بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: شیخی بگھارنا اور اَکھڑ پن اُن اجڈ زمینداروں میں ہے جو اُون پوش ہیں اور دھیما پن (نرمی)بکریوں والوں میں ہے اور ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: یمن کا نام اس لئے یمن رکھا گیا ہے کہ وہ کعبہ کے دائیں طرف ہے اور شام کا نام اس لئے شام رکھا گیا ہے کہ وہ کعبہ کے بائیں طرف ہے۔ اور مَشْئَمَة کے معنی ہیں بائیں جانب اور بایاں ہاتھ بھیاَلشُّؤْمَی کہلاتا ہے۔ اسی طرح بائیں جانب اَلأَشْأَم کہلاتی ہے۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا۔ عاصم بن محمد نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: امارت ہمیشہ قریش میں ہی رہے گی جب تک کہ ان میں سے دو آدمی باقی رہیں گے۔
اور لیث نے کہا: ابو الاسود محمد نے مجھے بتایا کہ عروہ بن زبیر سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بنوزہرہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ حضرت عائشہؓ کے پاس گئے اور حضرت عائشہؓ ان پر اس وجہ سے بہت ہی مہربان تھیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار تھے۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے کہ حضرت معاویہؓ کو خبر پہنچی اور وہ اس وقت قریش کے ایک وفد کے ساتھ ان کے پاس تھے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے تھے کہ عنقریب قحطان سے ایک بادشاہ ہوگا۔ یہ سن کر حضرت معاویہؓ غصے میں آئے اور کھڑے ہوئے اور انہوں نے اللہ کی تعریف کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر کہا: امابعد! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم میں سے بعض ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو نہ کتاب اللہ میں ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ یہ تم میں سے وہی لوگ ہیں جو بالکل جاہل ہیں۔ اس لئے جھوٹے خیالات سے بچو، جن خیالات نے ان کو گمراہ کر رکھا ہے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپؐ فرماتے تھے کہ یہ امر (یعنی امارت و سرداری) قریش میں ہی رہے گا جس نے بھی ان سے دشمنی رکھی، اللہ اسے منہ کے بل اوندھا کرے گا جب تک وہ دین پر برقرار رہیں۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن مسیب سے، ابن مسیب نے حضرت جبیر بن مطعمؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفانؓ مل کر (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) چلے گئے تو وہ کہنے لگے: یارسول اللہ! آپؐ نے مطلب کے بیٹوں کو دیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ ہم اور وہ تو آپؐ سے ایک ہی درجہ پر ہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنوہاشم اور بنومطلب ایک ہی ہیں۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا کہ سعد (بن ابراہیم) سے روایت ہے۔ نیز یعقوب بن ابراہیم (بن سعد) نے کہا: میرے باپ نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن ہرمز الاعرج نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش اور انصار اور جہینہ {ومزینہ} اور اسلم، اشجع اور غفار دوست اور مددگار ہیں۔ سوا اللہ اور رسول کے ان کا کوئی دوست نہیں ۔
عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا، کہا: ابوالاسود نے مجھے بتایا کہ عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن زبیرؓ حضرت عائشہؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ کے بعد باقی تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھے اور وہ تمام لوگوں سے بڑھ کر حضرت عائشہؓ سے سلوک کیا کرتے تھے اور حضرت عائشہؓ کے پاس اللہ کے رزق سے جو کچھ آتا، اپنے پاس نہ رکھ چھوڑتیں، صدقہ کر دیتی تھیں۔ یہ دیکھ کر حضرت (عبداللہ) بن زبیرؓ نے کہا: ان کے ہاتھوں کو روکنا چاہیے۔ وہ کہنے لگیں: کیا میرے ہاتھوں کو روکا جائے گا؟ مجھ پر نذر ہوگی اگر میں نے اس سے بات کی۔ پھر حضرت عبداللہ بن زبیرؓنے ان کے پاس قریش میں سے کئی آدمیوں اور خاص کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیال والوں سے سفارش کرائی۔ مگر وہ نہ مانیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیال زہریوں نے جن میں حضرت عبدالرحمٰنؓ بن اسود بن عبدیغوث اور حضرت مِسْوَر بن مخرمہؓ بھی تھے، (حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے کہا:) جب ہم اندر جانے کی اجازت لیں تو تم بھی پردہ سے جاگھسنا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر حضرت عبداللہؓ نے حضرت عائشہؓ کو دس غلام بھیجے اور حضرت عائشہؓ نے ان کو آزادکردیا۔ پھر وہ غلام آزاد کرتی رہیں یہاں تک کہ چالیس تک ان کی تعداد پہنچ گئی اور کہنے لگیں: میری آرزو ہے کہ کاش جب میں نے قسم کھائی تھی، میں کوئی ایسا کام مقرر کرتی کہ جس کو میں کرکے اس نذر سے فارغ ہوجاتی۔
(تشریح)عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت انسؓ سے روایت کی کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سعید بن عاصؓ اور حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کو بلوایا اور پھر انہوں نے سورتوں کو مصحفوں میں نقل کیا اور حضرت عثمانؓ نے ان تینوں (عبداللہ، سعیدؓ اور عبدالرحمنؓ) قریشی لوگوں سے کہا: جب تم اور زید بن ثابتؓ قرآن کے کسی لفظ کے متعلق اختلاف کرو تو تم اس کو قریش کی زبان میں لکھنا کیونکہ وہ انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
(تشریح)مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحيٰ (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بن ابی عبید سے روایت کی کہ حضرت سلمہ (بن اَکْوَع) رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلم قبیلے کے پاس تشریف لے گئے جو منڈی میں تیر اندازی کر رہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: اے اسماعیلؑ کے بیٹو! تیر اندازی کرتے رہو۔ کیونکہ تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا اور ان میں سے ایک فریق کے متعلق فرمایا کہ میں بنی فلاں کے ساتھ ہوں۔ یہ سنتے ہی انہوں (یعنی دوسرے فریق) نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا۔ آپؐ نے پوچھا: انہیں کیا ہوا؟ کہنے لگے: ہم کیسے تیر پھینکیں جبکہ آپؐ بنی فلاں کے ساتھ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: اچھا تیر پھینکو اور میں تم سبھی کے ساتھ ہوں۔
(تشریح)ابومعمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسین (بن واقد) سے، حسین نے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) یحيٰ بن یعمر نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوالاسود دِیلی نے انہیں بتایا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جو شخص بھی اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہوا جبکہ وہ جانتا ہے تو اس نے یقیناً اللہ کا کفر کیا اور جو اس قوم کی طرف منسوب ہوا کہ جن سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو پھر چاہیے کہ وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ بنانے کی تیاری کرے۔