بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 161 hadith
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا کہ حریز نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عبدالواحد بن عبداللہ نصری نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت واثلہ بن اسقع سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی نہایت ہی بڑا بہتان ہے کہ آدمی اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو یا اپنی آنکھ کو وہ کچھ دکھلائے جو اس نے نہیں دیکھا، یا- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء کرے ایسی بات کا جو آپؐ نے نہیں کہی۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپؐ منبر پر تھے۔ آپؐ فرماتے تھے: دیکھو فتنہ یہاں سے ہوگا۔ آپؐ مشرق کی طرف اشارہ کرتے تھے جہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔
ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد نے عبدالرحمٰن بن ہرمز سے، عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجع میرے مدد گار ہیں اور ان کا مددگار اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی نہیں۔
محمد (بن سلام ) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: اسلم جو ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے سلامتی میں رکھا اور غفار جو ہیں ان کی اللہ نے مغفرت کی۔
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ حماد (بن زید) سے روایت ہے۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: آنحضرتؐ نے فرمایا: اسلم اور غفار، مزینہ اور جہینہ میں سے بعض لوگ یا فرمایا: جہینہ میں سے یا مزینہ میں سے کچھ لوگ اللہ کے نزدیک بہتر ہوں۔ یا فرمایا: قیامت کے دن اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان سے بہتر ہوں۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: سلیمان بن بلال نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ثور بن زید سے، ثور نے ابوالغیث سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپؐ نے فرمایا: و ہ گھڑی اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ قحطان میں سے ایک شخص پیدا نہ ہو جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوجمرہ سے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے: عبدالقیس کے نمائندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم ربیعہ کے قبیلہ سے ہیں۔ ہمارے اور آپؐ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں۔ ہم آپؐ تک سلامتی سے نہیں پہنچ سکتے مگر ماہِ حرام میں ہی۔ اگر آپؐ ہمیں ایسی بات کا حکم دیں کہ جو ہم آپؐ سے سیکھ لیں اور ان کو بھی بتائیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں تم کو چار باتیں کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں۔ اللہ پر ایمان لانا یعنی یہ شہادت دینا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز سنوار کر پڑھنا اور زکوٰة دینا اور اللہ کے لئے اس غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا جو تم حاصل کرو اور میں تم کو کدو کے تونبے اور سبز لاکھی برتن اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور رال کے روغنی برتن سے منع کرتا ہوں۔
محمد بن غر یر زہری نے مجھ سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے صالح سے روایت کی کہ نافع نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا کہ غفار جو ہیں اللہ نے ان کی مغفرت کی اور اسلم جو ہیں اللہ نے ان کو سلامتی میں رکھا اور عُصَیّہ نے اللہ اور اس کے رسول کی معصیت اور نافرمانی کی۔
قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ نیز محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ (عبدالرحمن) بن مہدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان سے، سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتلاؤ اگر جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار؛ بنوتمیم، بنواسد، بنوعبداللہ بن غطفان اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہوں! تو ایک شخص بولا: تو پھر یہ (یعنی بنوتمیم، بنواسد، بنوعبداللہ اور بنوعامر) نامراد اور گھاٹے میں ہوئے۔ آپؐ نے فرمایا: وہ بنوتمیم سے اور بنواسد سے اور بنوعبداللہ بن غطفان سے اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے محمد بن ابی یعقوب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے سنا۔ وہ اپنے باپ سے روایت کرتے تھے کہ اقرع بن حابسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اسلم، غفار اور مزینہ میں سے آپؐ کی بیعت ان لوگوں نے کی ہے جو حاجیوں کا مال و اسباب چرایا کرتے
(تشریح)