بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 146 hadith
حضرت اسامہؓ بن زید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاعون ایک عذاب کا نشان ہے۔ اللہ عزوجل اس کے ذریعہ اپنے بندوں میں سے بعض لوگوں کو آزماتا ہے۔ جب تم اس کے بارہ میں سنو تو اس جگہ داخل نہ ہو اور اگر وہ اس جگہ میں پھوٹ پڑے جہاں تم ہو تو اس سے نہ بھاگو۔
حضرت اسامہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ طاعون عذاب ہے جو تم سے پہلے لوگوں یا (فرمایا) بنی اسرائیل پر مسلّط کی گئی تھی۔ پس جب وہ کسی جگہ ہو تو اس سے بچنے کے لئے وہاں سے نہ نکلو اور جب یہ کسی جگہ ہو تو وہاں نہ جاؤ۔
عامر بن سعد روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سعدؓ بن ابی وقاص سے طاعون کے بارہ میں پوچھا تو حضرت اسامہؓ بن زیدؓ نے کہا میں تمہیں اس کے بارہ میں بتاتا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا وہ عذاب ہے یا فرمایا رِجْز ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر یا فرمایا تم سے پہلے لوگوں پر بھیجا تھا۔ پس جب تم اس کے متعلق سنو کہ یہ کسی جگہ ہے تو اس جگہ داخل نہ ہو جہاں وہ ہے اور جب وہ اس جگہ داخل ہو جہاں تم ہو تو اس جگہ سے بھاگنے کے لئے نہ نکلو۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ تکلیف یا بیماری عذاب ہے جس کے ذریعہ تم سے پہلے بعض قوموں کو عذاب دیا گیا۔ پھر ان کے بعد یہ زمین میں رہ گئی۔ کبھی چلی جاتی ہے کبھی آجاتی ہے۔ جو کسی جگہ اس کے ہونے کا سنے تو وہاں ہرگز نہ جائے اور جو کسی جگہ ہو اور یہ وہاں پھوٹ پڑے تو اس سے بھاگنے کے لئے نہ نکلے۔
حبیب کہتے ہیں ہم مدینہ میں تھے تو مجھے علم ہوا کہ کوفہ میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔ مجھے عطاء بن یسار اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جب تم کسی جگہ ہو اور وہاں طاعون پھوٹ پڑے تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تمہیں معلوم ہو کہ کسی جگہ طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا یہ کس کی روایت ہے؟ انہوں نے کہا عامر بن سعد نے اسے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں میں ان کے پاس گیا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ موجود نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں ان کے بھائی ابراہیم بن سعد سے ملا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا میں حضرت اسامہؓ کے پاس موجود تھا جب وہ حضرت سعدؓ سے کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ تکلیف رِجْز یا (فرمایا) عذاب ہے یا اس عذاب کا باقی حصہ ہے جو تم سے پہلے بعض لوگوں کو دیا گیا۔ پس جب کسی جگہ یہ ہو اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تمہیں معلوم ہو کہ فلاں جگہ یہ ہے تو وہاں داخل نہ ہو۔ حبیب کہتے ہیں میں نے ابراہیم سے کہا کیا آپ نے خود اسامہؓ کو سعدؓ سے یہ بیان کرتے سنا اور انہوں (سعدؓ) نے انکار نہیں کیا تو انہوں نے جواب دیا ہاں۔ ایک اور روایت میں ہے ابراہیم بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسامہؓ بن زیدؓ اور حضرت سعدؓ دونوں بیٹھے ہوئے تھے اور یہ روایت بیان کر رہے تھے انہوں نے بتایا۔۔۔ باقی روایت سابقہ روایت کی طرح ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ شام کی طرف گئے یہاں تک کہ سرغ مقام پر پہنچے تو آپؓ کو لشکروں کے افسران حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح اور ان کے ساتھی ملے اور انہوں نے آپؓ کو بتایا کہ شام میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا ابتدائی مہاجرین کو میرے پاس بلاؤ۔ میں انہیں بلا لایا۔ آپؓ (حضرت عمرؓ) نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ شام میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔ اس پر انہوں نے مختلف آراء دیں۔ ان میں سے بعض نے کہا آپؓ ایک اہم کام کے لئے نکلے ہیں اور ہم آپؓ کا واپس لوٹنا مناسب نہیں سمجھتے اور ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا آپؓ کے ساتھ بہترین لوگ اور رسول اللہﷺ کے صحابہؓ ہیں اور ہم مناسب خیال نہیں کرتے کہ آپ انہیں اس وباء میں لے جائیں۔ آپؓ نے انہیں فرمایا آپ جا سکتے ہیں۔ پھر آپؓ نے فرمایا میرے پاس انصارؓ کو بلاؤ۔ میں اُنہیں آپؓ کے پاس بلا لایا۔ آپؓ نے ان سے مشورہ کیا انہوں نے بھی مہاجرینؓ کا طریق اختیار کیا اور ان کی طرح مختلف آراء پیش کیں۔ آپؓ نے فرمایا آپ لوگ جا سکتے ہیں۔ پھر آپؓ نے فرمایا میرے پاس قریش کے بزرگان کو بلاؤ جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کی تھی۔ میں انہیں بلا لایا۔ ان میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہماری رائے ہے کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور انہیں اس وبا میں نہ لے جائیں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ میں صبح (واپسی کے لئے) سوار ہوں گا آپ سب لوگ بھی صبح سوار ہو جائیں۔ اس پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے کہا کیا اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا اے ابو عبیدہ! کاش تمہارے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا!! _اور حضرت عمرؓ بالعموم ان (حضرت ابو عبیدہؓ) سے اختلافِ رائے کو ناپسند فرماتے تھے_ ہاں، ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف بھاگتے ہیں۔ بتائیے اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور وہ ایک ایسی وادی میں ہوں جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سر سبز و شاداب ہو اور دوسرا خشک اور ویران ہو تو اگر تم سر سبز کنارے پر انہیں چراؤ تو اللہ کی تقدیر سے ہی انہیں چراؤ گے اور اگر تم انہیں خشک کنارے پر چراؤ تو اللہ کی تقدیر سے انہیں چراؤ گے۔ وہ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے ہیں حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ جو اپنے کسی کام کی وجہ سے موجود نہ تھے آئے اور انہوں نے کہا مجھے اس بات کا علم ہے میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے جب تم کسی جگہ اس (وبا) کا سنو تو اس کی طرف نہ جاؤ اور اگر اس جگہ پھوٹ پڑے جہاں تم ہو تو وہاں سے اس سے بھاگنے کے لئے نہ نکلو۔ وہ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے ہیں اس پر حضرت عمرؓ نے اللہ کی حمد کی اور واپس لوٹ گئے۔ ایک روایت میں یہ مزید ہے کہ آپؓ (حضرت عمرؓ) نے یہ بھی فرمایا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ انہیں خشک کنارے پر چرائے اور سر سبز کنارہ چھوڑ دے تو کیا آپ اسے الزام دیں گے۔ انہوں (حضرت ابو عبیدہؓ) نے کہا ہاں۔ آپؓ نے فرمایا تو چلو۔ راوی کہتے ہیں وہ چلے یہاں تک کہ مدینہ آئے تو آپؓ نے فرمایا یہ منزل ہے یا فرمایا یہ منزل ہے اگر اللہ چاہے۔
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ شام کے سفر کے لئے نکلے۔ جب آپؓ سرغ مقام پر پہنچے تو آپؓ کو خبر ملی کہ شام میں وباء پھوٹ پڑی ہے۔ انہیں حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم اس کے بارہ میں سنو کہ فلاں جگہ ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب اس زمین میں جس میں تم ہو وہ پھوٹ پڑے تو وہاں سے اس سے بھاگنے کے لئے نہ نکلو۔ اس پر حضرت عمرؓ سرغ سے واپس چلے آئے۔ ایک اور روایت میں (فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ کی بجائے) أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ کے الفاظ ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺ نے فرمایا عدویٰ، صفر اور ھامہ کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو ایک بدوی نے کہا یا رسولؐ اللہ! ان اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جو ریگزار میں ہرنوں کی طرح ہوتے ہیں پھر ایک خارش زدہ اونٹ ان میں آتا ہے تو ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا تو پھر پہلے کو کس نے بیمار کیا؟ ایک اور روایت میں وَلَا طِیَرَۃَ کے الفاظ بھی ہیں جبکہ ایک روایت میں صرف لَا عَدْوَی کا ذکر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ قَالَ النَّبِیُّﷺ لَا عَدْوٰی فَقَامَ اَعْرَابِیٌّ۔۔۔۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمانؓ بن عوف نے انہیں بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عدویٰ کی کوئی حقیقت نہیں ہے نیز وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بیمار (چوپائے والا) آدمی تندرست (چوپائے والے) کے پاس نہ لائے۔ (راوی) ابوسلمہ کہتے ہیں حضرت ابو ہریرہؓ یہ دونوں باتیں رسول اللہﷺ سے بیان کیا کرتے تھے۔ مگر بعد میں حضرت ابو ہریرہؓ نے اپنے اس قول لَا عَدْوٰی سے خاموشی اختیار کر لی اور اپنی اس بات پر قائم رہے کہ لَا یُوْرِدُ الْمّمْرِضُ عَلَی مُصِحٍّ۔ راوی کہتے ہیں حارث بن ابو ذباب جو حضرت ابو ہریرہؓ کے چچا زاد بھائی تھے نے کہا اے ابو ہریرہؓ ! میں نے آپ سے سنا تھا آپ ہمارے پاس اس حدیث کے علاوہ ایک اور حدیث بھی بیان کرتے تھے جس سے آپ نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ آپ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے لَا عَدْوَی۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا وہ آدمی جس کا چوپایہ بیمار ہو (اپنے بیمار چوپائے کو) صحت مند چوپائے کے پاس نہ لائے۔ تو حارث نے ان کی اس بات سے اتفاق نہ کیا یہاں تک کہ حضرت ابو ہریرہؓ کو غصہ آ گیا اور انہوں نے حبشہ کی زبان میں کچھ کہا اور حارث سے کہا کیا تمہیں پتہ ہے میں نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا میں نے کہا ہے کہ میں انکار کرتا ہوں۔ ابو سلمہ کہتے ہیں میری عمر کی قسم! حضرت ابو ہریرہؓ ہم سے بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے لَا عَدْوَی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا حضرت ابو ہریرہؓ بھول گئے ہیں یا دو باتوں میں سے ایک بات نے دوسری بات کو منسوخ کر دیا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی عَدْوَی نہیں ہے اور نہ ہی ھامہ اور نہ ہی نوء اور نہ ہی صَفر کوئی چیز ہے۔