بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے, انہوں نے مجاہد سے, مجاہد نے طاؤس سے, طاؤس نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا اور روزہ رکھا۔ جب آپؐ عسفان پہنچے تو آپؐ نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور دن کے وقت پیا تا لوگ آپؐ کو دیکھیں کہ آپؐ روزہ دار نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ آپؐ مکہ میں آئے۔ طاؤس نے کہا: حضرت ابن عباسؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا۔ اس لئے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معاویہ بن قرہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس روز مکہ فتح ہوا, دیکھا کہ آپؐ اپنی اونٹنی پر سوار ہیں اور سورۂ فتح تلاوت کررہے ہیں۔ خوش الحانی سے اسے پڑھ رہے ہیں اور انہوں نے کہا: اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ میرے اردگرد اکٹھے ہو جائیں گے تو میں بھی اسی طرح خوش الحانی سے تلاوت کرتا، جس طرح آپؐ نے تلاوت کی تھی۔
سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ہمیں بتایا کہ سعدان بن یحيٰ نے ہم سے بیان کیا کہ محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سے, زہری نے علی بن حسین (زین العابدین) سے, انہوں نے عمرو بن عثمان سے, عمرو نے حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت کی کہ انہوں نے فتح مکہ کے سفر میں پوچھا: یا رسول اللہ! کل آپؐ کا قیام کہاں ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی ٹھکانہ چھوڑا ہے؟
ابوالیمان نے ہمیں بتایا کہ شعیب نے ہم سے بیان کیا کہ ابوزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن (بن ہرمز) سے, انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انشاء اللہ کل جب اللہ تعالیٰ فتح دے گا تو ہماری فرودگاہ خیف (بنی کنانہ) ہوگی جہاں قریش نے کفر پر آپس میں قسمیں کھائی تھیں۔
موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا کہ ابن شہاب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے, انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین کا قصد کیا۔ فرمایا: ہمارا پڑاؤ کل انشاء اللہ خیف بنی کنانہ میں ہوگا جہاں قریش نے کفر پر آپس میں قسمیں کھائی تھیں۔
عبید بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ نے فتح (مکہ) کے سال کوچ کیا تو قریش کو یہ خبر پہنچی۔ تب ابوسفیان بن حرب, حکیم بن حزام اور بُدَیل بن ورقاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حالات کی جستجو میں نکلے۔ وہ چل پڑے یہاں تک کہ مرالظہران مقام پر پہنچے تو انہوں نے کیا دیکھا کہ بے شمار آگیں روشن ہیں، جیسے (حج کے موقع پر ) مقامِ عرفات کی آگیں ہوتی ہیں۔ ابوسفیان نے کہا: یہ کیسی ہیں؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عرفات کی آگیں ہیں۔ بُدَیل بن ورقاء نے کہا: بنوعمرو (خزاعہ) کی آگیں معلوم ہوتی ہیں۔ ابوسفیان نے کہا: عمرو کا قبیلہ اس تعداد سے بہت کم ہے۔ اتنے میں ان کو رسول اللہ ﷺ کے پہرہ داروں میں سے کچھ لوگوں نے دیکھ لیا اور اُن کو پکڑ کر گرفتار کرلیا اور پھر اُن کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے۔ ابوسفیان تو مسلمان ہوگیا۔ جب آپؐ چلے تو آپؐ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا: ابوسفیان کو پہاڑ کے درے پر روکے رکھنا تاکہ وہ مسلمانوں (کی فوج) کو دیکھ لے۔ چنانچہ حضرت عباسؓ نے ان کو روکے رکھا۔ قبائل نبی ﷺ کے ساتھ گزرنے لگے۔ ایک ایک دستہ فوج ابوسفیان کے سامنے سے گزرتا گیا۔ جب ایک لشکر گزرا تو ابوسفیان نے کہا: عباسؓ! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ غفار کے لوگ ہیں۔ ابوسفیان نے کہا: مجھے غفار سے کیا سروکار۔ پھر جہینہ گزرے۔ ابوسفیان نے ویسے ہی کہا۔ پھر سعد بن ہُذیم گزرے۔ پھر اس نے ویسے ہی کہا۔ پھر سلیم گزرے۔ پھر اس نے ویسے ہی کہا۔ یہاں تک کہ آخر میں ایک لشکر ایسا آیا کہ ویسا اس نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ابوسفیان نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ حضرت عباسؓ نے کہا: انصار ہیں۔ ان کے سردار سعد بن عبادہؓ ہیں، جن کے ساتھ عَلم ہے۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے پکار کر کہا: ابوسفیان! آج کا روز گھمسان کی لڑائی کا روز ہے۔ آج کعبہ میں لڑائی حلال ہوگئی۔ ابوسفیانؓ نے یہ سن کر کہا: عباسؓ! بربادی کا یہ دن کیا خوب ہوگا۔ (اگر مقابلہ کا موقع مل جاتا ) پھر ایک اور دستہ فوج آیا اور وہ تمام لشکروں سے چھوٹا تھا۔ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور آپؐ کے ساتھی مہاجرین تھے اور نبی ﷺ کا عَلَم حضرت زبیر بن عوامؓ کے پاس تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیانؓ کے پاس سے گزرے، ابوسفیانؓ نے کہا: آپؐ کو علم نہیں کہ سعد بن عبادہؓ نے کیا کہا؟ آپؐ نے پوچھا: کیا کہا؟ اس نے کہا: ایسا ایسا کہا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:سعد نے درست نہیں کہا بلکہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ کعبہ کی عظمت قائم کرے گا اور کعبہ پر غلاف چڑھایا جائے گا۔ عروہ کہتے تھے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ آپؐ کا پرچم حجون میں نصب کیا جائے۔ اور اس سند سے عروہ یہ بھی کہتے تھے کہ نافع بن جبیر بن مطعم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عباسؓ سے سنا۔ وہ حضرت زبیر بن عوامؓ سے پوچھ رہے تھے۔ ابوعبداللہ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ سے فرمایا تھا کہ عَلَم یہاں نصب کرو؟ عروہ کہتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن حضرت خالد بن ولیدؓ سے فرمایا کہ وہ مکہ کے بالائی جانب سے یعنی کَداء کی طر ف سے مکہ میں داخل ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کُدا سے داخل ہوئے۔ اس دن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سواروں میں سے دو شخص مارے گئے۔ حضرت حبیش بن اشعرؓ اور حضرت کرز بن جابر فہریؓ۔
پھر آپؐ نے فرمایا: مومن کافر کا وارث نہیں ہوتا اور کافر مومن کا وارث نہیں ہوتا۔ زُہری سے پوچھاگیا۔ ابوطالب کا کون وارث ہوا؟ انہوں نے کہا: عقیل اور طالب ان کے وارث ہوئے۔معمرنے زُہری سے یوں نقل کیا: کل آپؐ اپنے اس حج میں کہاں اُتریں گے؟ اور یونس نے حج کا ذکر نہیں کیا اور نہ فتح کے زمانہ کا۔
یحيٰ بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے, انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے روز مکہ میں داخل ہوئے اور آپؐ کے سر پر خَود تھا۔ جب آپؐ نے اس کو اُتارا تو ایک شخص آیا, کہنے لگا: (عبداللہ) بن خطل کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اس کو قتل کردو۔ مالک نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے اُس دن احرام میں نہیں تھے۔
صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبد اللہ) بن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے, مجاہد نے ابومعمر سے, ابومعمر نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے روز مکہ میں داخل ہوئے اور خانہ کعبہ کے اردگرد اس وقت تین صد ساٹھ(۳۶۰) بت تھے۔ آپؐ ایک لکڑی سے جو آپؐ کے ہاتھ میں تھی اُن کو ٹھکرانے لگے اور فرماتے: حق آگیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے۔ حق آگیا ہے اور باطل (کوئی چیز) پیدا نہیں کرتا اور نہ (کسی ہلاک شدہ چیز کو) واپس لا سکتا ہے۔
اسحاق (بن منصور) نے مجھے بتایا کہ عبدالصمد نے ہم سے بیان کیا, (کہا:) میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایوب (سختیانی) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے, عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں آئے، آپؐ بیت اللہ میں داخل ہونے سے رُک گئے۔ کیونکہ اس کے اندر (دیویاں دیوتے) بت پڑے ہوئے تھے۔ آپؐ نے ان کی نسبت حکم دیا۔ وہ نکال دئیے گئے۔ پھر حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی مورتیاں بھی نکال دی گئیں، جن کے ہاتھ میں پانسے (یعنی فال نکالنے) کے تیر تھے۔ نبی ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا: اللہ ان مشرکوں کو ہلاک کرے، انہیں علم ہے کہ ان دونوں نے ان کے ذریعہ کبھی فال نہیں لی۔ اس کے بعد آپؐ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے (چاروں) کونوں میں تکبیر کہی اور باہر آئے۔ آپؐ نے وہاں نماز نہیں پڑھی۔ (عبدالصمد کی طرح) اس حدیث کو معمر نے بھی ایوب سے روایت کیا۔ اور وُہَیب (بن خالد) نے یوں کہا: ایوب نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے عکرمہ سے, عکرمہ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔
(تشریح)