بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
اسماعیل (بن ابی اُوَیس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری)سے، یحيٰ نے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کی کہ انہوں نے ان دونوں سے سنا کہ وہ ذکر کرتے تھے کہ یحيٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو طلاق دی تو عبدالرحمٰن اس کو وہاں سے لے آئے اور حضرت عائشہؓ امّ المؤمنین نے مروان کو جو مدینہ کا حاکم تھا، کہلا بھیجا کہ اللہ سے ڈرو اور اس کو اس کے گھر میں واپس بھیج دو۔ سلیمان کی حدیث میں یوں ہے کہ مروان نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن حَکَم نے مجھے مجبور کر دیا۔ اور قاسم بن محمد نے یوں کہا: (اور مروان نے یہ جواب دیا) کیا آپؓ کو فاطمہ بنت قیسؓ کے واقعہ کی خبر نہیں پہنچی؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اگر تم فاطمہؓ کے واقعہ کا ذکر کرو تب بھی یہ تمہیں زیادہ فائدہ نہیں دینے کا۔ مروان بن حکم نے کہا: اگر آپؓ کی مراد شر سے ہے تو جواِن دونوں کے درمیان شر ہے وہ آپ کے لئے کافی ہے (فیصلہ کرنے کے لئے)۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر (محمد بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شعبہ (بن حجاج) سے، شعبہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ (قاسم بن محمد) سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: فاطمہ کو کیا ہوگیا ہے۔ وہ اللہ سےنہیں ڈرتی۔ کہتی ہے کہ طلاق والی عورت نہ نفقہ کی اور نہ رہنے کی جگہ کی مستحق ہے۔
محمد بن بشار نے ہمیں بتایا کہ غندر (محمد بن جعفر) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے شعبہ (بن حجاج) سے، شعبہ نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ (قاسم بن محمد) سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: فاطمہ کو کیا ہوگیا ہے۔ وہ اللہ سےنہیں ڈرتی۔ کہتی ہے کہ طلاق والی عورت نہ نفقہ کی اور نہ رہنے کی جگہ کی مستحق ہے۔
حبان (بن موسیٰ مروزی)نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہؓ نے فاطمہؓ کی ایسی بات کو برا منایا۔
حبان (بن موسیٰ مروزی)نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی کہ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہؓ نے فاطمہؓ کی ایسی بات کو برا منایا۔
محمد (بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالوہاب (ثقفی) نے ہمیں خبر دی۔ یونس (بن عبید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حسن (بصری) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت مَعْقل (بن یسارؓ) نے اپنی بہن کی شادی کی تو پھر اس (کے خاوند) نے اس کو ایک (دفعہ) طلاق دیدی
اسماعیل (بن ابی اُوَیس) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یحيٰ بن سعید (انصاری)سے، یحيٰ نے قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کی کہ انہوں نے ان دونوں سے سنا کہ وہ ذکر کرتے تھے کہ یحيٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو طلاق دی تو عبدالرحمٰن اس کو وہاں سے لے آئے اور حضرت عائشہؓ امّ المؤمنین نے مروان کو جو مدینہ کا حاکم تھا، کہلا بھیجا کہ اللہ سے ڈرو اور اس کو اس کے گھر میں واپس بھیج دو۔ سلیمان کی حدیث میں یوں ہے کہ مروان نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن حَکَم نے مجھے مجبور کر دیا۔ اور قاسم بن محمد نے یوں کہا: (اور مروان نے یہ جواب دیا) کیا آپؓ کو فاطمہ بنت قیسؓ کے واقعہ کی خبر نہیں پہنچی؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اگر تم فاطمہؓ کے واقعہ کا ذکر کرو تب بھی یہ تمہیں زیادہ فائدہ نہیں دینے کا۔ مروان بن حکم نے کہا: اگر آپؓ کی مراد شر سے ہے تو جواِن دونوں کے درمیان شر ہے وہ آپ کے لئے کافی ہے (فیصلہ کرنے کے لئے)۔
عمرو بن عباس نے ہمیں بتایا کہ (عبدالرحمٰن) بن مہدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہؓ سے کہا: کیا آپؓ نے حَکَم کی فلاں بیٹی کو نہیں دیکھا کہ جس کو اس کے خاوند نے قطعی طور پر طلاق دے دی اور وہ (گھر سے) نکل گئی۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: بہت ہی برا ہے جو اُس نے کیا۔ عروہ نے کہا: آپؓ نے فاطمہ (بنت قیسؓ) کی روایت نہیں سنی۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: دیکھو اس واقعہ کے ذکر کرنے سے اُس کے لئے کوئی بہتری نہیں۔ اور (عبدالرحمٰن) بن ابی زناد نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے اتنا اور بیان کیا کہ حضرت عائشہؓ نے اس کو نہایت ہی معیوب گردانا اور کہا: فاطمہؓ تو ایک اُجاڑ جگہ میں تھی جو بالکل الگ تھلگ تھی۔ اس کے اطراف میں ہمیشہ ڈر لگا رہتا تھا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دی.
عمرو بن عباس نے ہمیں بتایا کہ (عبدالرحمٰن) بن مہدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے، عبدالرحمٰن نے اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہؓ سے کہا: کیا آپؓ نے حَکَم کی فلاں بیٹی کو نہیں دیکھا کہ جس کو اس کے خاوند نے قطعی طور پر طلاق دے دی اور وہ (گھر سے) نکل گئی۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: بہت ہی برا ہے جو اُس نے کیا۔ عروہ نے کہا: آپؓ نے فاطمہ (بنت قیسؓ) کی روایت نہیں سنی۔ حضرت عائشہؓ نے کہا: دیکھو اس واقعہ کے ذکر کرنے سے اُس کے لئے کوئی بہتری نہیں۔ اور (عبدالرحمٰن) بن ابی زناد نے ہشام سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے اتنا اور بیان کیا کہ حضرت عائشہؓ نے اس کو نہایت ہی معیوب گردانا اور کہا: فاطمہؓ تو ایک اُجاڑ جگہ میں تھی جو بالکل الگ تھلگ تھی۔ اس کے اطراف میں ہمیشہ ڈر لگا رہتا تھا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دی.
سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حَکَم (بن عتیبہ) سے، حَکَم نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود (بن یزید) سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ فرماتی تھیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج سے واپسی پر)کوچ کرنے کا ارادہ کیا تو آپؐ نے کیا دیکھا کہ حضرت صفیہؓ اپنے خیمہ کے دروازے پر افسردہ بیٹھی ہیں۔ آپؐ نے یہ دیکھ کر اُن سے فرمایا: ارے زخمن(بانجھ)! یا فرمایا: سر منڈھی! تم تو ہمیں روک رکھو گی۔ کیا تم نے قربانی کے دن طواف زیارت کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر کوچ کرو۔