بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے، اُنہوں نے حمزہ بن عبداللہ سے، حمزہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ دودھ کا ایک پیالہ میرے پاس لایا گیا۔ میں نے اس سے پیا۔ پھر بچا ہوا دودھ میں نے عمر بن خطابؓ کو دے دیا۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! پھر آپؐ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپؐ نے فرمایا: علم۔
حضرت ابن عباسؓ نے کہامجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ڈالے گئے ہیں۔ میں ان کو دیکھ کر یکایک گھبرا گیا اور اُن سے نفرت کی۔ پھر مجھے حکم دیا گیا تو میں نے اُن پر پھونکا تو وہ دونوں اُڑگئے۔ میں نے ان گنگنوں سے دو جھوٹے مراد لئے جو پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے کہا۔ اُن میں سے ایک تو وہ عنسی ہے جس کو فیروز نے یمن میں قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ ہے۔
اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: یہ وہ حدیث ہے جو حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کی۔ آپؐ نے فرمایا: ہم سب سے پیچھے آنے والے ہیں سب سے آگے نکلنے والے ہیں۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھاکہ اتنے میں زمین کے خزانے میرے پاس لائے گئے اور دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں ڈالے گئے اور مجھ پر گراں گزرے اور اُنہوں نے مجھے فکر میں ڈال دیا اتنے میں مجھے وحی کی گئی کہ میں اِن پر پھونکوں۔ چنانچہ میں نے اُن پر پھونکا تو وہ اُڑ گئے۔ میں نے ان سے دو کذاب مراد لئے جن کے درمیان میں ہوں گا یعنی صنعاء والا اور یمامہ والا
سعید بن محمد ابو عبد اللہ جرمی نے مجھ سے بیان کیا۔ یعقوب بن ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اُن کے باپ نے صالح سے۔ صالح نے ابن عبیدہ بن نشیط سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: عبیداللہ بن عبداللہ کہتے تھے۔ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جو آپؐ نے بیان کی ہو۔
محمد بن علاء نے مجھ سے بیان کیا کہ اُبواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید سے، برید نے اپنے دادا ابوبردہ سے، ابوبردہ نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھاکہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کرکے جارہا ہوں کہ جہاں کھجور کے درخت ہیں تو میرا خیال اس طرف گیا وہ یمامہ یا ھجر ہے۔ پھر کیا دیکھا کہ وہ مدینہ یثرب ہے اور میں نے اس میں کچھ گائیں دیکھیں (اور کوئی یہ کہہ رہا ہے) کہ اللہ کی قسم! یہ خیر ہے۔( محض بھلائی ہے۔) تو کیا معلوم ہوا کہ اس سے مراد وہ مؤمن ہیں جو جنگ احد میں (شہید) ہوئے اور وہ خیر وہی خیر ہے جو اللہ لایا اور وہ سچائی کا بدلہ ہے جو اللہ نے جنگ بدر کے بعد ہمیں عطا کیا۔
(تشریح)اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ میرے بھائی عبدالحمید نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے سلیمان بن بلال سے، سلیمان نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم بن عبداللہ سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا جیسے ایک سیاہ عورت پریشان سر ہے مدینہ سے نکل کر مَهْيَعَه میں جاکھڑی ہوئی ہے اور یہ جُحفہ ہی ہے ۔ تو میں نے یہ تعبیر کی کہ مدینہ کی وبا جُحفہ میں منتقل کی گئی۔
ابوبکر مقدمی نے ہم سے بیان کیا کہ فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ (بن عقبہ) نے ہمیں بتایا۔ سالم بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔ سالم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق روایت کی جو آپؐ نے مدینہ کے متعلق دیکھی تھی۔ (آپؐ نے فرمایا:) میں نے ایک عورت دیکھی جو پریشان سر ہے، مدینہ سے نکل کر مَهْيَعَه میں جا ٹھہری ہے۔ میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ مدینہ کی وبا مَهْيَعَه کی طرف منتقل کی گئی اور یہ جُحفہ ہی ہے۔
(تشریح)ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوبکر بن ابی اویس نے مجھے بتایا۔سلیمان (بن بلال) نے مجھے بتایا۔ سلیمان نے موسیٰ بن عقبہ سے، اُنہوں نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایک کالی عورت دیکھی جو پراگندہ سر ہے، مدینہ سے مَهْيَعَه میں جاکھڑی ہوئی ہے۔ میں نے یہ تعبیر کی کہ مدینہ کی وبا مَهْيَعَه کی طرف منتقل کی گئی اور وہ جُحفہ ہی ہے۔
محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ اُبواسامہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ سے، برید نے اپنے دادا ابوبردہ سے، اُن کے دادا نے حضرت ابوموسیٰؓ سے روایت کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا ہے اور اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا ہے۔ تو اس سے وہی مراد تھی جو مؤمن جنگ اُحد کے دن شہید ہوئے۔ پھر میں نے اس کو دوبارہ ہلایا تو پھر ویسی ہی عمدہ ہوگئی جیسی پہلے تھی تو اس سے وہی فتح مراد ہے جو اللہ نے کرائی اور نیز مؤمنوں کا اکٹھا ہوجانا۔