بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 66 hadith
اسحاق بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام سے روایت کی کہ اُنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ میں ایک حوض پر کھڑا لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں۔ اتنے میں ابوبکرؓ میرے پاس آئے اور میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا تا کہ وہ مجھے آرام دیں۔ اُنہوں نے دو ڈول کھینچ کر نکالے اور اُن کے کھینچنے میں کچھ کمزوری تھی۔ اللہ اُن کی کمزوری کی پردہ پوشی فرماتے ہوئے ان سے درگزر کرے۔ پھر ابن خطابؓ آئے اور اُنہوں نے اُن سے لے لیا وہ برابر پانی کھینچتے رہے یہاں تک کہ سب لوگ چلے گئے اور وہ حوض پانی سے پھوٹ رہا تھا۔
میں نے یہ خواب حضرت حفصہؓ سے بیان کیا اور حضرت حفصہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہؓ نیک آدمی ہے۔ نافع کہتے تھے: اس کے بعد حضرت ابن عمرؓ نماز بہت پڑھا کرتے تھے۔
(تشریح)تو حضرت حفصہؓ کہتی تھیں کہ اُنہوں نے اس خواب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپؐ نے فرمایا: عبداللہؓ اچھا آدمی ہے اگر رات کو بہت نماز پڑھتا۔ زہری نے کہا:حضرت عبداللہؓ اس کے بعد رات کو بہت نماز پڑھا کرتے تھے۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے مجھے بتایا۔ عقیل نے مجھ سےبیان کیا۔ عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔اُنہوں نے کہا سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ اتنے میں مَیں نے اپنے تئیں جنت میں دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت ہے جو محل کے ایک کنارے ہوکر وضو کررہی ہے۔ میں نے پوچھا:یہ محل کس کا ہے ؟ اُن لوگوں نے کہا: یہ عمر بن خطابؓ کا ہے۔ مجھے اُن کی غیرت یاد آئی اور پیٹھ پھیر کر واپس چلا آیا۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے۔ یہ سن کر حضرت عمر بن خطابؓ روئے اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، کیا میں آپؐ پر بھی غیرت کھاؤں گا؟
عمرو بن علی (فلاس)نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ عبیداللہ بن عمر نے ہم سے بیان کیا۔ عبیداللہ نے محمد بن منکدر سے، ابن منکدر نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں کیا دیکھتا ہوں ایک سونے کا محل ہے ۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ لوگوں نے کہا: قریش کے ایک شخص کا۔ ابن خطابؓ اس محل میں جانے سے مجھے ضرور اسی بات نے روکا کہ میں تمہاری غیرت کو جانتا تھا۔ حضرت عمر ؓنے کہا کیا میں آپؐ پر بھی غیرت کھاؤں گا یا رسول اللہ ؟
یحيٰ بن بکیر نے مجھ سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی۔ سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں آپؐ نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے اپنے آپؐ کو جنت میں دیکھا۔ تو یکایک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت ہے جو محل کے ایک طرف ہوکر وضو کررہی ہے۔ میں نے کہا: یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمرؓ کا۔ مجھے ان کی غیرت یاد آئی اور میں پیٹھ پھیر کر وہاں سے چلا آیا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ روپڑے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان، کیا آپؐ پر بھی میں غیرت کھاؤں گا؟
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی کہ مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ کعبہ کا طواف کررہا ہوں۔ اتنے میں یکایک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گندم گوں شخص جس کے بال سیدھے ہیں دو مردوں کے درمیان چلا جارہا ہے۔ اس کا سر پانی سے ٹپک رہا ہے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: ابن مریم۔ پھرمیں مڑکر جو دیکھنے لگا تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہے جو سرخ رنگ بھاری بھرکم، سر کے بال گھنگریالے، داہنی آنکھ سے کانا جیسے کہ اس کی آنکھ ایک پھولا ہوا انگور ہوتا ہے۔ میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ دجال ہے۔ لوگوں میں سے جو اس سے بہت ملتا جلتا ہے ابن قطن ہے اور ابن قطن بنو مصطلق میں سے ایک شخص تھا جو خزاعہ کا ایک قبیلہ ہے۔
(تشریح)یحيٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سےروایت کی کہ حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے مجھے بتایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپؐ فرماتے تھے: میں سویا ہوا تھا اتنے میں میرے پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ میں نے اس سے اتنا پیا کہ اب بھی اس کی طراوت کو (جسم میں) سرایت کرتے ہوئے محسوس کرتا ہوں۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمرؓ کو دے دیا۔ لوگوں نے پوچھا: یارسول اللہ ! آپؐ نے اس کی کیا تعبیر کی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: علم۔
(تشریح)عبید اللہ بن سعید نے مجھ سے بیان کیا کہ عفان بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ صخر بن جویریہ نے ہم سےبیان کیا۔ نافع نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں کئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خواب دیکھتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو بیان کرتے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خواب کے متعلق جو اللہ چاہتا فرماتے اور میں ان دنوں کم سن لڑکا تھا اور مسجد ہی میرا گھر تھا۔ یہ واقعہ میرے نکاح کرنے سے پہلے کا ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا۔ اگر تم میں کوئی بھلائی ہوتی تو تم بھی ضرور ویسی ہی خواب دیکھتے جیسے لوگ دیکھتے ہیں۔ ایک رات میں لیٹا تو میں نے کہا: اے اللہ! تو مجھ میں کوئی بھلائی دیکھتا ہے تو مجھے بھی خواب دکھا۔ میں اسی خیال میں تھا کہ اتنے میں دو فرشتے میرے پاس آئے اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں لوہے کا ایک گرز ہے۔ مجھے جہنم کی طرف لے جارہے ہیں اور میں دونوں کے درمیان ہوں اور اللہ سے دعا کررہا ہوں کہ اے اللہ ! جہنم سے تیری پناہ لیتا ہوں۔ پھر اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ ایک فرشتہ ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا گرز ہے۔ وہ کہنے لگا: بالکل گھبراؤنہیں۔ تم تو اچھے آدمی ہو اگر تم نماز بہت پڑھا کرو۔ آخر وہ تینوں فرشتے مجھے لے گئے اور جا کر مجھے جہنم کے کنارے پر کھڑا کردیا۔ تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ کنوئیں کی طرح اس کی بھی کوٹھی بنی ہوئی ہے۔ اس کے بھی ایسے ہی مٹکے ہیں جیسے کنوئیں کے مٹکے۔ ہر دو مٹکوں کے درمیان ایک فرشتہ کھڑا ہے جس کے ہاتھ میں لوہے کا گرز ہے اور میں اس جہنم میں کئی مرد دیکھتا ہوں جو زنجیروں سے لٹکائے ہوئے ہیں۔ ان کے سر نیچے کو ہیں۔ میں نے اس میں قریش کے کچھ لوگ پہچانے۔ پھر وہ مجھے لے کر دائیں طرف کو مڑے۔
عبداللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔ اُنہوں نے زہری سے، زہری نے سالم سے، سالم نے حضرت ابن عمرؓ سے روایت کی۔ اُنہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میں جوان لڑکا تھا جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی اور میں مسجد میں ہی رات گزارا کرتا تھا اور جو شخص خواب دیکھتا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا۔ میں نے دعا کی: اے اللہ ! اگر تیرے حضور میرے لیے بھی کوئی بھلائی ہے تو مجھے خواب دکھا کہ جس کی تعبیر رسول اللہ مجھے بتائیں۔ سو یہ دعا مانگ کر میں سوگیا۔ میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے اور مجھے لے چلے۔ ایک اور فرشتہ اُن سے ملا وہ مجھ سے کہنے لگا: بالکل نہ گھبراؤ تم اچھے آدمی ہو۔ وہ مجھے دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ کنوئیں کی کوٹھی کی طرف وہ بھی اندر سے بنی ہوئی ہے اور اس میں کچھ لوگ ہیں جن میں سے بعض کو تو میں نے پہچان لیا۔ پھر وہ مجھے دائیں طرف کو لے گئے۔ جب میں صبح کو اُٹھا تو میں نے حضرت حفصہؓ سے یہ خواب ذکر کیا۔