بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 257 hadith
محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (ثقفی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے، خالد نے انس بن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک خاندان کو ملنے گئے اور آپؐ نے ان کے ہاں کھانا کھایا۔ جب آپؐ نے جانے کا ارادہ کیا تو آپؐ نے اس گھر میں ایک جگہ کے متعلق حکم دیا تو آپؐ کے لیے ایک چٹائی کو پانی ڈال کر صاف کیا گیا۔ پھر آپؐ نے اس پر نماز پڑھی اور ان کے لئے دعا کی۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حمید (طویل) سے، حمید نے حضرت انسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب حضرت عبدالرحمٰنؓ ہمارے پاس آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اور حضرت سعد بن ربیعؓ کو بھائی بھائی بنایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کو) فرمایا: ولیمہ کرو گو ایک بکری ہی سہی۔
محمد بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن زکریا نے ہمیں بتایا۔ عاصم (بن سلیمان اَحوَل) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالکؓ سے پوچھا: کیا آپؓ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام میں حلف نہیں؟ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں قریش اور انصار کے درمیان عہد و پیمان کرائے۔
(محمد بن عبداللہ) ابن نمیر نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) ابن ادریس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس (بن ابی حازم) سے، قیس نے حضرت جریرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب سے میں مسلمان ہوا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پردہ نہیں کروایا اور جب بھی آپؐ نے دیکھا تو ضرور آپؐ مجھ سے خندہ پیشانی سے پیش آئے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد (بن عبدالوارث) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔ کہا: یحيٰ بن ابی اسحاق نے مجھے بتایا۔ وہ کہتے تھے: مجھے سالم بن عبداللہ نے پوچھا: استبرق کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا: وہ دیباج جو موٹا اور کُھردرا ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) سے سنا۔ وہ کہتے تھے کہ حضرت عمرؓ نے ایک شخص کے پاس استبرق کا ایک جوڑا دیکھا تو وہ اس جوڑے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپؐ اس کو خرید لیں اور لوگوں کے نمائندوں سے ملاقات کرنے کے لئے جب وہ آپؐ کے پاس آئیں اسے پہنا کریں۔ آپؐ نے فرمایا: ریشمی کپڑا تو وہی پہنتا ہے جس کے لئے (بھلائی كا) کوئی حصہ نہ ہو۔ پھر اس واقعہ پر ایک مدت گزری جو گزری۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک جوڑا بھیجا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسے لے آئے اور کہنے لگے: آپؐ نے مجھے یہ بھیجا ہے حالانکہ آپؐ اس قسم کے جوڑے کے متعلق وہ کچھ کہہ چکے ہیں جو کہہ چکے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے تو تم کو اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس کو بیچ کر کچھ مال حاصل کرو۔ چنانچہ اس حدیث کی وجہ سے حضرت ابن عمرؓ کپڑے میں ریشمی بیل بوٹے بھی ناپسند کرتے تھے۔
حبان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زُہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رفاعہ قرظیؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور اس کو قطعی طلاق دی۔ تو اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیرؓ نے اس سے نکاح کرلیا پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! وہ رفاعہؓ کے پاس تھی اور اس نے اس کو تین طلاقوں میں سے آخری طلاق بھی دے دی اور اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیرؓ نے اس سے نکاح کرلیا اور بات یہ ہے کہ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! اس کے ساتھ تو ایسا ہی ہے۔ اپنی اوڑھنی کے کنارے کو لے کر کہا: اس کنارے کی طرح ہی ہے۔ عروہ کہتے تھے: اور اس وقت حضرت ابوبکرؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور سعید بن عاص کے بیٹے (خالدؓ) حجرے کے دروازے پر بیٹھے تھے تا انہیں اندر آنے کی اجازت دی جائے۔ یہ سن کر خالدؓ پکارنے لگے: ابوبکرؓ ابوبکرؓ! کیا آپؓ اس کو اس بات سے ڈانتے نہیں جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھول کر بیان کررہی ہے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرائے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: شاید تم چاہتی ہو کہ رفاعہؓ کے پاس پھر چلی جاؤ۔ اس وقت تک نہیں جب تک کہ تم اس سے مزہ نہ اٹھاؤ اور وہ تم سے مزہ نہ اٹھائے۔
(تشریح)اسماعیل (بن ابی اویس) نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے، عبدالحمید نے محمد بن سعد سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی۔ اس وقت آپؐ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں تھیں جو آپؐ سے خرچ مانگ رہی تھیں اور آپؐ سے بہت مطالبے کررہی تھیں۔ ان کی آوازیں آپؐ کی آوازسے زیادہ بلند تھیں۔ جب حضرت عمرؓ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو جلدی سے پردے میں چلی گئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی۔ وہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ آپؐ کو ہمیشہ ہنستا رکھے، میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے ان عورتوں سے تعجب ہوا، جو (ابھی) میرے پاس تھیں۔ جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو جلدی سے پردہ میں چلی گئیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ زیادہ مستحق ہیں کہ وہ آپؐ سے جھینپیں۔ پھر وہ ان عورتوں سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے: اری اپنی جانوں کی دشمن ! کیا تم مجھ سے جھینپتی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں جھینپتی۔ وہ بولیں: تم بہت اَکھڑ اور سخت مزاج ہو، رسول اللہ ﷺ ایسے نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جب بھی شیطان تم سے کسی راستے پر چلتے ہوئے ملا تو ضرور ہی اس نے تمہارا راستہ چھوڑ کر کوئی اور راستہ لیا۔
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے، عمرو نے ابوالعباس (سائب) سے، ابوالعباس نے حضرت (عبداللہ) ابن عمرؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے تو آپؐ نے فرمایا: ہم انشاء اللہ کل لَوٹیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہم تو نہیں جائیں گے جب تک کہ اس کو فتح نہ کر لیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل صبح لڑائی شروع کردو۔ چنانچہ وہ صبح کو لڑنے کے لئے گئے اور ان سے نہایت سختی سے لڑائی کی اور انہیں بہت زخم لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم انشاء اللہ کل لَوٹ جائیں گے۔ حضرت عبداللہؓ کہتے تھے: یہ سن کر وہ سب خاموش رہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان (بن عیینہ) نے یہ سارا واقعہ بیان کیا۔
موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ہلاک ہوگیا، رمضان میں مَیں اپنی بیوی سے مباشرت کر بیٹھا۔ آپؐ نے فرمایا: ایک گردن آزاد کردو۔ کہنے لگا: میرے پاس نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: دو مہینے لگاتار روزے رکھو۔ کہنے لگا: میں نہیں رکھ سکتا۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔ وہ کہنے لگا: میں اس کی بھی طاقت نہیں پاتا۔ اتنے میں آپؐ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ ابراہیم نے کہا: عَرَق ٹوکرے کو کہتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ تم یہ صدقہ میں دے دو۔ کہنے لگا: کیا اُس کو جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دو پتھریلے میدانوں کے درمیان کوئی بھی گھر والے ایسے نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہوں۔ نبی ﷺ اتنا ہنسے کہ آپؐ کے دانت ظاہر ہوگئے۔ آپؐ نے فرمایا: تب تم ہی لے لو۔
عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن مالکؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا اور آپؐ پر نجرانی چادر تھی جس کا حاشیہ موٹا تھا۔ اتنے میں ایک گنوار آپؐ سے آملا اور آپؐ کی چادر کو پکڑ کر زور سے کھینچا۔ حضرت انسؓ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گردن کے اس حصے کو دیکھا جو کندھے سے ملا ہوتا ہے۔ (دیکھا کہ) اس کے زور سے کھینچنے سے چادر کے حاشیہ نے اس پر نشان ڈال دئے تھے۔ (کھینچ کر) وہ کہنے لگا: محمدؐ! اللہ کے اس مال سے جو تمہارے پاس ہے مجھے بھی کچھ دینے کے لئے حکم دو۔ تو آپؐ نے مڑ کر اس کو دیکھا اور ہنس دئے اور پھر اس کو دینے کے لئے فرمایا۔