بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 32 hadith
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کسی جان کو ظلم سے قتل نہیں کیا جاتا مگر آدمؑ کے پہلے بیٹے پر اس کے خون میں حصہ ہوتا ہے کیونکہ وہ پہلا تھا جس نے قتل کا طریق شروع کیا۔ ایک اور روایت میں لِاَنَّہُ سَنَّ الْقَتْلَ کے الفاظ ہیں مگر اَوَّلَ کا ذکر نہیں۔
حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے جو فیصلہ کیا جائے گا وہ خون کے بارہ میں ہوگا۔ ایک اور روایت میں یُقْضَی کا لفظ بیان ہوا ہے۔ جبکہ ایک اور روایت میں یُحْکَمُ بَیْنَ النَّاسِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو بکرہؓ سے روایت ہے نبیﷺ نے فرمایا کہ زمانہ اپنی اس شکل پر (جس شکل پر وہ تھا) چکر کھا کر آگیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا۔ سال بارہ مہینے (کا) ہے۔ ان میں سے چار حرمت والے ہیں تین تو متواتر ہیں ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم اور رجب مضر کا مہینہ ہے جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ خاموش رہے یہانتک کہ ہم نے سمجھا کہ آپؐ اس کو کوئی دوسرا نام دیں گے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا یہ ذو الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا یہ کون سا علاقہ ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ خاموش رہے اور ہم نے خیال کیا کہ آپؐ اس کو کوئی اور نام دیں گے۔ آپؐ نے فرمایا کیا یہ وہ (حرمت والا) علاقہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپؐ نے فرمایا اور یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں آپؐ خاموش ہوگئے یہانتک کہ ہم نے سمجھا کہ آپؐ اس کو کوئی دوسرا نام دیں گے۔ آپؐ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا یقینا تمہارے خون اور تمہارے مال _ راوی محمد کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپؐ نے فرمایا اور تمہاری عزتیں _ تمہارے لئے قابل احترام ہیں تمہارے اِس دن کی حرمت کی طرح، تمہارے اِس علاقہ میں، تمہارے اِس مہینہ میں اور جلد تم اپنے رب سے ملو گے تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارہ میں پوچھے گا۔ پس میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا یا گمراہ نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں۔ سنو! چاہئے کہ (یہ پیغام) حاضر غائب کو پہنچا دے۔ ہوسکتا ہے کہ جن کو یہ (پیغام) پہنچایا جائے وہ اس سے زیادہ محفوظ کرنے والا ہو جس نے اس کو (خود) سنا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا سنو! کیا میں نے پہنچا دیا!! ایک اور روایت میں (رَجَبٌ شَہْرُ مُضَرَ کی بجائے) رَجَبُ مُضَرَ کے الفاظ ہیں۔ اور ایک اور روایت میں (فَلاَ تَرْجِعُنّ بَعْدی کی بجائے) فَلَا تَرجِعُوا بَعْدی کے الفاظ ہیں۔
عبد الرحمان بن ابی بکرہ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جب وہ دن (حجۃ الوداع کے موقعہ پر) آیا حضورؐ اپنے اونٹ پر تشریف فرما ہوئے اور ایک شخص نے اس کی نکیل پکڑی۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کونسا دن ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ اور ہم نے سمجھا کہ آپؐ اسے اس کے نام کے سوا کوئی دوسرا نام دیں گے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا یہ کونسا علاقہ ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں ہم نے خیال کیا کہ آپﷺ اس کے نام کے سوا کوئی دوسرا نام دیں گے۔ آپؐ نے فرمایا کیا یہ وہ (حرمت والا) علاقہ نہیں؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ! آپؐ نے فرمایا پس یقینا تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے لئے قابلِ احترام ہیں تمہارے اِس دن کی حرمت کی طرح تمہارے اِس مہینہ میں، تمہارے اِس علاقہ میں۔ پس چاہئے کہ حاضر غائب کو پیغام پہنچا دے۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ دو سیاہ اور سفید (ملے جلے رنگ کے) مینڈھوں کی طرف گئے اور ان کو ذبح کیا۔ پھر آپؐ بکریوں کے ایک ریوڑ کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے ہمارے درمیان تقسیم فرمایا۔ ایک اور روایت میں (قَعَدَ عَلَی بَعیرِہِ کی بجائے) جَلَسَ النَّبِیُّﷺ عَلَی بَعیرِہِ کے الفاظ ہیں اور (اَخَذَ اِنْسَانٌ بِخِطَامِہِ کی بجائے) رَجُلٌ آخِذٌ بِزِمَامِہ اَوْ بِخِطَامِہِ کے الفاظ ہیں۔ ایک اور روایت حضرت ابو بکرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا یہ کونسا دن ہے؟ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس روایت میں اَعْرَاضَکُم ْ اور ثُمَّ انْکَفَأَ اِلٰی کَبْشَیْنِ اور اس کے بعد کے الفاظ کا ذکر نہیں۔ مگر اس روایت میں کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذا کے بعد اِلٰی یَوم ِ تَلْقَونَ رَبَّکُمْ اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ قَالُوْا نَعَمْ قَالَ اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ کے الفاظ ہیں یعنی اپنے رب سے ملاقات کے دن تک، سنو کیا میں نے پہنچا دیا؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا اے اللہ گواہ رہ!
علقمہ بن وائل کہتے ہیں کہ ان کے والدؓ نے ان سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نبیﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص دوسرے کو رسی سے کھینچتے ہوئے لے کر آیا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ اس (مدّعی) نے کہا اگر اس نے اعتراف نہ کیا تو میں اس پر دلیل لا ؤں گا۔ اس نے کہا ہاں میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تم نے اسے کیسے قتل کیا؟ اس نے کہا میں اور وہ درخت کے پتے توڑ رہے تھے اس نے مجھے گالی دی اور غصہ دلایا تو میں نے کلہاڑا اس کے سر (کے ایک پہلو) میں دے مارا اور اسے قتل کر بیٹھا۔ نبیﷺ نے اسے فرمایا کیا تمہاری کوئی چیز ہے جو تم اپنی طرف سے ادا کر سکتے ہو؟ اس نے کہا میرا کوئی مال نہیں سوائے میری (اس) چادر اور کلہاڑی کے۔ آپؐ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے تمہاری قوم تمہیں نہیں خریدے گی اس نے کہا میں اپنی قوم کے سامنے اس سے زیادہ حقیر ہوں۔ آپؐ نے اس کی رسی مقتول کے ولی کی طرف پھینک دی اور فرمایا اپنے صاحب کو سنبھالو وہ شخص اس کو لے کر چلا جب وہ مڑا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر اس نے اسے قتل کیا تو یہ بھی اس جیسا ہے۔ وہ واپس لوٹا اور عرض کیا یا رسولؐ اللہ! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپؐ نے فرمایا ہے کہ اگر اس نے اسے قتل کیا تو یہ بھی اس جیسا ہے۔ میں نے تو اسے آپؐ کے حکم سے پکڑا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں چاہتے کہ وہ تمہارا اور تمہارے (مقتول بھائی) کا گناہ اُٹھائے؟ اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبیؐ! _(راوی کہتے ہیں یا) شاید اس نے کہا کیوں نہیں_ آپؐ نے فرمایا یہ شخص (بھی) تو اس کی طرح ہے۔ راوی کہتے ہیں اس پر اس نے اس کی رسی پھینک دی اور اس کو آزاد کر دیا۔
علقمہ بن وائل اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا۔ آپؐ نے اسے قصاص کے لئے مقتول کے ولی کے سپرد کر دیا اور وہ اسے لے کر چلا اور اس کے گلے میں رسی تھی جسے وہ کھینچتا تھا۔ جب وہ واپس ہوا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا قتل کرنے والا اور قتل ہونے والا دونوں آگ میں ہیں۔ ایک آدمی اس (یعنی مقتول کے بھائی کے پاس) گیا اور اسے رسول اللہﷺ کی بات بتائی۔ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ ایک اور روایت میں ہے ابن اشوع نے بتایا کہ نبیﷺ نے اسے معاف کرنے کو کہا تھا تو اس نے انکار کیا تھا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ھذیل قبیلہ کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اس کے پیٹ کے بچہ کو گرا دیا۔ نبی ﷺ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی (بطور دیت) کا فیصلہ فرمایا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے بنو لحیان کی ایک عورت کے جنین کے بارہ میں جو حمل ساقط ہو کر مر گیا تھا غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا پھر وہ عورت جس کے حق میں لونڈی یا غلام دینے کا فیصلہ ہوا تھا (وہ بھی) مر گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا اس کا ورثہ اس کے بیٹوں اور خاوند کا ہے اور اس کی دیت اس (قتل کرنے والی) کے خاندان پر ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں ھذیل قبیلہ کی دو عورتیں لڑ پڑیں۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اس نے اُسے اور جو اُس کے پیٹ میں (بچہ) تھا اُسے مار ڈالا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے کر آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے اور آپؐ نے عورت کی دیت کی ذمہ داری اس کے خاندان پر ڈالنے کا فیصلہ فرمایا اور اس کا وارث آپؐ نے اس کی اولاد اور جو اُن کے ساتھ تھے اُن کو قرار دیا۔ حمل بن النابغہ الھذلی نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں اس کی چٹّی کیسے دوں جس نے کھایا نہ پیا، نہ بولا اور نہ چیخا۔ ایسے کا خون بہا تو نہیں ہونا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے۔ آپؐ نے اس کے مقفّی مسجّع کلام کی وجہ سے یہ فرمایا تھا۔ ایک اور روایت حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ دو عورتیں لڑ پڑیں۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے مگر اس روایت میں ’’وَرَّثَھَا وَلَدَھَا وَمَنْ مَعَھُمْ‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں اور یہ ہے کہ کہنے والے نے کہا کہ ہم کیسے دیت دے دیں اور اس نے حمل بن مالک کا نام نہیں لیا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کے ڈنڈے سے مارا جبکہ وہ حاملہ تھی اور اسے مار ڈالا۔ راوی کہتے ہیں ان میں سے ایک بنو لحیان میں سے تھی وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے خاندان پر ڈال دی اور ایک غلام یا لونڈی اس کے لئے جو اس کے پیٹ میں تھا (کی وجہ سے مقرر کیا) قاتلہ کے خاندان کے ایک شخص نے کہا کیا ہم پر ایسے کی دیت کی چٹی ڈالی جائے گی جس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ چیخا ایسے کا خون بہا نہیں ہوتا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا یہ قافیہ آرائی بدوؤں کی قافیہ آرائی کی طرح ہے۔ راوی کہتے ہیں آپؐ نے ان کے ذمہ دیت ڈال دی۔