بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
محمد (بن علاء) نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں بتایا۔ ہشام نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی وہ کہتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے مجھے تم دو بار دکھائی گئی۔ میں نے فرشتے کو دیکھا کہ تمہیں ایک ریشمی کپڑے میں اٹھایا ہوا ہے میں نے اس سے کہا: کپڑا کھولو۔ اس نے کھولا۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ تم ہی ہو۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا تو وہ اسے پورا کردے گا۔ پھر تم مجھے دکھائی گئی کہ (فرشتہ)تمہیں ریشمی کپڑے میں اُٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے کہا: کھولو ۔ اس نے کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تم ہی ہو۔ میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا تو اس کو پورا کردے گا۔
معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ وہب )بن خالد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا جیسے میرے ہاتھ میں ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے۔ میں جنت میں جس جگہ بھی جانا چاہتا ہوں وہ مجھے اُڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے۔ یہ خواب میں نے حضرت حفصہؓ کے سامنے بیان کیا۔
توحضرت حفصہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کو بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا: تیرا بھائی نیک شخص ہے یا فرمایا: عبداللہؓ نیک شخص ہے۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ عقیل نے مجھ سےبیان کیا۔ اُنہوں نے ابن شہاب سے روایت کی سعید بن مسیب نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے۔ مجھے جامع باتیں دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب سے میری مدد کی گئی اور ایک بار میں سو رہا تھا کہ اسی اثناء میں میرے پاس زمین کے خزانوں کی چابیاں لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ابو عبد اللہ نے کہا اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جوامع الکلم سے یہ مراد ہے کہ بہت سی باتیں کہ جو اس سے پہلے کتابوں میں لکھی جایا کرتی تھیں، وہ اللہ نے ایک یا دو باتوں میں جمع کردیں یا اس قسم کی کوئی بات کی تھی جو مجھے پہنچی۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ازہر (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن عون سے روایت کی اور خلیفہ (بن خیاط) نے بھی مجھ سے بیان کیا کہ معاذ نے ہمیں بتایا۔ ابن عون نے ہم سے بیان کیا۔ ابن عون نے محمد (بن سیرین) سےروایت کی کہ قیس بن عباد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نےحضرت عبداللہ بن سلامؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: میں نے دیکھا جیسے میں ایک باغیچہ میں ہوں۔ اس باغیچہ کے درمیان ایک ستون ہے۔ ستون کی چوٹی پر ایک کنڈا لگا ہوا ہے۔ مجھے کہا گیا اس پر چڑھو۔ میں نے کہا: میں نہیں چڑھ سکتا۔ اتنے میں ایک لڑکا آیا۔ اس نے میرے کپڑے اٹھائے اور میں چڑھ گیا اور جا کر کنڈے کو مضبوط پکڑ لیا۔ پھر میں جاگ پڑا اور میں اس حالت میں جاگ پڑا کہ میں اسے مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میں نے یہ خواب بیان کیا آپ نے فرمایا: وہ باغ اسلام کا باغ ہے اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ کنڈا وہ مضبوط کنڈا ہے (جس کا ذکر قرآن میں ہے) تم اسلام کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے اور اسی حالت میں تم فوت ہوگے۔
عبداللہ بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے ہمیں بتایا۔اُنہوں نے کہا میں نے عوف (بن ابی جمیلہ) سے سنا۔ اُنہوں نے کہا محمد بن سیرین نے ہم سے بیان کیا کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ زمانہ آجائے گا تو مؤمن کا کوئی خواب بھی جھوٹا نہ ہوگا اور مؤمن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔اور جو نبوت میں سے ہو وہ جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ محمد (بن سیرین) نے کہا اور میں بھی یہی کہتا ہوں۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے۔ یہ کہا جاتا تھاکہ خواب تین قسم کا ہوتا ہے۔ ایک نفسانی خیالات اور ایک شیطان کا ڈراوا اور ایک اللہ کی طرف سے بشارت۔ اس لئے جو شخص ایسی بات دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ اسے کسی سے بیان نہ کرے اور اُٹھ کر نماز پڑھے۔ (محمد بن سیرین) کہتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ خواب میں گلے کا طوق برا سمجھتے تھے اور پاؤں کی بیڑیاں اچھی سمجھتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ بیڑی سے مراد د ین کی مضبوطی ہے۔ اور قتادہ اور یونس اور ہشام اور ابوہلال نے بھی اس حدیث کو ابنِ سیرین سے روایت کیا۔ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بعض راویوں نے ان ساری باتوں کو حدیث میں ہی شامل کر دیا ہے اور عوف (اعرابی) کا بیان سب سے زیادہ واضح ہے اور یونس نے کہا: بیڑی کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی انہوں نے روایت کی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری)نے کہا: أَغْلَالُ یعنی طوق گردنوں میں ہی ہوتے ہیں۔
عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے زہری سے، زہری نے خارجہ بن زید بن ثابت سے، خارجہ نے حضرت اُم العلاءؓ سے روایت کی اور وہ انہی کے خاندان کی عورتوں میں سے ایک عورت تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی وہ کہتی تھیں: جب انصار نے مہاجرین کی سکونت کے متعلق قرعے ڈالے تو عثمان بن مظعونؓ گھر میں ٹھہرنے کے لئے ہمارے حصے میں آئے۔ وہ بیمار ہوگئے اور ہم ان کی بیماری پرسی کرتے رہے ۔ جب فوت ہوگئے تو پھر ہم نے انہی کے کپڑوں میں ان کو کفنایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ۔ میں نے کہا: ابوسائب تم پر اللہ کی رحمت ہو۔ میری شہادت تمہارے متعلق تو یہ ہے کہ اللہ نے ضرور تمہیں نوازا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتی۔ آپؐ نے فرمایا: وہ تو اب مرچکے ہیں میں ان کے لئے اللہ سے بھلائی کی اُمید رکھتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور نہ ہی تمہارے ساتھ۔ حضرت اُم العلاءؓ کہتی تھیں: اس کے بعد میں کسی کو بھی پاک نہیں ٹھہراتی۔ کہتی تھیں: اور میں نے خواب میں عثمانؓ کا ایک چشمہ بہتے ہوئے دیکھا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی میں نے آپؐ سے اس کا ذکر کیا آپؐ نے فرمایا: یہ اس کا عمل ہے، (چشمۂ کوثر) جو اس کے لئے جاری ہے۔
یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب بن حرب نے ہمیں بتایا۔ صخر بن جویریہ نے ہم سےبیان کیا۔ نافع نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اُنہیں بتایا اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک کنوئیں پر کھڑاہوکر اس سے پانی نکال رہا ہوں کہ اتنے میں ابوبکرؓ اور عمر ؓآئے ۔ ابوبکرؓ نے ڈول لیا اور اُنہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچ کر نکالے اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی ۔ اللہ ان کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگزر کرے۔ پھر ابن خطابؓ نے ابوبکرؓ کے ہاتھ سے وہ ڈول لیا تو وہ ڈول ان کے ہاتھ میں چرسا بن گیا۔ تو میں نے لوگوں میں ایسا شہ زور نہیں دیکھا کہ جو ان کا سا حیرت انگیز کام کرتا ہو۔ اتنا پانی نکالا کہ لوگ خوب سیر ہوکر گھاٹ کے آس پاس بیٹھ گئے
احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر (بن معاویہ)نے ہمیں بتایا۔ موسیٰ (بن عقبہ) نے ہم سےبیان کیا۔اُنہوں نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ سے روایت کی۔ ان کے باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواب کے متعلق جو آپ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے بارے میں دیکھی تھی روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: میں نے لوگوں کو دیکھا اکٹھے ہیں۔ ابوبکرؓ کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے ایک یادو ڈول کھینچ کر نکالے اور اُن کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ اُن کی کمزوری پر پردہ پوشی فرماتے ہوئے اُن سے درگزر کرے۔ پھر ابن خطابؓ کھڑے ہوئے اور وہ ڈول چرسے میں تبدیل ہوگیا۔ میں نے لوگوں میں کوئی نہیں دیکھا جو ان کا سا حیرت انگیز کام کرتا ہو۔ اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہوکر اس گھاٹ کے آس پاس جا بیٹھے۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے کہا عقیل نے مجھ سے بیان کیا۔ عقیل نے ابن شہاب سےروایت کی کہ سعید نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہؓ نے اُنہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں پر دیکھا اور اس پر ایک ڈول دھرا ہے۔ تو میں نے اس کنوئیں سے جتنا اللہ نے چاہا پانی کھینچ کر نکالا۔ پھر ابوقحافہ کے بیٹے نے اس ڈول کو لیا اور کنوئیں سے ایک یا دو ڈول نکالے اور ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ اُن کی کمزوری پرپردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگزر فرمائے۔ پھر وہ ڈول ایک چرسہ میں تبدیل ہوگیا تو پھر عمر بن خطابؓ نے اسے لیا اور میں نے لوگوں میں سے کوئی ایسا شہ زور نہیں دیکھا جو عمر بن خطابؓ کی طرح پانی نکالتا ہو۔ اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہوکر گھاٹ کے آس پاس اپنے تھانوں میں اطمینان سے جا بیٹھے۔
(تشریح)