یحیٰ بن یحیٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مالک سے پوچھا کیا آپ کو عبداللہ بن فضل نے بتایا تھا کہ نافع بن جبیر نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا بیوہ اپنے ولی کی نسبت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارہ میں اجازت لی جائے اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا ہاں۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بیوہ اپنے ولی کی نسبت اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ بیوہ اپنے ولی سے اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے۔ اور کنواری سے اس کا باپ اس کے بارہ میں پوچھے گا اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ وہ بسا اوقات کہتے اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں مجھ سے رسول اللہﷺ نے چھ سال کی عمر میں شادی کا فیصلہ فرمایا۔ میرا رخصتانہ ہوا اور میں نو برس کی تھی۔ وہ کہتی ہیں ہم مدینہ آئے تو ایک ماہ تک مجھے بخار آتا رہا اور میرے بال کانوں تک رہ گئے۔ میرے پاس ام رومان آئیں اور میں جھولے (see saw) میں تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں تھیں۔ انہوں (امِ رومان) نے مجھے بلایا اور میں ان کے پاس آئی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہیں۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دروازہ پر کھڑا کر دیا۔ میں تیز سانس لیتے ہوئے ھہ ھہ کر رہی تھی یہاں تک کہ میرے سانس کی تیزی دور ہوئی تو انہوں نے مجھے ایک کمرہ میں داخل کر دیا تو کیا دیکھا کہ وہاں انصار کی عورتیں ہیں۔ انہوں نے کہا ’’خیر اور برکت اور نیک قسمت کے ساتھ‘‘۔ (ام رومان) نے مجھے ان کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے تیار کیا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہﷺ تشریف لائے تو انہوں نے مجھے آپؐ کے سپرد کر دیا۔
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَزَوَّجَهَا وَهْىَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ .
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ان سے شادی کا فیصلہ کیا اور وہ سات سال کی تھیں اور ان کی آپؐ کے ہاں رخصتی ہوئی اور وہ نو سال کی تھیں اور اُن کے کھیلنے کا سامان ان کے ساتھ تھا اور آپؐ کی وفات ہوئی اور وہ اٹھارہ سال کی تھیں۔
قَالَتْ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ بِنْتُ سِتٍّ وَبَنَى بِهَا وَهْىَ بِنْتُ تِسْعٍ وَمَاتَ عَنْهَا وَهْىَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ .
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں رسول اللہﷺ نے ان سے شادی کا فیصلہ فرمایا اور وہ چھ سال کی تھیں اور ان کی رخصتی ہوئی اور وہ نو سال کی تھیں اور آپؐ فوت ہوئے اور وہ اٹھارہ سال کی تھیں۔
قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شَوَّالٍ وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ فَأَىُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي . قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ . وَحَدَّثَنَاهُ
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے آپؓ فرماتی ہیں مجھ سے رسول اللہﷺ نے ماہِ شوال میں نکاح کیا تھا اور شوال میں ہی میری رخصتی ہوئی۔ پس رسول اللہﷺ کی کون سی بیوی آپؐ کے پاس مجھ سے زیادہ نصیب والی ہوئی؟ راوی کہتے ہیں حضرت عائشہؓ پسند کرتی تھیں کہ ان کے خاندان کی عورتوں کی رخصتی شوال میں ہو۔
قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ میں نبیﷺ کے پاس تھا کہ آپؐ کے پاس ایک شخص آیا اور آپؐ سے عرض کیا کہ اس نے ایک انصاری عورت سے شادی کا فیصلہ کیا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا کیا تو نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ آپؐ نے فرمایا جاؤ اور اسے دیکھ لو! کیونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ (نقص) ہوتا ہے۔
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي عُيُونِ الأَنْصَارِ شَيْئًا . قَالَ قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا . قَالَ عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا . قَالَ عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ مَا عِنْدَنَا مَا نُعْطِيكَ وَلَكِنْ عَسَى أَنْ نَبْعَثَكَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ . قَالَ فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فِيهِمْ .
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کا فیصلہ کیا ہے۔ نبی ﷺ نے اسے فرمایا کیا تو نے اس کو دیکھا ہے؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں (بعض دفعہ) کچھ (نقص) ہوتا ہے۔ اس نے کہا میں نے اسے دیکھ لیا۔ آپؐ نے فرمایا کتنے (حق مہر) پر تو نے اس سے شادی کی ہے؟ اس نے کہا چار اوقیہ پر۔ نبی ﷺ نے اسے فرمایا چار اوقیہ پر۔ گویا تم اس پہاڑ کے کونے سے چاندی تراش کرکے لاتے ہو۔ ہمارے پاس تو نہیں ہے جو تمہیں دیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم تمہیں ایک دستے میں بھیج دیں اور تم اس میں کچھ حاصل کرو۔ راوی کہتے ہیں پھر آپؐ نے ایک دستہ بنو عبس کی طرف بھیجا اور اس شخص کو اس میں بھیجا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَهَبُ لَكَ نَفْسِي . فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا . فَقَالَ فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ اذْهَبْ إِلَى أَهْلِكَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا . فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ . فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ . فَقَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ . وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي - قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَاءٌ - فَلَهَا نِصْفُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَىْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَىْءٌ . فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک عورت رسول اللہﷺ کے حضور حاضر ہوئی اور کہا یا رسولؐ اللہ! میں اپنے نفس کو آپؐ کی خدمت میں ہبہ کرنے حاضر ہوئی ہوں۔ آپؐ نے اس کی طرف نظر اُٹھائی اور نیچے کر لی۔ پھر رسول اللہﷺ نے اپنا سر جھکا لیا۔ جب اس عورت نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ نے اس کے بارہ میں کوئی فیصلہ نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ آپؐ کے صحابہؓ میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا یا رسولؐ اللہ! اگر آپؐ نہیں چاہتے تو اس کی شادی مجھ سے کر دیجئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ اللہ کی قسم یا رسولؐ اللہ!۔ آپؐ نے فرمایا اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ تم کوئی چیز پاتے ہو۔ وہ گیا پھر لوٹ کر آیا اور کہا نہیں اللہ کی قسم! میں نے کوئی چیز نہیں پائی۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا دیکھو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی ہو۔ وہ گیا پھر واپس آیا اور کہا اللہ کی قسم! یا رسولؐ اللہ! لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں ہے البتہ میرا یہ ازار ہے _سہلؓ کہتے ہیں اس کے پاس (بدن ڈھاپنے کو) چادر نہ تھی۔ اس کا نصف (عورت کا) ہوا۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا تم اپنے ازار کا کیا کرو گے؟ اگر یہ تم نے پہنا تو اس کے پہننے کو اس میں سے کچھ نہیں ہوگا اور اگر اس نے اس کو پہنا تو تمہارے پہننے کے لئے اس میں سے کچھ نہ ہوگا۔ اس پر وہ آدمی بیٹھ گیا یہانتک کہ کافی دیر بیٹھ رہنے کے بعد وہ کھڑا ہوا۔ رسول اللہﷺ نے اسے مڑ کر جاتے ہوئے دیکھا تو آپؐ نے اس کے بارہ میں ارشاد فرمایا اسے بلایا گیا جب وہ آیا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا تجھے قرآن میں سے کتنا یاد ہے؟ اس نے کہا مجھے فلاں سورۃ یاد ہے اور فلاں سورۃ یاد ہے اس نے انہیں شمار کیا۔ آپؐ نے فرمایا تم انہیں زبانی پڑھ سکتے ہو؟ اس نے کہا ہاں۔ آپؐ نے فرمایا جاؤ جو قرآن تمہیں یاد ہے اس کے عوض وہ تمہاری ہو گئی۔ ایک اور روایت میں (اِذْھَبْ فَقَدْ مُلِّکْتَھَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ کی بجائے) اِنْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُکَھَا فَعَلِّمْھَا مِنَ الْقُرْآنِ کے الفاظ ہیں یعنی جاؤ میں نے اس کو تم سے بیاہ دیا۔ پس تم اس کو قرآن سے کچھ تعلیم دو۔