بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 240 hadith
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص اس بات سے امن میں نہیں جو اپنا سَر امام سے قبل اٹھا لیتا ہے کہ اللہ اس کی صورت کو گدھے کی صورت میں بدل دے۔ ربیع بن مسلم کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ اس کے چہرہ کو گدھے کا چہرہ بنا دے۔
حضرت جابرؓ بن سمرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں ضرور بالضرور رک جائیں ورنہ وہ (نظریں) اِن کی طرف نہیں لوٹیں گی۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھانے سے ضرور بالضرور رک جائیں ورنہ اِن کی نظریں اُچک لی جائیں گی۔
حضرت جابرؓ بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم (نماز میں) اپنے ہاتھ اٹھاتے ہو جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں۔ سکون سے نماز ادا کیا کرو، پھر آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں حلقے بنائے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ کیا بات ہے کہ تمہیں ٹولیوں کی صورت میں دیکھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپؐ تشریف لائے اور فرمایا کہ تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور صفیں باندھتے ہیں؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسولؐ اللہ! فرشتے اپنے رب کے حضور کس طرح صفیں باندھتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا وہ اپنی پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔
حضرت جابر بن سمرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو اَلسَّلََامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، اَلسَّلََامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہتے اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے دونوں طرف اشارہ (بھی) کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے ہاتھوں سے اس طرح کیوں اشارہ کرتے ہو گویا وہ سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہیں۔ تم میں سے ہر ایک کے لئے کافی ہے کہ (وہ) اپنی ران پر ہاتھ رکھے پھر اپنے دائیں اور بائیں اپنے بھائی پر سلامتی بھیجے۔
حضرت جابرؓ بن سمرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہم نے جب سلام پھیرا تو اپنے ہاتھوں کے اشارہ سے اَلسَّلََامُ عَلَیْکُمْ، اَلسَّلََامُ عَلَیْکُمْ کہا۔ رسول اللہﷺ نے ہماری طرف دیکھا تو آپؐ نے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو گویا کہ وہ سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہیں۔ جب تم میں سے کوئی سلام کہے تو اپنے ساتھی کی طرف رُخ کرے اور اپنے ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔
حضرت ابو مسعودؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نماز کے وقت ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے کہ (صفیں) سیدھی رکھو اور آگے پیچھے مت کھڑے ہو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف ہو جائے گا اور تم میں سے میرے قریب صاحبِ عقل و بصیرت ہوں اور پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں پھر وہ جو اُن کے قریب ہیں۔ حضرت ابو مسعودؓ نے کہا آج تم سب سے زیادہ اختلاف میں مبتلا ہو۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ چاہیے کہ تم میں سے (نماز میں) میرے قریب صاحب عقل و بصیرت لوگ ہوں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں یہ آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا، (پھر فرمایا) کہ بازاروں کے شور و شر سے بچو۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اپنی صفوں کو سیدھا رکھو کیونکہ صف کا سیدھا رکھنا نماز کی تکمیل کا حصّہ ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اپنی صفوں کو مکمل کرو یقینًا میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے دیکھ لیتا ہوں۔