بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 163 hadith
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُقَیل سے، عُقَیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت زینب بنت ابوسلمہؓ نے انہیں حضرت امّ حبیبہ بنت ابوسفیانؓ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ حضرت امّ حبیبہؓ نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گھبرائے ہوئے آئے۔ آپؐ فرما رہے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کے لئے بربادی ہے، اس شر سے جو قریب آن پہنچا ہے۔ آج یاجوج اور ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے اور آپؐ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے ساتھ کی انگلی سے حلقہ بنایا۔ حضرت زینب بنت جحشؓ کہتی تھیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم برباد ہوجائیں گے، درآنحالیکہ ہم میں اچھے لوگ موجود ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔ جب بدکاری بڑھ جائے گی۔
مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ وُہَیب نے ہم سے بیان کیا۔ ابن طائوس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اللہ نے یاجوج ماجوج کی دیوار کو اس قدر کھول دیا ہے اور آپؐ نے اپنے ہاتھ سے نوے کا عدد بنایا۔
مؤمل (بن ہشام) نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل (بن علیہ) نے ہمیں بتایا کہ عوف (اعرابی) نے ہم سے بیان کیا۔ (عوف نے کہا:) ابورجاء نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت سمرہؓ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور ہم پھر ایک شخص کے پاس آئے جو اتنے دراز قد تھے کہ لمبائی کی وجہ سے قریب تھا کہ میں ان کا سر بھی نہ دیکھ سکوں اور وہ حضرت ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے روایت کی کہ ابوصالح نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعیدؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم! وہ کہیں گے: جناب میں حاضر ہوں۔ تیرے احکام کی بجا آوری کے لئے تیار ہوں اور ساری کی ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دوزخ میں بھیجے ہوئوں کو نکالو۔ آدم کہیں گے: دوزخ میں بھیجے ہوئوںمیں سے کتنے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار دوزخیوں میں سے نو سو نناویں۔ اس وقت خوف سے بچہ بوڑھا ہوجائے گا اور ہر حمل والی اپنے حمل گرا دے گی اور لوگوں کو تو مدہوش دیکھے گا۔ حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔ بلکہ اللہ کا عذاب ہی سخت ہوتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ ایک کون ہوگا؟ آپؐ نے فرمایا: تم خوش رہو۔ کیونکہ تم میں سے ایک آدمی ہوگا اور یاجوج اور ماجوج میں سے ایک ہزار۔ اس کے بعد پھر آپؐ نے فرمایا: اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں امید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں تم چوتھائی ہوگے۔ ہم نے یہ سن کر نعرئہ تکبیر لگایا۔ آپؐ نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں تم تہائی ہوگے۔ ہم نے یہ سن کر پھر نعرئہ تکبیر لگایا۔ آپؐ نے فرمایا: میں امید رکھتا ہوں کہ جنتیوں میں تم آدھے ہوگے۔ ہم نے پھر نعرئہ تکبیر لگایا۔ تب آپؐ نے فرمایا: تم لوگوں میں ایسے ہی ہو جیسے سیاہ بال سفید بیل کے جسم میں یا فرمایا: جیسے سفید بال سیاہ بیل کے جسم میں۔
(تشریح)محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں خبردی۔ مغیرہ بن نعمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: سعید بن جبیر نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: ننگے پائوں، ننگے بدن، بن ختنہ تمہیں اُٹھایا جائے گا۔ یہ کہہ کر آپؐ نے یہ آیت پڑھی یعنی جیسے ہم نے پیدائش کو پہلے پہل شروع کیا ویسے ہم دوبارہ پیداکریں گے۔ ہمارے ذمہ یہ وعدہ ہے جسے ہم ضرور پورا کریں گے۔ آپؐ نے فرمایا: قیامت کے روز سب سے پہلے جسے لباس پہنایا جائے گا، ابراہیم ؑ ہوں گے اور میرے ساتھیوں میں سے کچھ لوگوں کو بائیں طرف پکڑ کر لے جائیں گے۔ میں کہوں گا: یہ میرے ساتھی ہیں۔ میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا:٭ جب سے تم ان سے جدا ہوئے، یہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرے رہے ہیں۔ تب میں اسی طرح کہوں گا جس طرح اس نیک بندے (حضرت عیسیٰؑ) نے کہا تھا: میں جب تک ان میں رہا، ان کا نگران رہا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان کا نگران تھا۔ ۔۔۔ یقینا تو کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔
اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میرے بھائی عبدالحمید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن ابی ذئب سے، انہوں نے سعید مقبری سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ آزر سے قیامت کے روز ملیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ آزر کے منہ پر سیاہی اور گرد چھائی ہوگی۔ حضرت ابراہیم ؑان سے کہیں گے: کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا، میری نافرمانی نہ کریں؟ ان کا باپ کہے گا: آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم ؑ کہیں گے: اے میرے ربّ تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس روز وہ اُٹھائے جائیں گے تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ اس سے بڑھ کر ذلیل کرنے والی رسوائی اور کونسی ہوگی کہ میرا باپ رحمت الٰہی سے دور رہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے۔ پھر کہا جائے گا: ابراہیم ؑ تیرے پائوں تلے کیا ہے؟ وہ دیکھیں گے کہ ایک بجّو ہے جو نجاست میں لتھڑا ہوا ہے۔ اسے ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔
یحيٰ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: (عبداللہ) ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عمرو (بن حارث) نے مجھے بتایا کہ بکیر نے انہیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ابن عباسؓ کے غلام کریب سے، کریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ اس میں حضرت ابراہیم ؑ کی مورت اور حضرت مریم ؑکی مورت دیکھی۔ آپؐ نے فرمایا: انہیں کیا ہوگیا ہے۔ وہ تو سن چکے ہیں کہ ملائکہ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں مورت ہو۔ یہ دیکھو! ابراہیم ؑکی تصویر بنائی ہوئی ہے۔ بھلا انہیں کیا واسطہ کہ (تیروں سے) فال لیتے۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں جب مورتیں دیکھیں تو آپؐ اس کے اندر نہیں گئے، یہاں تک کہ حکم دے کر انہیں مٹا دیا گیا۔ اور آپؐ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو دیکھا کہ ان کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کافروں کو ہلاک کرے۔ بخدا ن بزرگوں نے تو کبھی بھی تیروں سے فال نہیں لی۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ بن سعید نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ (عمری) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سعید بن ابی سعید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ کسی نے پوچھا: یا رسول اللہ! لوگوں میں سے کون زیادہ معزز ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ان میں سے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔ لوگوں نے کہا: اس کے متعلق ہم آپؐ سے نہیں پوچھتے۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر یوسف جو نبی اللہ تھے۔ نبی اللہ کے بیٹے تھے۔ }نبی اللہ کے پوتے تھے۔٭{ خلیل اللہ کے پڑپوتے تھے۔ لوگوں نے کہا: اس کے متعلق بھی ہم آپؐ سے نہیں پوچھ رہے۔ آپؐ نے فرمایا: تو کیا عربوں کے خاندان سے متعلق تم پوچھتے ہو؟ ان میں سے جو جاہلیت میں اچھے تھے اسلام میں بھی وہ اچھے ہیں بشرطیکہ دین کا علم حاصل کریں۔ اس حدیث کو ابواُسامہ اور معتمر نے بھی عبیداللہ سے بروایت سعید نقل کیا۔ سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
بیان بن عمرو نے مجھیبتایا۔ نضر(بن شمیل) نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن عون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مجاہد سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اور لوگوں نے ان سے دجال کا ذکر کیا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر یا ک ف ر لکھا ہوا ہوگا۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا: میں نے یہ نہیں سنا۔ لیکن آپؐ نے فرمایا تھا: حضرت ابراہیمؑ جو ہیں اگر تم ان کو دیکھنا چاہو تو تم اپنے ساتھی کو (یعنی مجھے) دیکھ لو اور حضرت موسیٰ ؑ جو ہیں تو وہ گٹھیلے بدن گندم گوں سرخ اونٹ پر سوار تھے جس کی تھوتھنی میں نکیل تھی جو کھجور کی چھال کی تھی۔ گویا میں انہیں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک نالے میں اترے ہیں۔