بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
اور لیث (بن سعد) نے کہا: یونس نے مجھ سے بیان کیا,(کہا) نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے روز مکہ کی بلندجانب سے اپنی اونٹنی پر سوارہوکر آئے۔ اپنے پیچھے اسامہ بن زیدؓ کو بیٹھایا ہوا تھا اور آپؐ کے ساتھ بلالؓ تھے۔ نیز عثمان بن طلحہؓ تھے جو بیت اللہ کے دربانوں میں سے تھے۔ آکر آپؐ نے مسجد حرام میں اپنی اونٹنی بٹھا دی۔ آپؐ نے عثمانؓ سے فرمایا کہ بیت اللہ کی چابی لائیں (اور کعبہ کھولیں۔ چنانچہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھولا۔) رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لے گئے اور آپؐ کے ساتھ اُسامہ بن زیدؓ، بلالؓ اور عثمان بن طلحہؓ تھے۔ آپؐ اس میں دیر تک ٹھہرے رہے۔ پھر نکلے اور لوگ (اندر جانے کے لئے) لپکے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ پہلے تھے جو داخل ہوئے۔ انہوں نے حضرت بلالؓ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا۔ ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ تو حضرت بلالؓ نے اس جگہ کی طرف اشارہ کرکے انہیں بتایا جہاں آپؐ نے نماز پڑھی تھی۔ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) کہتے تھے: میں حضرت بلالؓ سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپؐ نے کتنی رکعتیں نماز پڑھی۔
عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے, ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس سال مکہ فتح ہوا، مکہ کی بلند جانب کَداء کی طرف سے داخل ہوئے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو (بن مرہ) سے, عمرو نے (عبدالرحمٰن) بن ابی لیلیٰ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہمیں سوائے حضرت امّ ہانی کے کسی نے نہیں بتایا کہ اس نے نبی
قتیبہ( بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے, انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے, عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ (انصاری) رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس سال مکہ فتح ہوا, یہ فرماتے سنا اور آپؐ اس وقت مکہ ہی میں تھے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے شراب کی فروخت حرام کی ہے۔
ابونُعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ اور قبیصہ (بن عقبہ) نے بھی ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن ابی اسحاق سے, انہوں نے حضرت انس(بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم (مکہ میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس دن ٹھہرے, نماز قصر کرتے رہے۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی۔ انہوں نے کہا کہ عاصم (احول) نے عکرمہ سے, عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں اُنیس دن ٹھہرے۔ (اس اثناء میں) دو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ (یعنی قصر کرتے رہے۔)
ہیثم بن خارجہ نے ہم سے بیان کیا کہ حفص بن میسرہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے, انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس سال مکہ فتح ہوا, اس کَداء کی طرف سے داخل ہوئے جو مکہ کی بلند سمت میں ہے۔ (حفص بن میسرہ کی طرح) ابواسامہ اور وہیب نے بھی کَداء کی بابت یہی بیان کیا۔
محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور (بن معتمر) سے, انہوں نے ابوالضحیٰ سے, ابوالضحیٰ نے مسروق سے, مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں یہ کہا کرتے تھے: پاک ذات ہے تو اے اللہ جو کہ ہمارا ربّ ہے اور اپنی حمد کے ساتھ ہے۔ اے اللہ! میری کمزوریوں پر پردہ پوشی فرما۔
ابونعمان نے ہم سے بیان کیاکہ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوبشر سے, انہوں نے سعید بن جبیر سے, سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عمر مجھے بھی ان بزرگ صحابہ کے ساتھ جو بدر کی جنگ میں شریک تھے اپنے پاس بلایا کرتے تھے۔ ان میں سے کسی نے کہا: آپ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ کیوں اندر بلالیتے ہیں حالانکہ اس کے برابر تو ہمارے بیٹے ہیں انہوں نے فرمایا: وہ تو اُن لوگوں میں سے ہے جن کا علم و فضل تم جانتے ہو۔ (کہتے تھے:) ایک دن حضرت عمر نے اُن (بزرگ صحابہ) کو بلایا اور مجھے بھی ان کے ساتھ بلا لیا۔ انہوں نے کہا: اور میں سمجھتا تھا کہ انہوں نے مجھے اُس دن محض اس لئے بلایا تھا کہ وہ میرے علم کو انہیں دکھائیں (کہ اللہ نے مجھے کیا سمجھ دی ہے۔) حضرت عمر نے اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ…… اوّل سے آخر سورة تک پڑھ کر (بزرگ صحابہ سے) پوچھا: تم اس سے کیا سمجھتے ہو؟ ان میں سے بعض نے کہا کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی حمد کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں، جب نصرت ملے اور ہمیں فتح ہو۔ اور اُن میں سے بعض نے کہا: ہمیں علم نہیں۔ یا اُن میں سے بعض نے کچھ بھی نہ کہا۔ حضرت عمر نے مجھے کہا: ابن عباس!کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں حضرت عمر نے کہا: تم کیا سمجھتے ہو؟ میں نے کہا: اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ہے جو اللہ نے آپؐ کو بتائی۔ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ سے یہ مراد ہے کہ جب اللہ کی مدد آجائے گی اور مکہ فتح ہوگا تو یہ تیری اجل مقدر کی علامت ہے۔ اس لئے تو اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اپنے لئے مغفرت طلب کر۔ یقیناً وہ رحمت کے بعد رحمت کرنے والا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: میں بھی اس کے متعلق یہی جانتا ہوں جو تم جانتے ہو۔
سعید بن شرحبیل نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (سعید) مقبری سے, سعید نے حضرت ابوشریح عدویؓ سے روایت کی کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا (جو اس وقت یزید کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا) اور وہ اس وقت مکہ کی طرف فوج بھیج رہا تھا۔ اے امیر! مجھے اجازت دیں کہ میں آپ سے ایک ایسی بات بیان کروں جس کو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن صبح کو بیان کیا۔ اس کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا اور جب آپؐ وہ بات بیان فرما رہے تھے میری دونوں آنکھیں آپؐ کو دیکھ رہی تھیں۔ آپؐ نے اللہ کی حمد اور ثناء بیان کی ۔ پھر فرمایا: اللہ نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے اور لوگوں نے اس کو حرم قرار نہیں دیا۔ کسی بھی شخص کے لئے جائز نہ ہوگا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو کہ اس میں خون بہائے اور نہ وہاں کوئی درخت کاٹے اور اگر کسی نے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لڑنے کی وجہ سے لڑائی کی اجازت سمجھی تو تم اسے یہ کہنا کہ اللہ نے صرف اپنے رسول(ﷺ) کو اجازت دی تھی اور اس نے تمہیں اجازت نہیں دی اور مجھے بھی اس کے متعلق دن کی ایک گھڑی بھر کے لئے اجازت دی گئی تھی اور اب اس کی حرمت ویسی کی ویسی پھر قائم ہوگئی ہے جیسے کہ کل تھی اور چاہیے کہ جو حاضر ہے وہ غیرحاضر کو یہ بات پہنچا دے۔ حضرت ابوشریح ؓ سے پوچھا گیا: عمرو نے آپؓ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے کہا کہ عمرو کہنے لگے: ابوشریح! میں آپؓ سے بڑھ کر یہ جانتا ہوں کہ حرم کسی مجرم کو پناہ نہیں دیتا اور نہ ایسے شخص کو جو خون کرکے بھاگ گیا ہو اور نہ اُسے جو کوئی خرابی کرکے بھاگ جائے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری) نے کہا کہ اس حدیث میں جو خَرْبَة کا لفظ ہے اس سے مراد شرارت و نقصان ہے۔