بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
حضرت اُم حرامؓ بیان کرتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! آپؐ کو کیا بات ہنسا رہی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں غازی ہیں اِس سمندر کے درمیان سوار ہورہے ہیں ۔ ایسے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر سوار ہوتے ہیں ۔ اسحاق نے شک کیا کہ آپ نے مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ فرمایا یا مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ فرمایا۔ حضرت اُم حرامؓ کہتی تھیں: میں نے عرض کی۔ یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا فرماویں کہ مجھے بھی اُنہی میں سے کرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے لئے دعا کی۔ پھر آپؐ سر رکھ کر سوگئے۔ پھر جاگ پڑے اور آپؐ ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ کو کیا بات ہنسا رہی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میری اُمت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو اللہ کی راہ میں غازی ہیں۔ پھر آپؐ نے وہی بات فرمائی جو پہلے فرمائی تھی۔ حضرت اُم حرامؓ کہتی تھیں میں نے کہا: یا رسول اللہ ! دعا فرماویں کہ اللہ مجھے بھی انہی میں سے کرے۔ آپؐ نے فرمایا: تم (ان کے) اولین میں سے ہو۔ چنانچہ (حضرت اُم حرامؓ) حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کے زمانہ میں سمندر میں (کشتی پر جہاد کے لیے)سوار ہوئیں اور پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو اپنی (سواری کے) جانور سے گر کر فوت ہو گئیں۔
(تشریح)ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے یہ روایت کی اور اُنہوں نے کہا: میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟حضرت اُم العلاء ؓکہتی تھیں اور اس بات نے مجھے غمگین کردیا اور میں سوگئی تو میں نے خواب میں عثمانؓ کا ایک چشمہ دیکھا جو بہہ رہا ہے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ ان کا عمل ہے۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے بتایا۔ عقیل نے مجھ سے بیان کیا۔ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا)کہ خارجہ بن زید بن ثابت نے مجھے خبر دی کہ حضرت اُم علاءؓ نے جو ایک انصاری عورت تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ اُنہوں نے اُن کو بتایا کہ انصار نے قرعہ ڈال کر مہاجرین کو بانٹ لیا۔ حضرت اُم علاءؓ کہتی تھیں۔ عثمان بن مظعونؓ ہمارے حصے میں آئے اور ہم نے ان کو اپنے گھروں میں اتارا۔ پھر وہ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں وہ فوت ہوگئے تھے۔ جب وہ فوت ہوئے تو اُنہیں نہلایا گیا اور اُنہی کے کپڑوں میں انہیں کفنایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ کہتی تھیں اور میں نے کہا: ابوسائب اللہ کی رحمت ہو تم پر ۔ میری شہادت تمہارے متعلق یہی ہے کہ اللہ نے تمہیں ضرور ہی نوازا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا پتہ کہ اللہ نے اِس کو نوازا ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میرا باپ آپؐ پر قربان اور پھر اللہ کس کو نوازے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمانؓ جو ہیں تو اللہ کی قسم اُن کو تو اب موت آن پہنچی،اللہ کی قسم میں اُن کے لئے بہتری کی اُمید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم میں بھی نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ حضرت اُم العلاءؓ کہنے لگیں۔ اللہ کی قسم اب اس کے بعد میں کسی کو بھی پاک نہیں ٹھہراؤں گی۔
یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ انصاریؓ نے کہا اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور آپؐ کے خاص سواروں میں سے تھے، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے۔ جب تم میں سے کوئی پریشان خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو بائیں طرف تھوکے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگے تو وہ اس کو کبھی ضرر نہیں دے گا۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ یونس نے ہمیں بتایا۔ یونس نے زہری سے روایت کی کہ حمزہ بن عبداللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عمر ؓنے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: ایک بار میں سویا تھا کہ اتنے میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس میں سے اتنا پیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ طراوت میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمرؓ کو دیا۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپؐ نے فرمایا: علم۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ نے ہم سےبیان کیا۔ اُنہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے مجھے بتایا کہ اُنہوں نےحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اثناء میں کہ میں سویا ہوا تھا میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا اور میں نے اس سے اتنا پیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تراوت میرے اعضا سے نکل رہی ہے۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر بن خطابؓ کو دیا۔ جو لوگ آپؐ کے آس پاس تھے اُنہوں نے پوچھا: یارسول اللہ ! آپؐ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپؐ نے فرمایا: علم۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ میرے باپ ابراہیم نے ہم سےبیان کیا۔ اُنہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا حضرت ابواُمامہ بن سہلؓ نے مجھ سے بیان کیا کہ اُنہوں نے حضرت ابوسعید خدریؓ سے سنا ۔وہ کہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اثناء میں کہ میں سویا ہوا تھا میں نے لوگوں کو دیکھا کہ میرے سامنے لائے جارہے ہیں اور اُنہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی ہیں۔ بعض ان میں ایسی تھیں جو سینے تک پہنچتی تھیں اور بعض ایسی تھیں جو اس سے نیچے تک پہنچتی تھیں اور عمر بن خطابؓ میرے سامنے سے گزرے اور اُنہوں نے بھی ایک قمیص پہنی تھی جس کو وہ گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ آپؐ نے کیا تعبیر کی؟ آپؐ نے فرمایا: دین۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے بتایا۔ عقیل نے مجھ سےبیان کیا۔اُنہوں نے ابن شہاب سےروایت کی کہ حضرت ابواُمامہ بن سہلؓ نے مجھے خبر دی۔ حضرت ابواُمامہؓ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرما رہے تھے کہ میں سو رہا تھا۔ اتنے میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے پیش کیے جارہے ہیں اور اُنہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی ہیں۔ اُن میں سے بعض ایسی تھیں جو سینے تک اور ان میں سے بعض ایسی تھیں جو اس سے نیچے تک پہنچتی تھیں اور عمر بن خطابؓ بھی میرے سامنے پیش کیے گئے۔ اُنہوں نے بھی قمیص پہنی ہوئی تھی جس کو وہ گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپؐ نے فرمایا: دین۔
عبداللہ بن محمد جعفی نے ہم سے بیان کیا کہ حرمی بن عمارہ نے ہمیں بتایا۔ قرہ بن خالد نے ہم سےبیان کیا۔ قرہ نے محمد بن سیرین سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا:) قیس بن عباد کہتے تھے۔ میں ایک حلقے میں بیٹھا تھا جس میں حضرت سعد بن مالکؓ اور حضرت ابن عمر ؓبھی تھے۔ اتنے میں حضرت عبداللہ بن سلامؓ گزرے۔ لوگوں نے کہا: یہ شخص جنتیوں میں سے ہے۔ میں نے حضرت عبداللہ بن سلامؓ سے کہا کہ لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ انہوں نے کہا۔ سبحان اللہ انہیں شایاں نہیں کہ وہ بات کہیں جس کا ان کو علم نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ جیسے ایک ستون ہے جو سرسبز باغ میں نصب کیا گیا ہے اور اس کی چوٹی پر ایک کنڈا لگا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایک مِنْصَف کھڑا ہے۔ مِنْصَف کے معنی وہ لڑکا جو ابھی جوان نہ ہوا ہو۔مجھ سے کہا گیا۔ اس ستون پر چڑھو اور میں اس پر چڑھ گیا جاکر اس کنڈے کو پکڑ لیا ۔ میں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہؓ ایسی حالت میں فوت ہوگا کہ وہ اس مضبوط کنڈے کو پکڑے ہوئے ہوگا۔
عبید بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب میں مجھے تم دو بار دکھائی گئی تھی۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہے جو تمہیں ریشمی کپڑے میں اُٹھائے ہوئے ہے اور وہ کہہ رہا ہے یہ تمہاری بیوی ہے۔ میں اس کپڑے کو جو کھولتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ تم ہو۔ میں کہتا تھا اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہوا تو وہ اسے پورا کردے گا۔
(تشریح)