بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابوشہاب (عبد ربہ بن نافع) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عاصم(اَحوَل) سے, عاصم نے عکرمہ سے, انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (فتح مکہ) میں انیس دن رہے۔ نماز قصر کرتے تھے اور حضرت ابن عباس نے کہا اور ہم انیس دن تک جو بھی سفر ہو، قصر ہی کرتے ہیں اور اگر اس سے زیادہ ٹھہریں تو پوری نماز پڑھتے ہیں۔
(تشریح)اور لیث (بن سعد) نے کہا: یونس نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) حضرت عبداللہ بن ثعلبہ بن صُعَیرؓ نے مجھے بتایا: جس سال مکہ فتح ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (محبت سے) ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام (بن یوسف) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے, معمر نے زُہری سے, انہوں نے حضرت سُنین ابوجمیلہؓ سے روایت کی۔ زُہری نے کہا: حضرت ابوجمیلہؓ نے ہمیں یہ حدیث بتائی اور ہم اس وقت (سعید) بن مسیب کے پاس تھے۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابوجمیلہ کہا کرتے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور وہ آپؐ کے ساتھ جس سال مکہ فتح ہوا تھا, گئے تھے۔
۴۳۰۲: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے, ایوب نے ابوقلابہ سے, ابوقلابہ نے حضرت عمرو بن سلمہؓ سے روایت کی۔ ایوب کہتے تھے: مجھ سے ابوقلابہ نے کہا: کیا تم حضرت عمرو بن سلمہؓ سے نہیں ملو گے؟ ان سے مل کر یہ مسئلہ پوچھو۔ ایوب کہتے تھے: چنانچہ میں حضرت عمرو بن سلمہؓ سے ملا اور ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: ہم ایک ایسے پانی کے پاس رہتے تھے کہ جہاں سے لوگوں کا گزر تھا اور ہمارے پاس سے سوار گزرا کرتے تھے اور ہم ان سے پوچھا کرتے تھے: لوگوں کا کیا حال ہے اور ان کی کیسے گزر رہی ہے؟ یہ (مدعی نبوت) شخص کیسا ہے؟ وہ کہتے تھے: وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ نے اس کو مبعوث فرمایا ہے اور اس نے اس کو وحی کی ہے یا (کہا:) اور اللہ نے اس کو یہ یہ وحی کی ہے۔ میں یہ باتیں یاد کرلیا کرتا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سب باتیں میرے سینے میں گڑ جاتی ہیں اور عرب لوگ مسلمان ہونے کے لئے فتح مکہ کا انتظار کرتے تھے۔ کہتے تھے: اس (مدعی نبوت) کو اپنی قوم سے نپٹ لینے دو۔ اگر غالب آگیا تو سچا نبی ہے۔ جب فتح مکہ کا موقع ہوا تو ہر ایک قوم مسلمان ہونے کے لئے لپکی اور میرے والد اپنی قوم کے مسلمان ہونے سے پہلے جلدی سے مسلمان ہوگئے تھے۔ جب وہ (اپنی قوم کے پاس) آئے, کہنے لگے: میں تمہارے پاس اللہ کی قسم اس نبی کی طرف سے ہوکر آیا ہوں جو سچا نبی ہے اور اس نبی نے یہ کہا ہے کہ تم فلاں نماز فلاں وقت میں اور فلاں نماز فلاں وقت پر پڑھو اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک اذان دے اور تمہارے آگے ہوکر تم کو وہ نماز پڑھائے جو تم میں سے زیادہ قرآن جانتا ہو۔ انہوں نے دیکھا تو مجھ سے بڑھ کر کوئی قرآن جاننے والا نہ تھا۔ اس لئے کہ میں سواروں سے سُن کر آیتیں یاد کرلیا کرتا تھا۔ اس لئے انہوں نے مجھے ہی (امامت کیلئے) اپنے آگے کیا اور میں اس وقت چھ یا سات سال کا تھا اور میرے تن پر صرف ایک چادر تھی۔ جب میں سجدہ کرتا تو وہ سمٹ جاتی اور میں ننگا ہوجاتا۔ قبیلہ کی ایک عورت بولی: کیا تم اپنے قاری کے سُرین ہم سے ڈھانکو گے نہیں؟ تو انہوں نے ایک کپڑا خریدا اور (جسم کے مطابق) میرے لیے ایک قمیص بنائی۔ میں کسی بات سے بھی اتنا خوش نہیں ہوا تھا جتنا کہ میں اس قمیص سے ہوا۔
عبداللہ بن مسلمہ(قعنبی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (امام) مالک سے, مالک نے ابن شہاب سے, انہوں نے عروہ بن زبیر سے, انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے, حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔اور لیث (بن سعد) نے کہا: یونس نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ کہتی تھیں: عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد (بن ابی وقاص) کو یہ وصیت کی تھی کہ وہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا لے لے اور عتبہ نے کہا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے وقت مکہ میں آئے، سعد بن ابی وقاص زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور ان کے ساتھ عبد بن زمعہؓ بھی آگئے۔ سعد بن ابی وقاص نے کہا: یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہؓ نے کہا: یارسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے، یہ زمعہ کا بیٹا ہے جو (اُن کی لونڈی کے پیٹ سے) اُن کے بستر پر پیدا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمعہ کی لونڈی کے اس بچے کو دیکھا تو سب لوگوں میں اس کی صورت عتبہ بن ابی وقاص سے بہت ملتی ہوئی پائی۔ مگر رسول اللہﷺ نے فرمایا: عبد بن زمعہ! تم اس بچے کو لے لو، یہ تمہارا بھائی ہے کیونکہ تمہارے باپ کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (امّ المؤمنین حضرت سودہ بنت زمعہؓ سے) فرمایا: سودہ! اس سے پردہ کریں کیونکہ آپؐ نے عتبہ بن ابی وقاص کی مشابہت اس میں دیکھی۔ ابن شہاب نے کہا: حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بچہ اس بستر (کے مالک) کا ہوتا ہے (جس پر وہ بچہ پیدا ہو) اور بدکار کو پتھراؤ کیا جائے گا۔ اور ابن شہاب نے کہا کہ حضرت ابوہریرہؓ یہ حدیث اعلانیہ بیان کرتے تھے۔
محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ یونس نے ہمیں بتایا کہ زُہری سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ فتح مکہ کے دوران چوری کی۔ اس کی قوم کے لوگ گھبرا کر حضرت اسامہ بن زید کی طرف گئے کہ وہ اُن سے آنحضرتﷺ کے پاس سفارش کرائیں۔ عروہ کہتے تھے: جب حضرت اسامہ نے آپؐ سے اُس عورت کے متعلق بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم مجھ سے اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے ایک سزا کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟ حضرت اسامہ نے کہا: یارسول اللہ! میرے لئے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ جب شام ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (لوگوں کے درمیان) تقریر کے لئے کھڑے ہوئے۔ پہلے آپؐ نے اللہ کی وہ تعریف کی جو اُس کے شایانِ شان ہے۔ پھر اس کے بعد فرمایا: تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے تباہ کیا کہ جب ان میں سے کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور جب کوئی چھوٹا آدمی چوری کرتا تو اس کو سزا دیتے۔ اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد(ﷺ) کی جان ہے، اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ ضرور کاٹوں گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چوری کرنے والی عورت کی بابت حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اس کی توبہ اچھی ہوئی اور اس نے شادی بھی کی۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: وہ اس کے بعد میرے پاس آیا کرتی تھی اور جو اُس کی حاجت ہوتی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتی۔
عمرو بن خالد نے ہمیں بتایا کہ زُہَیر (بن معاویہ) نے ہم سے بیان کیا, کہا: عاصم (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا کہ ابوعثمان (نہدی) سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) حضرت مجاشعؓ (بن مسعود) نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی (مجالدؓ) کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! میں اپنے بھائی کو لایا ہوں تا آپؐ اس سے ہجرت کی بیعت لیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہجرت کا ثواب ہجرت کرنے والے لے چکے۔ میں نے پوچھا: آپؐ کس بات کی اس سے بیعت لیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: میں اس سے اسلام, ایمان اور جہاد کی بیعت لوں گا۔ (ابوعثمان نہدی کہتے تھے:) پھر میں حضرت ابومعبد (مجالدؓ) سے ملا اور وہ دونوں بھائیوں میں سے بڑے تھے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مجاشعؓ نے سچ کہا ہے۔
عمرو بن خالد نے ہمیں بتایا کہ زُہَیر (بن معاویہ) نے ہم سے بیان کیا, کہا: عاصم (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا کہ ابوعثمان (نہدی) سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) حضرت مجاشعؓ (بن مسعود) نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی (مجالدؓ) کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! میں اپنے بھائی کو لایا ہوں تا آپؐ اس سے ہجرت کی بیعت لیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہجرت کا ثواب ہجرت کرنے والے لے چکے۔ میں نے پوچھا: آپؐ کس بات کی اس سے بیعت لیں گے؟ آپؐ نے فرمایا: میں اس سے اسلام, ایمان اور جہاد کی بیعت لوں گا۔ (ابوعثمان نہدی کہتے تھے:) پھر میں حضرت ابومعبد (مجالدؓ) سے ملا اور وہ دونوں بھائیوں میں سے بڑے تھے اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مجاشعؓ نے سچ کہا ہے۔
محمد بن ابی بکر نے ہمیں بتایا کہ فُضَیل بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ عاصم (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعثمان نہدی سے, انہوں نے حضرت مجاشع بن مسعود سے روایت کی کہ میں ابومعبدؓ کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا کہ آپؐ اس سے ہجرت کرنے کی بیعت لیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہجرت تو اُن لوگوں کے لئے گزر گئی جو اس کے حق دار تھے۔ میں اس سے اسلام اور جہاد کی بیعت لیتا ہوں۔ (ابوعثمان کہتے تھے:) پھر میں حضرت ابومعبد سے ملا اور اُن سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مجاشعؓ نے سچ کہا ہے۔ اور خالد (حذاء ) نے ابوعثمان سے بروایت حضرت مجاشع یوں نقل کیا کہ وہ اپنے بھائی حضرت مجالدؓ کو لے کر آئے۔
محمد بن ابی بکر نے ہمیں بتایا کہ فُضَیل بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ عاصم (بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعثمان نہدی سے, انہوں نے حضرت مجاشع بن مسعود سے روایت کی کہ میں ابومعبدؓ کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا کہ آپؐ اس سے ہجرت کرنے کی بیعت لیں۔ آپؐ نے فرمایا: ہجرت تو اُن لوگوں کے لئے گزر گئی جو اس کے حق دار تھے۔ میں اس سے اسلام اور جہاد کی بیعت لیتا ہوں۔ (ابوعثمان کہتے تھے:) پھر میں حضرت ابومعبد سے ملا اور اُن سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مجاشعؓ نے سچ کہا ہے۔ اور خالد (حذاء ) نے ابوعثمان سے بروایت حضرت مجاشع یوں نقل کیا کہ وہ اپنے بھائی حضرت مجالدؓ کو لے کر آئے۔