حضرت جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا عَدْوَی اور غول اور صَفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابرؓ نے ان کے لئے وَلَا صَفَرَ کی وضاحت کی کہ صَفَرَ سے مراد پیٹ ہے۔ حضرت جابرؓ سے کہا گیا کیسے؟ انہوں نے کہا، کہا جاتا ہے پیٹ کے کیڑے اور انہوں نے غول کے معنے بیان نہیں کئے۔ ابو زبیر نے کہا ہے کہ یہ چڑیل وہی تو ہے جو ہلاک کرتی ہے۔
بِهَذَا الإِسْنَادِ . مِثْلَهُ . وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ . وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَمَا قَالَ
مَعْمَرٌ
.
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں میں نے نبیﷺ کو فرماتے سنا شگون کچھ نہیں اور اس کا اچھا پہلو فال ہے۔ عرض کیا گیا یا رسولؐ اللہ! فال کیا ہے؟ فرمایا وہ اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنتا ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے مروی ہے نبی ﷺ نے فرمایا عَدْوَی کچھ نہیں اور نہ ہی شگون اور مجھے فال پسند ہے۔ راوی کہتے ہیں کہا گیا اور فال کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا اچھی بات۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عَدْوَی اور شگون کچھ نہیں اور نحوست صرف تین چیزوں میں ہے عورت، گھوڑے اور گھر میں۔ دوسرے متعدد راوی مالک کی روایت کے مطابق نحوست کا ذکر کرتے ہیں مگر ان میں سے کوئی حضرت ابن عمرؓ کی روایت میں عَدْوَی اور شگون کا ذکر نہیں کرتا۔ ایک اور روایت میں (إِنَّمَا الشُّؤْمُ کی بجائے) فِی الشُّؤْمِ کے الفاظ ہیں اور اس روایت میں الْعَدْوَی وَالطِّیَرَۃَ کے الفاظ نہیں۔