بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
نیز مجھے محمد بن مثنیّٰ نے بتایا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ (بن عبدالاعلیٰ) نے بیان کیا کہ ہمیں سعید (بن ابی عروبہ) نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ حسن (بصری) نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت معقل بن یسارؓ کی بہن ایک شخص کے نکاح میں تھی۔ پھر اس نے اس کو طلاق دے دی اور اس سے الگ رہا۔ جب اس کی عدت پوری ہو چکی تو پھر اس کے بعد اس نے اس کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضرت معقلؓ کو اس سے غیرت کی وجہ سے غصہ آیا اور کہنے لگے کہ جبکہ وہ اُس سے رجوع کرنے پر قادر تھا تو اس وقت اس کو چھوڑ دیا۔ پھر (عدت گزرنے کے بعد) اب اس کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس لئے حضرت معقلؓ اس کے خاوند اور اپنی بہن کے درمیان روک بن گئے۔ اس لئے اللہ نے یہ حکم نازل کیا: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پورا کر لیں تو تم انہیں جبکہ وہ نیک طریق پر باہم رضا مند ہو جائیں اپنے خاوندوں کے ساتھ نکاح کر لینے سے مت روکو… اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت معقلؓ کو بلایا اور ان کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ یہ سن کر انہوں نے جوش چھوڑ دیا اور اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکایا۔
حضرت زینبؓ کہتی تھیں: میں حضرت زینب بنت جحشؓ کے پاس جب اُن کا بھائی فوت ہوگیا، گئی تو انہوں نے خوشبو منگائی اور اس سے کچھ لے کر لگائی ۔ پھر وہ کہنے لگیں: دیکھو! اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر کھڑے ہوئے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: کسی عورت کو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتی ہو یہ جائز نہیں کہ کسی پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے مگر خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے۔
اور میں نے حضرت زینب بنت امّ سلمہؓ سے سنا۔ وہ حضرت امّ حبیبہؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان عورت کے لئے جو اللہ اور یومِ آخر پر ایمان لاتی ہو جائز نہیں کہ تین دن سے اُوپر سوگ کرے۔ البتہ اپنے خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔
مسدد نے ہمیں بتایا کہ بِشر (بن مُفَضّل) نے ہم سے بیان کیا۔ سلمہ بن علقمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی کہ حضرت امّ عطیہؓ کہتی تھیں: ہمیں تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے روک دیا گیا سوائے خاوند کے۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ طلاق دی اور وہ اس وقت حائضہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو حکم دیا کہ وہ اُس کو واپس لے آئے اور پھر اُس کو اُس وقت تک رکھے جب تک کہ پاک نہ ہوجائے۔ اور پھر اس کے پاس ایک دفعہ اور حیض آئے۔ پھر اس کے بعد اس کو رہنے دے یہاں تک کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہوجائے۔ پھر اگر اس کو طلاق دینا چاہے تو جب وہ پاک ہوجائے اس سے جماع کرنے سے پہلے اس کو طلا ق دے۔ یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا کہ اس پر عورتوں کو طلاق دی جائے ۔اور حضرت عبداللہ (بن عمرؓ) سے جب اس کے متعلق پوچھا جاتا تو ان میں سے کسی کو کہتے: اگر تم نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو جب تک کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح نہ کرلے وہ تم پر حرام ہے۔ اور (قتیبہ کے سوا) اور لوگوں نے لیث سے روایت کرتے ہوئے اتنا زیادہ بیان کیا کہ نافع نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر ؓنے فرمایا: اگر تم ایک بار یا دو بار طلاق دو (تو تم رجوع کرسکتے ہو) کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی حکم دیا۔
حجاج (بن منہال) نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ محمد بن سیرین نے ہم سے بیان کیا، یونس بن جُبَیر نے مجھے بتایا۔ (یونس نے کہا کہ) میں نے حضرت ابن عمرؓ سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: ابن عمرؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دی جبکہ وہ حائضہ تھی تو حضرت عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ۔ آپؐ نے فرمایا: اسے کہو کہ وہ اسے واپس لے لے۔ پھر جب سے اُس کی عدت شروع ہو تو طلاق دے۔ میں نے کہا: کیا یہ طلاق شمار ہو گی؟ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: بتاؤ تو سہی اگر وہ (شریعت کے احکام بجا لانے سے) عاجز ہو یا بیوقوف بنے (تو اس سے کیا ہوتا ہے۔ )
حضرت زینبؓ کہتی تھیں: میں حضرت امّ حبیبہؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کے پاس جب ان کے باپ ابوسفیان بن حرب فوت ہوئے، گئی۔ تو حضرت امّ حبیبہؓ نے کچھ خوشبو منگوائی جس میں زعفران یا اس کے سوا کسی اور چیز کی زردی تھی۔ اور انہوں نے وہ خوشبو لڑکی کو لگائی پھر اپنے گالوں کو (ہاتھ پھیر کر) لگائی۔ پھر کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے تو خوشبو کی کچھ ضرورت نہیں مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرما رہے تھے: کسی عورت کو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لاتی ہو جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔
اور حُمَید نے کہا: میں نے حضرت زینبؓ سے پوچھا: سال کے آخر میں اونٹ کی مینگنی کیوں پھینکتی تھیں؟ تو حضرت زینبؓ نے فرمایا: یہ دستور تھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں داخل ہو جاتی اور نہایت ہی برے کپڑے پہنتی اور خوشبو نہ لگاتی۔ یہاں تک کہ اسی طرح ایک سال گزر جاتا۔ پھر اس کے پاس کوئی جانور گدھا یا بکری یا پرندہ لایا جاتا تو کم ہی ہوتا کہ جس جانور سے وہ اپنا جسم رگڑتی اور وہ نہ مرجاتا۔ (یعنی وہ ضرور ہی مرجاتا ۔)پھر وہ باہر آتی اور اسے ایک مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی۔ پھر اس کے بعد وہ دوبارہ خوشبو وغیرہ جو چاہتی لگاتی۔ مالک سے پوچھا گیا: مَا تَفْتَضُّ بِهِ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: اپنے جسم سے لگاتی تھی۔
آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ حُمَید بن نافع نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے حضرت زینب بنت امّ سلمہؓ سے، حضرت زینبؓ نے اپنی ماں سے روایت کی کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا تو اس کی آنکھوں کے خراب ہونے سے لوگ ڈرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپؐ سے سرمہ لگانے کی اجازت مانگی۔ آپؐ نے فرمایا: سرمہ نہ لگائے۔ وہ بھی تو ایک زمانہ تھا کہ تم میں سے ایک نہایت ہی برے کپڑوں میں یا فرمایا: نہایت ہی بری جھونپڑی میں رہا کرتی تھی۔ جب ایک سال ہو جاتا تو اگر سامنے سے کتا گزر تا تو وہ مینگنی پھینکتی۔ (سرمہ) نہ لگائے جب تک کہ چار مہینے اور دس دن نہ گزر جائیں۔