عبدالرحمان بن شماسہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عقبہ بن عامرؓ کو منبر پر کہتے سنا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا مؤمن مؤمن کا بھائی ہے اور کسی مؤمن کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح دے یہاں تک کہ وہ چھوڑ دے۔
عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ
عُبَيْدِ اللَّهِ
قَالَ قُلْتُ لِ
نَافِعٍ
مَا الشِّغَارُ.
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ’’نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے‘‘ اور شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس شخص سے کرے اور دونوں کے درمیان حق مہر نہ ہو۔
عبید اللہ کی روایت میں ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے نافع سے پوچھا تھا کہ شغار کیا ہے؟
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ ابن نمیر نے مزید کہا ہے اور شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے کہ تم اپنی بیٹی مجھے بیاہ دو اور میں اپنی بیٹی تمہیں بیاہ دوں گا یا اپنی بہن مجھے بیاہ دو اور میں اپنی بہن تجھے بیاہ دوں گا۔
حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ پورا کرنے کے لائق شرط وہ ہے جس کے ساتھ تم نے ازدواجی تعلقات قائم کئے ہیں۔ ایک اور روایت میں (اَلشَّرط کی بجائے) اَلشُّرُوْط کا لفظ ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بیوہ کا نکاح نہ کیا جائے یہان تک کہ اس سے مشورہ کر لیا جائے۔ اور نہ کنواری کا نکاح کیا جائے یہان تک کہ اس سے اجازت لی جائے۔ انہوں نے کہا یا رسولؐ اللہ! اس کی اجازت کیسے ہو گی؟ آپؐ نے فرمایا یہ کہ وہ خاموش رہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ قَالَ ذَكْوَانُ مَوْلَى عَائِشَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَارِيَةِ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لاَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَعَمْ تُسْتَأْمَرُ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ .
حضرت عائشہؓ کے آزاد کردہ غلام ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے سنا۔ آپؓ فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے اس لڑکی کے بارہ میں پوچھا جس کا نکاح اس کے گھر والے کرتے ہیں کہ کیا اس سے پوچھا جائے گا یا نہیں؟ رسول اللہﷺ نے ان کو فرمایا ہاں اس سے پوچھا جائے گا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں میں نے آپؐ سے عرض کیا وہ (لڑکی) شرماتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر وہ خاموش رہے تو یہی اس کی اجازت ہوگی۔