بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 520 hadith
یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل (بن یونس) سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع یہودی کی طرف انصار کے کچھ آدمی بھیجے اور عبداللہ بن عتیکؓ کو اُن پر امیر مقرر کیا۔ ابورافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ایذا دیا کرتا تھا اور آپؐ کے خلاف دشمنوں کی مدد کرتا تھا۔ وہ اپنے قلعہ میں جو حجاز میں تھا، رہتا تھا۔ جب وہ لوگ اس کے قریب پہنچے تو سورج غروب ہوچکا تھا اور لوگ اپنے جانوروں کے ریوڑ لے کر واپس ہوچکے تھے۔ عبداللہ (بن عتیکؓ) نے نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی حیلہ کرتا ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ میں اندر چلا جاؤں۔ وہ گئے اور دروازے کے قریب پہنچ گئے ۔ پھر کپڑا اوڑھ لیا۔ جیسا کہ وہ قضائے حاجت کررہے ہیں اور سب لوگ اندر جاچکے تھے۔ اتنے میں دربان آیا۔ ان کو آواز دی (کہا: ) بندۂ خدا! اگر تم آنا چاہتے ہو تو آجاؤ۔ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں۔ میں اندر گیا اور گھات میں بیٹھ گیا۔ جب لوگ اندر آچکے اس نے دروازہ بند کیا۔ پھر کنجیاں ایک کیل پر لٹکا دیں۔ عبداللہ بن عتیکؓ کہتے تھے: میں اُٹھ کر کنجیوں کی طرف گیا اور اُن کو لے کر دروازہ کھولا اور لوگ ابورافع کے پاس بات چیت کرنے کے لئے رات کو بیٹھا کرتے تھے۔ وہ اپنے بالا خانہ میں رہتا تھا۔ جب باتیں کرنے والے اس کے پاس سے چلے گئے تو میں اس کی طرف بالا خانہ میں گیا اور جو دروازہ بھی کھولتا اُس کو اندر سے بند کرتا جاتا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر لوگ میری آہٹ پابھی لیں تو جب تک میں اسے مار نہ لوں مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔میں اس کے پاس پہنچا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک اندھیرے کمرے میں اپنے کنبے کے درمیان لیٹا ہوا ہے۔ مجھے پتہ نہ چلا کہ وہ کمرہ میں کہا ہے۔ میں نے کہا: ابورافع! کہنے لگا: کون ہے؟ مَیں آواز کی طرف لپکا۔ تلوار سے ایک ضرب لگائی اور میں دہشت زدہ تھا۔ میں سمجھا کہ میں نے کچھ بھی نہ کیا اور ابورافع چلایا۔ تب میں کمرے سے باہر آگیا۔ تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہ میں پھر اس کے پاس گیا اور کہا: ابو رافع! یہ کیا آواز ہے؟ کہنے لگا: تیری ماں ہلاک! کوئی آدمی کمرے میں ہے، جس نے مجھ پر اپنی تلوار سے وار کیا ہے۔ عبداللہ بن عتیکؓ کہتے تھے: پھر میں نے ایک اور ضرب لگائی جس نے اس کو گھائل تو کردیا مگر وہ مرا نہیں اور اس کے بعد میں نے اس کے پیٹ پر تلوار کی نوک رکھی (اور اس کو اتنا دبایا) کہ اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی اور مجھے یقین ہوگیا کہ میں نے اس کو مار ڈالا ہے۔ پھر میں نے ایک ایک دروازہ کھولا اور سیڑھیوں تک پہنچ گیا۔ میں نے اپنا پاؤں رکھا اور سمجھاکہ زمین پر پہنچ گیا ہوں۔ میں گر پڑا۔ چاندنی رات تھی۔ میری پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ پھر پگڑی سے پنڈلی باندھ کر چل پڑا اور آکر دروازہ پر بیٹھ گیا اور (دل میں) کہنے لگا: آج رات باہر نہیں نکلوں گا، جب تک یہ نہ جان لوں کہ میں نے اسے مارڈالا ہے۔ جب مرغ نے بانگ دی تو موت کی خبر دینے والا قلعہ کی دیوار پر کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ابورافع تاجرِ حجاز کے مرنے کی اطلاع دیتا ہوں۔ یہ سن کر میں اپنے ساتھیوں کے پاس چلا آیا۔ میں نے کہا: بچ نکلو، اللہ نے ابورافع کو مار ڈالا ہے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپؐ سے ماجرا بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: اپنا پاؤں آگے کرو۔ میں نے اپنا پاؤں آگے کیا۔ آپؐ نے اس پر ہاتھ پھیرا۔ ایسا محسوس ہوا کہ مجھے ٹانگ میں کبھی درد ہی نہیں ہوا۔
ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب نے ہمیں خبردی۔ خالد(حذاء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اُحد کے دن فرمایا: یہ جبریل اپنے گھوڑے کا سر تھامے جنگی ہتھیار لگائے آپہنچے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عمرو (بن دینار) سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہتے تھے: ایک شخص نے جنگ اُحد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: بھلا بتلائیں کہ اگر میں مارا جاؤں میں کہاں ہوں گا؟ آپؐ نے فرمایا: جنت میں۔ یہ سن کر اُس نے کھجوریں جو اس کے ہاتھ میں تھیں پھینک دیں۔ پھر وہ ایسا لڑا کہ شہید ہوگیا۔
احمد بن عثمان نے ہم سے بیان کیا کہ شُرَیح نے جو مسلمہ کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔ (کہا:) ابراہیم بن یوسف (بن اسحاق) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے ابواسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عتیکؓ اور عبداللہ بن عتبہؓ کو کچھ لوگوں سمیت جو اُن کے ساتھ تھے ابورافع کی طرف بھیجا وہ چل پڑے۔ یہاں تک کہ قلعہ کے قریب پہنچے۔ عبداللہ بن عتیکؓ نے ان سے کہا: تم ٹھہرو اور میں جاکر دیکھتا ہوں ۔ وہ کہتے تھے: میں چپکے سے بہانہ ڈھونڈنے لگا کہ کسی طرح قلعے میں داخل ہوجاؤں۔ اسی اثنا میں قلعہ والوں نے ایک گدھا گم پایا۔ کہتے تھے: وہ روشنی لے کر اُس کی تلاش میں نکلے۔ کہتے تھے: میں ڈرا کہ کہیں میں پہچانا نہ جاؤں۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنا سر ڈھانک لیا، جیسا کہ میں قضائے حاجت کررہا ہوں۔ پھر دربان نے آواز دی۔ جس کو اندر آنا ہو دروازہ بند کرنے سے پہلے آجائے۔ اس پر میں بھی اندر چلا گیا اور پھر خرگاہ (گدھوں کے باندھنے کی جگہ) میں جو قلعہ کے دروازے کے پاس تھی چھپ رہا۔ لوگوں نے ابورافع کے پاس شام کا کھانا کھایا اور وہ باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ کچھ رات گزر گئی اور وہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ جب آوازیں مدھم ہوگئیں اور میں کوئی حرکت نہ سنتا تھا تو میں (اس طویلہ سے) باہر نکلا۔ انہوں نے کہا: میں نے پہلے ہی دربان کو دیکھ لیا تھا جہاں اس نے طاقچے میں قلعے کی چابی رکھی تھی۔ میں نے وہ لے لی اور قلعے کا دروازہ کھولا۔ کہتے تھے: میں نے اپنے دل میں خیال کیا اگر لوگ میری آہٹ پابھی لیں گے تو میں آہستہ سے چل دوں گا۔ پھر میں اُن کی کوٹھڑیوں کے دروازے کی طرف گیا اور ان کو باہر سے بند کردیا۔ پھر اس کے بعد ایک سیڑھی پر سے چڑھ کر میں ابورافع کے پاس گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ کمرہ تاریک ہے۔ چراغ گل ہوچکا ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ شخص کس جگہ پر ہے۔ میں نے کہا: ابورافع! وہ بولا: کون ہے؟ کہتے تھے: میں(اس کی) آواز کی طرف بڑھا اور پھر اس پر ایک ضرب لگائی۔ وہ چلایا، مگر اس ضرب نے کچھ نہ کیا۔ کہتے تھے: پھر میں آیا جیسا کہ میں اس کی مدد کو پہنچا ہوں۔ میں نے کہا: ابورافع! تمہیں کیا ہوا اور میں نے اپنی آواز بدلی۔ اس نے کہا: دیکھو ارے تمہاری ماں مرے۔ تعجب کی بات نہ بتاؤں؟ ابھی کوئی شخص میرے پاس آیا اور اس نے تلوار سے مجھ پر وار کیا ہے۔ کہتے تھے: پھر میں اس کی طرف لپکا اور ایک اور ضرب لگائی۔ مگر اُس سے بھی کچھ نہ ہوا۔ وہ چلایا اور اس کے گھر والے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کہتے تھے: پھر میں اس کے پاس آیا اور اپنی آواز بدلی۔ جیسے کوئی مدد کو پہنچتا ہے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہے۔ میں نے تلوار اس کے پیٹ پر رکھی اور اس پر جھک کر بوجھ ڈالا۔ یہاں تک کہ میں نے ہڈی کا چٹاخہ سنا۔ پھر میں گھبرایا ہوا باہر نکلا اور سیڑھی تک پہنچا۔ اُترنا چاہتا تھا کہ میں گر پڑا اور میرے پاؤں کا جوڑ نکل گیا اور میں نے اس کو باندھ لیا۔ پھر پاؤں اُٹھاتا ہوا جیسے قیدی چلتا ہے، اپنے ساتھیوں کے پاس جاپہنچا۔ میں نے کہا: چلے جاؤ اور رسول اللہ ﷺ کو خبر دو۔ کیونکہ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا، جب تک کہ موت کی خبر دینے والے کی آواز نہ سن لوں۔ جب صبح قریب ہوئی موت کی خبردینے والا(قلعے کی دیوار پر) چڑھا اور اس نے کہا: میں ابورافع کے مرنے کی خبر دیتا ہوں۔ عبداللہ بن عتیکؓ کہتے تھے: میں اُٹھ کر چلنے لگا تو مجھے کوئی تکلیف نہ تھی۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو نبی ﷺ کے پاس پہنچنے سے پہلے جالیا اور آپؐ کو (ابورافع کے قتل ہونے کی) خوشخبری دی۔
(تشریح): محمد بن عبدالرحیم(صاعقہ) نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا بن عدی نے ہمیں خبردی۔ (عبداللہ) بن مبارک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حیوہ سے، حیوہ نے یزید بن ابی حبیب سے، یزید نے ابوالخیر (مرثد بن عبداللہ) سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد اُحد کے شہیدوں پر نمازِ جنازہ پڑھی جیسے کوئی زندوں اور مُردوں کو الوداع کررہا ہو پھر اس کے بعد آپؐ منبر پر گئے اور فرمایا: میں تمہارے آگے تمہارا پیشرو ہوں گا اور میں تمہارا گواہ ہوں گا اور اب تم سے ملنے کا مقام حوضِ کوثر ٹھہرا ہے اور میں اس حوض کو یہاں سے جہاں میں کھڑا ہوں دیکھ رہا ہوں اور تمہارے متعلق مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ تم مشرک ہو جاؤ گے۔ لیکن تمہارے متعلق مجھے یہ ڈر ہے کہ اس دنیا کے بارے میں کہیں ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص نہ کرنے لگو۔ حضرت عقبہؓ کہتے تھے: اور یہ رسول اللہ ﷺ کا آخری دیدار تھا جو مجھے نصیب ہوا۔
عبیداللہ بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق (عمرو بن عبداللہ سبیعی) سے، انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اُحد کے دن ہم نے مشرکوں سے مقابلہ کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کا ایک دستہ گھاٹی پر بٹھا دیا اور حضرت عبداللہ (بن جبیرؓ) کو اُن پر امیر مقرر کیا اور فرمایا: تم اس جگہ سے نہ ہٹنا خواہ تم یہ بھی دیکھ لو کہ ہم ان پر غالب آگئے ہیں تو بھی اس جگہ کو نہ چھوڑنا اور اگر تم انہیں دیکھو کہ وہ ہم پر غالب آگئے ہیں تو بھی ہماری مدد کو نہ آنا۔جب ہماری کافروں سے مڈبھیڑ ہوئی تو وہ بھاگ گئے یہاں تک کہ میں نے (ان کی) عورتوں کو دیکھا کہ وہ پہاڑ میں بھاگ رہی ہیں، انہوں نے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اُٹھایا ہوا تھا، ان کی پازیبیں دکھائی دیتی تھیں۔ مسلمانوں نے کہنا شروع کردیا: غنیمت! غنیمت! حضرت عبداللہ (بن جبیرؓ) نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تاکید فرمائی تھی کہ تم اس جگہ سے نہ ہٹنا۔ وہ نہ مانے ۔ جب وہ نہ مانے (اور اپنی جگہ چھوڑ دی) تو مسلمانوں کے منہ پھیر دئیے گئے اور ستر آدمی مارے گئے۔ ابوسفیان ایک اونچے مقام پر چڑھ کر پکارا: کیا ان لوگوں میں محمد ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اس کو جواب نہ دو۔ پھر وہ پکارا: کیا ان لوگوں میں ابوقحافہ کا بیٹا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جواب نہ دو۔ پھر وہ پکارا: کیا ان لوگوں میں خطاب کا بیٹا ہے؟ (صحابہ چپ رہے۔) تب ابوسفیان کہنے لگا: یہ لوگ تو مارے گئے ہیں، اگر وہ زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے۔ حضرت عمرؓ اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بول اُٹھے: ارے اللہ کے دشمن! تو نے جھوٹ کہا ہے، اللہ اُس کو زندہ رکھے جو تجھے ذلیل کرتا رہے۔ ابوسفیان پکارا: ہبل کا بول بالا ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جواب دو۔ کہنے لگے: کیا کہیں؟ آپؐ نے فرمایا: کہو ، اللہ سب سے بلند اور سب سے بزرگ ہے۔ ابوسفیان بولا: عُزّیٰ دیوی ہماری مددگار ہے اور تمہاری کوئی بھی عُزّیٰ نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جواب دو۔ کہنے لگے: کیا کہیں؟ فرمایا: کہو، اللہ ہمارا مددگار ہے اورتمہارا کوئی مددگار نہیں ہے۔ ابوسفیان نے کہا: یہ دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی (میں جیت) کبھی تمہاری کبھی ہماری۔ اور تم ناک کان کٹی ہوئی لاشیں پاؤ گے جس کا میں نے حکم نہیں دیا اور مجھے بُرا بھی معلوم نہیں ہوا۔
عبداللہ بن محمد نے مجھے خبردی کہ سفیان (بن عُیَینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے، عمرو نے حضرت جابرؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جنگ اُحد کے دن بعض لوگوں نے صبح کو شراب پی اور پھر وہ جنگ میں شریک ہوکر شہید ہوگئے۔
عبدان نے ہمیں بتایا۔ عبداللہ (بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے اپنے باپ ابراہیم سے روایت کی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزہ دار تھے، انہوں نے کہا: مصعب بن عمیرؓ شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور ایسی چادر میں کفنائے گئے کہ اگر اُن کا سر ڈھانپا جاتا تو اُن کے پاؤں ظاہر ہوجاتے اور اگر پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر ظاہر ہوجاتا اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حمزہؓ بھی شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔ پھر ہمارے لئے دنیا کی کشائش ہوئی یا کہا: ہمیں دنیا سے جو ملا، ملا اور ہمیں ڈر ہے کہیں ہماری نیکیوں کا ثواب ہمیں جلدی سے نہ دے دیا گیا ہو۔ پھر وہ رونے لگے، اتنا روئے کہ کھانا چھوڑ دیا۔
احمد بن یونس نے ہمیں بتایا۔زُہَیر (بن معاویہ) نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شقیق (بن سلمہ) سے، شقیق نے حضرت خباب بن ارتّؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی، اللہ کی رضامندی چاہتے تھے اور ہمارا اَجر اللہ کے ذمے ہوگیا اور ہم میں سے بعض وہ ہیں جو چل دئے یا کہا: چلے گئے، اپنے اجر سے کچھ نہ کھایا۔ ان میں سے مصعب بن عمیرؓ بھی تھے جو جنگ اُحد کے دن شہید ہوئے، انہوں نے سوائے ایک دھاری دار کمبل کے کچھ نہ چھوڑا تھا۔ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتا۔ نبی ﷺ نے ہم سے فرمایا: اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پاؤں پر اِذخر گھاس رکھ دو یا فرمایا: ان کے پاؤں پر کچھ اذخر گھاس ڈال دو۔ اور ہم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کا میوہ خوب پک چکا ہے اور وہ اسے چن رہے ہیں۔
حسان بن حسان نے ہمیں بتایا۔ محمد بن طلحہ نے ہم سے بیان کیا کہ حمید (طویل) نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ان کے چچا غزوۂ بدر کے وقت کہیں باہر گئے ہوئے تھے، کہنے لگے: میں نبی ﷺ کی پہلی جنگ سے غیر حاضر ہوگیا، اگر اللہ نے نبی ﷺ کے ساتھ مجھے کسی لڑائی میں شریک کیا تو پھر اللہ دیکھ لے گا کہ میں کیسے جہاد کرتا ہوں۔چنانچہ غزوۂ اُحد کا موقع ان کو مل گیا اور لوگ شکست کھا کربکھر گئے تو (حضرت انس بن نضرؓ) کہنے لگے: اے اللہ! جو کچھ ان لوگوں یعنی مسلمانوں نے کیا ہے میں ان کی طرف سے تیرے حضور معذرت کرتا ہوں اور جو مشرکوں نے کیا ہے اس سے تیرے حضور بیزاری کا اظہار کرتا ہوں، یہ کہہ کر تلوار لی، آگے بڑھے اور راستے میں حضرت سعد بن معاذؓ سے ملے (جو دوڑے آرہے تھے۔) حضرت انسؓ نے کہا: سعدؓ کہاں جاتے ہو؟ میں تو اُحد کے سامنے جنت کی خوشبو سونگھ رہا ہوں، یہ کہہ کر آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ (اتنے زخم تھے کہ) پہچانے نہ گئے۔ آخر اُن کی بہن نے اُن کے ایک تِل کے نشان سے یا انگلی کے پور سے انہیں پہچانا۔ ان پر اَسی سے کچھ اوپر نیزے کے زخم، تلوار کی ضربیں اور تیر کے نشان تھے۔