بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 6 of 66 hadith
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے، اُنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے ایسا خواب بنایا جو اس نے نہیں دیکھا اسے مجبور کیا جائے گا کہ دو بالوں کے درمیان گرہ دے اور وہ ہرگز نہ کرسکے گا اور جس نے لوگوں کی بات سننے کے لئے کان لگائے اور وہ اس کو ناپسند کرتے ہوں یا اس سے بھاگ رہے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا اور جس نے کوئی مورت بنائی اُسے بھی سزا دی جائے گی اور اسے مجبور کیا جائے گا کہ اس میں جان پھونکے اور وہ پھونکنے کا نہیں۔ سفیان نے کہا: ایوب نے ہم سے یہ حدیث موصولاً بیان کی اور قتیبہ (بن سعید) نے کہا: ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا۔ اُنہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے اُن کا یہ قول روایت کیا کہ جس نے اپنے خواب کے متعلق جھوٹ بولا۔ اور شعبہ نے ابوہاشم رمانی سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا میں نے عکرمہ سے سنا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا اور ان کا قول یوں نقل کیا جس نے مورت بنائی اور جس نے خواب گھڑی اور جس نے کان لگا کر سنا۔ اسحاق (بن شاہین واسطی) نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (طحان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے خالد (حذاء) سے، اُنہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے بھی اسی طرح کہا جس نے کان لگا کر سنا اور جس نے خواب بنایا اور جس نے مورت بنائی … خالد حذاء کی طرح ہشام نے بھی عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے ان کا یہ قول روایت کیا۔
علی بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ہم سے بیان کیا۔ عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سےجو حضرت ابن عمر ؓکے غلام تھے۔ انہوں نے حضرت ابن عمر ؓسے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب بہتانوں میں سے بڑا بہتان یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو وہ دکھائے جو اُنہوں نے نہیں دیکھا۔
سعید بن ربیع نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبدربہ بن سعید سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا میں نے ابوسلمہ سے سنا وہ کہتے تھے: میں بھی خواب دیکھا کرتا تھا تو وہ مجھے بیمار کردیتا۔ آخر میں نے حضرت ابوقتادہ ؓ سے سنا وہ کہتے تھے اور میں بھی خواب دیکھا کرتا تھا تو وہ مجھے بیمار کردیتا ۔ یہاں تک کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے پسند کرتا ہو تو وہ یہ خواب اس کو بتائے جس سے محبت رکھتا ہے اور جب ایسا خواب دیکھے جسے ناپسند کرتا ہو تو چاہیئے کہ وہ اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور تین بار تھوکے اور کسی سے بھی اس کو بیان نہ کرے تو وہ قطعاً نقصان نہیں پہنچائے گی۔
ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی حازم اور دراوری نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یزید (بن عبداللہ) سے۔ یزید نے عبداللہ بن خباب سے، عبداللہ نے حضرت ابوسعیدخدریؓ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جس کو وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اس لئے اس خواب کے دیکھنے پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اس کو بیان کرے اور اگر اُس نے اِس کے سوا کوئی ایسا خواب دیکھا ہے جس کو ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہی ہوتا ہے چاہیئے کہ وہ اس کے شر سے پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے تو وہ پھر ہرگز اس کو نقصان نہ دے گی۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ میں نے آج رات خواب میں ایک ابر کا ٹکڑا دیکھا کہ جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے اور میں لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ ہاتھوں میں اُنہیں لے رہے ہیں۔ کوئی بہت لے رہا ہے اور کوئی تھوڑا۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک رسی ہے جو زمین سے آسمان تک پہنچی ہوئی ہے اور میں نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ نے اس کو پکڑ لیا اور اوپر چڑھ گئے۔ پھر ایک اور شخص نے اس کو پکڑااور اس کے ذریعہ سے اوپر چڑھ گیا۔ پھر ایک اور شخص نے اس کو پکڑا اور اس کے ذریعہ سے اوپر چڑھا۔ پھر ایک اور شخص نے اس کو پکڑ ا اَور وہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر اس کے بعد وہ جوڑ دی گئی۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: یا رسول اللہ ! میرا باپ آپؐ پر قربان اللہ کی قسم آپؐ مجھے اجازت دیں کہ اس کی تعبیر کروں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کرو۔ اُنہوں نے کہا: ابر کا ٹکڑا جو ہے تو اسلام ہے اور وہ جو شہد اور گھی ٹپک رہا ہے تو یہ قرآن ہے جس کی شیرینی ٹپک رہی ہے۔اب قرآن سے کوئی بہت مزہ لے رہا ہے اور کوئی کم مزہ لے رہا ہے اور وہ رسی جو آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی ہے تو یہ،وہ سچائی ہے جس پر آپؐ ہیں۔ آپؐ اس پر کاربند رہیں گے یہاں تک کہ اللہ آپ کو بلند مقام پر پہنچا دے۔ پھر اس کے بعد ایک شخص اس سچائی پر عمل کرے گا اور آخر وہ بھی اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے گا۔ پھر اس کے بعد ایک اور شخص اس پر عمل کرے گا اور وہ اس کے ذریعہ اعلیٰ مقام پر پہنچے گا۔ پھر اس کے بعد ایک اور شخص اس کو لے گا تو وہ رسی کٹ جائے گی۔ پھر اس کے لئے وہ جوڑ دی جائے گی اور وہ بھی اس کے ذریعہ سے اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے گا۔ یا رسول اللہ ! میرا باپ آپؐ پر قربان، مجھے بتائیں کیا میں نے صحیح تعبیر کی یا غلط؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ٹھیک کی اور کچھ غلط ۔ حضرت ابوبکرؓ کہنے لگے: تو پھر اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپؐ مجھے ضرور بتائیں جس بات میں میں نے غلطی کی۔ آپؐ نے فرمایا: قسم نہ کھاؤ۔
(تشریح)مؤمل بن ہشام ابوہشام نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔عوف نے ہم سےبیان کیا۔ ابورجاء نے ہمیں بتایا۔ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے اکثر یہ بھی پوچھا کرتے تھے ۔ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا؟ حضرت سمرہؓ کہتے تھے: تو پھر وہ لوگ جن کے متعلق اللہ چاہتا کہ بیان کریں آپؐ سے بیان کرتے اور ایک دن صبح کے وقت آپؐ نے فرمایا۔ آج رات دو آنے والے میرے پاس آئے۔ اُنہوں نے مجھے اُٹھایا اور مجھ سے کہنے لگے: چلو۔ میں اُن کے ساتھ چل پڑا اور ہم ایک شخص کے پاس آئے جو لیٹا ہوا تھا اور اتنے میں دیکھا کہ ایک دوسرا شخص بھی ہے جو پتھر لیے اس کے پاس کھڑا ہے اور وہ جھک کر پتھر اس کے سر پر مارتا ہے اور سر کو پھوڑ دیتا ہے اور پھر وہ پتھر ادھر ڈھلک جاتا اور وہ پتھر کے پیچھے جاتا اور اس کو لیتا اور ابھی اس کے پاس لوٹ کر نہ آتا کہ اس کا سر ویسے ہی درست ہوجاتا جیسے پہلے تھا۔ پھر وہ اس کے پاس آتا اور اس سے وہی کرتا جو پہلی دفعہ کیا۔ آپؐ فرماتے تھے۔ میں نے اُن سے پوچھا: سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ آپؐ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا: چلے چلو۔ (فرماتے تھے:) ہم چل پڑے اور ایک شخص کے پاس آئے جو اپنی گدی کے بل چت لیٹا ہواتھا اور ایک اور شخص ہے جو اس کے پاس لوہے کا کانٹا لئے کھڑا ہے اور وہ اس کے منہ کے ایک طرف جاکر اس کی باچھ اس کی گدی تک چیر ڈالتا اور اس کا نتھنا بھی گدی تک اور اس کی آنکھ بھی گدی تک چیر ڈالتا (اور عوف اعرابی کہتے تھے) اور کبھی ابورجاء نے بجائے يُشَرْشِرُ کے يَشُقُّ کہا۔ آپؐ فرماتے تھے۔ اس کے بعد وہاں سے ہٹ کر دوسرے رخسار کی طرف جاتا اور اس سے وہی کرتا جو اس نے اس کے منہ کے پہلے رخسار سے کیا تھا۔ اس طرف سے ابھی فارغ نہ ہوتا کہ وہ پہلی طرف ویسی اچھی بھلی ہوجاتی جیسی پہلے تھی۔ پھر اس کے پاس آتا اور ویسے ہی کرتا جو اس نے پہلی بار کیا تھا فرماتے تھے۔ میں نے کہا: سبحان اللہ یہ کون ہیں؟ فرماتے تھے۔ اُن دونوں نے مجھ سے کہا: چلے چلو۔ ہم چل پڑے۔ پھر ایک ایسے گڑھے پر پہنچے جو تنور کی طرح تھا۔ حضرت سمرہ بن جندبؓ کہتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپؐ یہ فرمایا کرتے تھے۔ تو کیا سنتا ہوں کہ اس گڑھے میں شور و غل ہے ۔ فرماتے تھے۔ ہم نے اس میں جھانکا تو کیا دیکھا کہ اس میں مرد اور عورتیں ہیں جو ننگے ہیں اور کیا دیکھتے ہیں کہ اُن کے نیچے سے شعلے اُٹھ کر اُن پر لپک رہے ہیں۔ جب وہ شعلے اُن پر لپکتے وہ چیختے چلاتے۔ فرماتے تھے۔ میں نے ان دونوں سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ اُنہوں نے مجھ سے کہا: چلے چلو۔ (فرماتے تھے:) ہم چل پڑے اور ایک ندی پر پہنچے۔ (حضرت سمرہؓ کہتے تھے:) میں سمجھتا ہوں آپؐ فرمایا کرتے تھے جو خون کی طرح لال تھی اور کیا دیکھتے ہیں کہ اس ندی میں ایک تیراک شخص تیر رہا ہے اور کیا دیکھا کہ اس ندی کے کنارے پر ایک شخص ہے جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر اکٹھے کررکھے ہیں اور تیراک تیرتا رہتا ہے جتنی دیر تیرتا ہے پھر وہ اس شخص کی طرف منہ کرتا ہے جس نے اپنے پاس پتھر اکٹھے کررکھے ہیں اور اس کے سامنے اپنا منہ کھول دیتا ہے تو وہ اس کے منہ میں وہ پتھر ڈال دیتا ہے اور پھر وہ جاکر تیرنے لگتا ہے ۔ پھر کچھ تھوڑی دیر بعد وہ اس کے پاس لوٹ آتا ہے ۔ جب کبھی وہ اس کے پاس لوٹ کر آتا ہے اپنا منہ اس کے سامنے کھول دیتا ہے اور وہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا ہے۔ آپؐ فرماتے تھے۔ میں نے اُن سے پوچھا: یہ دونوں کون ہیں؟ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا: چلے چلو۔ فرماتے تھے۔ ہم چل پڑے اور ہم ایسے شخص کے پاس آئے جو بدصورت تھا بہت ہی بدصورت ایسا کہ تم نے کبھی کسی شخص کو دیکھا ہو کیا دیکھتے ہیں کہ اس کے پاس آگ ہے جسے وہ سلگا رہا ہے اور اس کے گردا گرد دوڑ رہا ہے۔ آپ فرماتے تھے۔ میں نے ان سے کہا: یہ کون ہے؟ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا: چلے چلو۔ ہم چل پڑے اور سرسبز باغیچہ کے پاس پہنچے جس میں موسم بہار کے ہر قسم کے غنچے تھے اور اس باغیچہ کے درمیان ایک لمبا شخص ہے اتنا لمبا کہ اونچائی کی وجہ سے میں اس کا سر بھی نہ دیکھ سکتا تھا اور کیا دیکھتا ہوں کہ اس شخص کے گردا گرد اس کثرت سے بچے ہیں کہ جو میں نے کبھی دیکھے۔ فرماتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ کون ہے اور یہ کون ہیں؟ فرماتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: چلے چلو۔ آپ فرماتے تھے۔ ہم چل پڑے اور ایک بہت ہی بڑے باغ پر پہنچے۔ میں نے نہ کبھی اس سے بڑا اور نہ اس سے بڑھ کر خوبصورت کبھی کوئی باغ دیکھا۔ فرماتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: (اس درخت پر) چڑھ جاؤ۔ فرماتے تھے۔ ہم اس پر چڑھ گئے اور ایک ایسے شہر پر پہنچے جو سونے کی اینٹوں اور چاندی کی اینٹوں سے بنا تھا اور ہم شہر کے دروازے پر آئے اور دروازہ کھولنے کے لئےکہا۔ وہ ہمارے لئے کھول دیا گیا ۔ ہم اس کے اندر گئے تو ہم کو ایسے آدمی ملے کہ جن کا آدھا دھڑ نہایت ہی خوبصورت ایسا کہ جو تم نے کبھی دیکھا ہو اور آدھا دھڑ نہایت ہی بدصورت ایسا کہ جو تم نے کبھی دیکھا ہو۔ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے ان لوگوں سے کہا: چلے جاؤ اور اس ندی میں داخل ہوجاؤ۔ آپ فرماتے تھے اور کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ندی ہے جو سامنے بہہ رہی ہے اس کا پانی ایسا صاف جیسا سفیدی میں خالص (دودھ ہوتا ہے۔) چنانچہ وہ لوگ گئے اور اس میں کود پڑے۔ پھر وہ ہمارے پاس لوٹ کر آئے وہ بدصورتی ان سے جاتی رہی اور وہ نہایت ہی خوبصورت ہو گئے۔ آپؐ فرماتے تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے کہا: یہ جنت عدن ہے اور وہ تمہارے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ آپؐ فرماتے تھے میری نگاہ جو اوپر اٹھی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک محل ہے جو سفید ابر کی مانند ہے اور فرماتے تھے ان دونوں نے مجھ سے کہا۔ یہی تمہارے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ فرماتے تھے۔ میں نے ان سے کہا: تم دونوں کو اللہ برکت دے مجھے اجازت دو کہ میں اس کے اندر جاؤں۔ ان دونوں نے کہا: ابھی تو نہیں اور تم اس میں داخل ہوگے۔ فرماتے تھے: میں نے ان سے کہا کہ آج جو میں نے عجیب باتیں دیکھیں ہیں تو وہ کیا ہے جو میں نے دیکھا ہے؟ فرماتے تھے ان دونوں نے مجھ سے کہا: سنو ہم تمہیں اصل حقیقت بتلائے دیتے ہیں۔ وہ پہلا شخص جس کے پاس تم آئے تھے۔ اس کا سر پتھر سے پھوڑا جارہاتھا تو وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا ہے اور پھر اس کو چھوڑ دیتا ہے اور فریضہ نماز کو چھوڑ کر سو رہتا ہے اور وہ شخص جس کے پاس تم آئے تھے جس کی باچھ اس کی گدی تک اور اس کا نتھنا بھی گدی تک اور اس کی آنکھ بھی گدی تک چیری جارہی تھی تو وہ شخص ہے جو اپنے گھر سے صبح نکلتا ہے اور ایک جھوٹی بات بناتا ہے جو چاروں طرف پہنچ جاتی ہے اور وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تم نے ایسے گڑھے میں دیکھے جو تنور کی طرح بنا ہوا تھا وہ زنا کرنے والے اور زنا کرنے والیاں ہیں اور وہ شخص جس کے پاس تم آئے وہ جو نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دئیے جاتے تھے تو وہ سود خور ہے اور وہ بدصورت شخص جو آگ کے پاس تھا اس کو سلگارہا تھا اور اس کے گردا گرد دوڑ رہا تھا تو وہ مالک فرشتہ ہے جو جہنم کا داروغہ ہے اور وہ لمبا شخص جو باغیچہ میں تھا تو وہ ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وہ بچے جو اُن کے ارد گرد تھے وہ تمام بچے ہیں جو فطرت پر مرگئے۔ سمرہ کہتے تھے۔ یہ سن کر بعض مسلمانوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اور مشرکوں کے بچے (جو مرجاتے ہیں؟) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کے بچے بھی تھے اور وہ لوگ جن کا آدھا دھڑ اچھا تھا اور آدھا بدصورت تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملے جلے کام کئے کچھ اچھے بھی اور کچھ برے بھی اللہ نے ان سے درگزر کردیا۔