے تو وہ ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے بھی اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے بنی آدم تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو اِس پودہ یعنی لہسن میں سے کھائے تو وہ ہمارے پاس ہماری مسجد میں نہ آئے۔ راوی نے پیاز اور گندنے کا ذکر نہیں کیا۔
حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں ہٹے کہ خیبر فتح ہو گیا۔ ہم رسول اللہﷺ کے صحابہؓ اس پودے لہسن پر ٹوٹ پڑے اور لوگوں کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ ہم نے اس سے خوب سیر ہو کر کھایا اور پھر ہم نے مسجد کا رُخ کیا۔ رسول اللہﷺ نے بو محسوس کی تو فرمایا: جو اِس تکلیف دہ درخت میں سے کچھ کھائے تو وہ ہرگز مسجد میں ہمارے قریب نہ آئے۔ لوگ کہنے لگے کہ حرام کر دیا گیا، حرام کر دیا گیا۔ جب یہ بات رسول اللہﷺ تک پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: اے لوگو! میں وہ چیز حرام نہیں کر سکتا جسے اللہ نے میرے لئے حلال کیا ہے لیکن یہ