بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
(امام بخاری نے) کہا: اور لیث نے بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری) سے، یحيٰ نے عمرہ سے، عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: روحیں بھی فوجیں ہیں جو الگ الگ دستہ بند ہیں۔ اس لئے ان میں سے جنہوں نے ایک دوسری کو پہچان لیا، ایک دوسری سے مانوس ہوگئیں۔ جنہوں نے نہ پہچانا، انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور یحيٰ بن ایوب نے کہا: یحيٰ بن سعید نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی۔
(تشریح)محمد بن عَرْعَرَہ نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حَکَم سے، حَکَم نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، ا نہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: پوربی ہوا سے میری مدد کی گئی اور عاد پچھم کی ہوا سے تباہ کئے گئے۔
خالد بن یزید نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اَسود سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے سنا۔ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (سورۃ القمر کی) یہ آیت یوں پڑھتے ہوئے سنا: فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ کیا کوئی نصیحت پکڑنے والا ہے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے زُہری سے روایت کی کہ سالم نے کہا: اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے۔ آپؐ نے اللہ کی وہ تعریف کی جو اس کے شایان ہے۔ پھر آپؐ نے دجال کا ذکر کیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں بھی تم کو اس سے ہوشیار کرتا ہوں اور کوئی بھی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے اس سے اپنی قوم کو ہوشیار نہ کیا ہو۔ نوحؑ نے بھی اپنی قوم کو ہوشیار کیا۔ لیکن میں تمہیں اس کے متعلق ایک ایسی بات بتاتا ہوںجو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی۔ تمہیں یہ علم رہے کہ وہ کانا ہوگا اور اللہ کانا نہیں۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ (بن ابی کثیر) سے، یحيٰ نے ابوسلمہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایسی بات نہ بتائوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی۔ وہ کانا ہوگا اور وہ اپنے ساتھ ایسی (نعمتیں اور دُکھ) لائے گا جو جنت اور دوزخ کی مانند ہوں گے۔ پس وہ (نعمتیں) جن کی نسبت وہ کہے گا کہ یہ جنت ہیں وہ دوزخ ہوں گی اور دیکھو کہ میں بھی تم کو اسی خطرہ سے آگاہ کرتا ہوں جس سے متعلق حضرت نوحؑ نے اپنی قوم کو آگاہ کیا۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ عبدالواحد بن زیاد نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوسعیدؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حضرت نوحؑ اور ان کی امت کے لوگ آئیں گے اور اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا تم نے (میرا پیغام) پہنچا دیا تھا؟ تو وہ کہیں گیــ:ـ ہاں اے میرے ربّ۔ پھر (اللہ تعالیٰ) ان کی امت سے پوچھے گا: کیا اس نے تم کو (میرا پیغام) پہنچا دیا تھا؟ تو وہ کہیں گے: نہیں۔ ہمارے پاس تو کوئی نبی نہیں آیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ حضرت نوحؑ سے پوچھے گا: تمہاری کون شہادت دے گا؟ تو وہ کہیں گے کہ محمد ﷺ اور ان کی امت۔ پھر ہم شہادت دیں گے کہ انہوں نے یقینا حق پہنچا دیا تھا اور یہی مراد ہے اللہ جل ذکرہ کے اس قول سے (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا) یعنی اس لئے ہم نے تم کو اعلیٰ درجہ کی امت بنایا ہے کہ تم ان انکار کرنے والوں کے خلاف گواہ ٹھہرو۔ اور اس آیت میں وَسَطٌ کے معنی ہیں مُعْتَدِلٌ۔ یعنی اعلیٰ درجہ کی۔
اسحاق بن نصر نے ہمیں بتایا۔ محمد بن عبید نے ہم سے بیان کیا کہ ابوحیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوزُرعہ سے، ابوزُرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک دعوت میں تھے کہ آپؐ کے سامنے بکری کا بازو پیش کیا گیا اور آپؐ بازو کا گوشت پسند فرمایا کرتے تھے۔ آپؐ نے اس سے تھوڑا سا تناول فرمایا اور فرمایا: میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تم جانتے ہو کہ کس ذریعہ سے اللہ پہلوں اور پچھلوں کو ایک ہی میدان میں اکٹھا کرے گا کہ دیکھنے والا ان کو دیکھ لے گا اور بلانے والا ان کوسنائے٭ گا۔ اور ان سے سورج قریب ہوجائے گا۔ اس وقت بعض لوگ کہیں گے: کیا تم اپنی اس حالت کو نہیں دیکھتے جو تمہاری ہوچکی ہے، جس نوبت کو تم پہنچ چکے ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو تلاش نہیں کرتے جو تمہارے لئے تمہارے ربّ کے پاس سفارش کرے؟ بعض لوگ کہیں گے: تمہارا باپ آدمؑ ہے اور وہ ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے آدمؑ! آپ سب انسانوں کے باپ ہیں۔ اللہ نے آپؑ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپؑ میں اپنی روح پھونکی اور ملائکہ کو حکم دیا اور وہ آپؑ کے فرمانبردار ہوگئے اور آپؑ کو جنت میں ٹھہرایا۔ کیا آپؑ ہمارے لئے اپنے ربّ کے پاس سفارش نہیں کریں گے؟ کیا آپؑ نہیں دیکھ رہے کہ جس حالت میں ہم ہیں اور جس نوبت کو ہم پہنچے ہوئے ہیں؟ اور وہ کہیں گے: میرا ربّ اس قدر ناراض ہے کہ اس سے پہلے ایسا ناراض کبھی نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد ایسا ناراض ہوگا اور اس نے مجھے درخت سے روکا تھا مگر میں نے (اس کی) نافرمانی کی تھی۔ مجھے تو خود اپنی ہی پڑی ہے۔ تم کسی اور کے پاس جائو۔ جائو نوحؑ کے پاس۔ اور وہ نوحؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے نوحؑ! آپؑ اہل زمین کی طرف پہلے رسول ہیں اور اللہ نے آپؑ کو شکر گزار بندہ فرمایا ہے۔ کیا آپؑ نہیں دیکھتے کہ جس حالت میں ہم ہیں اور کیا آپؑ نہیں دیکھتے کہ جس نوبت کو ہم پہنچ گئے؟ کیا اپنے ربّ کے پاس آپؑ ہماری سفارش نہیں کرتے؟ وہ کہیں گے: میرا ربّ آج اس قدر ناراض ہے کہ اس سے پہلے ایسا ناراض کبھی نہیں ہوا اور نہ ایسا ناراض اس کے بعد ہوگا۔ مجھے تو خود اپنی ہی جان کی پڑی ہوئی ہے۔ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائو۔ چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے۔ میں عرش کے نیچے جا کر سجدہ کروں گا۔ مجھے کہا جائے گا: محمدؐ! اپنا سر اُٹھائو اور سفارش کرو۔ تمہاری سفارش قبول کی جائے گی اور مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ محمد بن عبید نے کہا: باقی حدیث مجھے یاد نہیں۔
نصر بن علی بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ ابواحمد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، سفیان نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اَسود بن یزید سے، اَسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ القمر میں) فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِر پڑھا جس طرح عام لوگ پڑھتے ہیں۔
عبدان نے کہا: عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیںبتایا۔ یونس نے زُہری سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبردی۔ نیز احمد بن صالح نے ہمیںبتایا۔ عنبسہ نے ہم سے بیان کیا کہ یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: حضرت انس بن مالکؓ نے کہا: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر کا چھت کھولا گیا۔ میں اس وقت مکہ میں تھا۔ جبریل نازل ہوئے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا۔ پھر انہوں نے اس کو زمزم کے پانی سے دھویا۔ پھر وہ ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا اور انہوں نے اس کو میرے سینہ میں انڈیل کر خالی کردیا۔ پھر انہوں نے سینہ کو بند کردیا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان پرچڑھا لے گئے۔ جب سب سے نیچے کے آسمان پر پہنچے۔ جبریل نے آسمان کے داروغہ سے کہا: کھولو۔ اس نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبریل۔ اس نے پوچھا: تمہارے ساتھ بھی کوئی ہے؟ انہوں نے کہا: میرے ساتھ محمدؐ ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا انہیں بلا بھیجا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اور کھول دو۔ (اس پر اس نے دروازہ کھول دیا۔) جب ہم آسمان پر چڑھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص بیٹھا ہے جس کے دائیں طرف چیزوں کے پرچھائیں ہیں اور اس کے بائیں طرف بھی پرچھائیں۔ جب وہ دائیں طرف دیکھتا ہے ہنس پڑتا ہے اور جب وہ اپنی بائیں طرف دیکھتا ہے تو رو پڑتا ہے۔ اس نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ میں نے کہا: جبریل یہ کون ہیں؟ جواب دیا: یہ آدمؑ ہیں اور یہ پرچھائیں جو ان کے دائیں اور بائیں ہیں یہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ ان میں سے جو دائیں طرف والے ہیں وہ جنتی ہیں اور وہ پرچھائیں جو ان کے بائیں طرف ہیں وہ دوزخی ہیں۔ جس وقت وہ اپنی دائیں طرف دیکھتے ہیں ہنستے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں روتے ہیں۔ اس کے بعد جبریل مجھے اوپر لے گئے۔ یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے۔ انہوں نے اس کے چوکیدار سے کہا: کھولو۔ اس آسمان کے داروغہ نے بھی ان سے ویسا ہی پوچھا جو پہلے نے پوچھا تھا۔ چنانچہ اس نے کھول دیا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: حضرت ابوذرؓ نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے آسمانوں پر حضرت ادریس ؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات کی۔ مگر یہ بیان نہیں کیا کہ کون کون سے آسمان پر کس کس سے ملاقات ہوئی۔ ہاں اتنا بیان کیا ہے کہ آپؐ نے سب سے نچلے آسمان میں حضرت آدمؑ کو پایا اور چھٹے میں حضرت ابراہیم ؑ کو۔ اور حضرت انسؓ نے کہا: جب جبریل حضرت ادریس ؑ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا: نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ کہا: یہ ادریس ؑ ہیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ ؑکے پاس سے گزرا اور انہوں نے کہا: خوشی سے آئیں۔ ہم نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ موسیٰ ؑہیں۔ پھر میں حضرت عیسیٰ ؑ کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے کہا: خوشی سے آئیں یہ نیک نبی اور نیک بھائی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ عیسیٰ ہیں۔ پھر میں حضرت ابراہیم ؑ کے پاس سے گزرا اور انہوں نے کہا: خوشی سے آئیں یہ نیک نبی اور یہ نیک بیٹے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ ابراہیم ؑ ہیں۔ ابن شہاب کہتے تھے: مجھے (ابوبکر) ابن حزم نے بتایا کہ حضرت ابن عباسؓ اور حضرت ابوحیہ انصاریؓ دونوں کہتے تھے: نبی ﷺ نے فرمایا: پھر مجھے اوپر لے گئے۔ یہاں تک کہ میں ایک ہموار جگہ پر چڑھ گیا جہاں میں قلموں کے لکھنے کی آواز سنتا تھا۔ ابن حزم اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے مجھ پر پچاس نمازیں فرض کیں اور انہیں کو لے کر واپس آگیا۔ یہاں تک کہ جب حضرت موسیٰ ؑ کے پاس سے گزرنے لگا تو حضرت موسیٰ ؑنے پوچھا: آپؐ کی امت پر کیا فرض کیا گیا ہے؟ میں نے کہا: اس پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے کہا: اپنے ربّ سے واپس جاکر نظر ثانی کرائیں۔ کیونکہ تمہاری امت اتنی طاقت نہیں رکھے گی۔ چنانچہ میں لوٹا اور میں نے اپنے ربّ سے نظر ثانی کے لئے کہا۔ اس پر اس نے نصف حصہ کم کردیا اور میں حضرت موسیٰ ؑ کے پاس واپس آیا۔ پھر انہوں نے کہا: اپنے ربّ سے نظر ثانی کرائو۔ چنانچہ آپؐ نے پھر اسی طرح سے ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے کچھ حصہ نمازیں کم کردیں۔ پھر میں حضرت موسیٰ ؑ کے پاس واپس آیا اور انہیں بتایا۔ انہوں نے کہا: واپس جاکر اپنے ربّ سے نظر ثانی کرائو، کیونکہ تیری امت اتنی برداشت نہیں کرسکے گی۔ میں لوٹا اور اپنے ربّ سے نظر ثانی کے لئے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پانچ نمازیں ہیں اور یہ پچاس بھی ہیں۔ میرے حضور بات نہیں بدلی جاتی۔ اس پر میں حضرت موسیٰ ؑ کے پاس واپس آیا۔ انہوں نے کہا: اپنے ربّ سے واپس جاکر پھر نظر ثانی کرائو۔ میں نے کہا: اب تو مجھے اپنے ربّ سے شرم آگئی ہے۔ پھر جبریل چل پڑے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے اور وہاں طرح طرح کے رنگ چھائے ہوئے تھے۔ میں نہیں جانتا وہ کیا تھے؟ پھر مجھے جنت کے اندر لے جایا گیا۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں موتی کے گنبد ہیں اور کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں مٹی مشک کی ہے۔
(تشریح)(امام بخاری نے) کہا: اور ابن کثیر نے سفیان (ثوری) سے روایت کرتے ہوئے کہا: سفیان نے اپنے باپ (سعید بن مسروق ثوری) سے، ان کے باپ نے (عبدالرحمن) بن ابی نُعم سے، انہوں نے حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو تھوڑا سا سونا بھیجا اور آپؐ نے چار آدمیوں کے درمیان اسے تقسیم کیا۔ یعنی اَقرع بن حابس حنظَلی مجاشعی اور عُیَیْنہ بن بدر فزاری اور زید طائی جو بنی نبہان میں سے تھے اور علقمہ بن عُلاثہ عامری جو بنی کلاب میں سے تھے۔ قریش اور انصار اس سے ناراض ہوگئے۔ کہنے لگے: نجدیوں کے رئوساء کو دیتے ہیں اور ہمیں نہیں دیتے۔ آپؐ نے فرمایا: میں تو صرف ان کی (اسلام میں حدیث العہد ہونے کی وجہ سے) دلجوئی کرتا ہوں۔ یہ سن کر ایک شخص آگے بڑھا۔ آنکھیں اس کی اندر گھسی ہوئی تھیں، رخسار اُبھرے ہوئے، پیشانی آگے کو نکلی ہوئی، داڑھی گھنی، سر مُنڈا تھا۔ کہنے لگا: محمد! اللہ کی ناراضگی سے بچو۔ آپؐ نے فرمایا: اگر میں نافرمان ہوں تو اللہ کی فرمانبرداری کون کرے گا۔ اللہ تو مجھے زمین والوں کے لئے قابل اعتبار سمجھے اور تم مجھ پر اعتبار نہ کرو۔ اس پر ایک شخص نے آپؐ سے اس کے قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ میں سمجھتا ہوں: وہ خالدؓ بن ولید تھے۔ آپؐ نے ان کو منع کیا۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر چلا تو آپؐ نے فرمایا: اس شخص کی نسل سے یا فرمایا: اس شخص کی پشت سے ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر اُن کے گلے سے آگے نہیں جائے گا۔ دین سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر شکار سے باہر نکل جاتا ہے۔ اہل اسلام سے جنگ کریں گے اور بت پرستوں سے جنگ نہیں کریں گے۔ اگر میں نے ان کا زمانہ پالیا تو میں انہیں ضرور اسی طرح ہلاک کروں گا جس طرح عاد ہلاک کئے گئے۔