بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ یحيٰ (بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے عبیداللہ (بن عمر عمری) سے، اُنہوں نے کہا: قاسم بن محمد نے مجھ سے بیان کیا۔ قاسم نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور پھر اُس نے نکاح کرلیا اور اس دوسرے نے بھی طلاق دے دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا پہلے کے لئے یہ جائز ہوگئی؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، جب تک کہ دوسرا اس کا مزہ نہ اٹھائے جیسا کہ پہلے نے اٹھایا۔
(تشریح)عمر بن حفص (بن غیاث) نے ہم سے بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے ہم سے بیان کیا کہ مسلم (بن صبیح ابوالضحیٰ) نے ہمیں بتایا۔ مسلم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا اور ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کیا اور یہ ہمارے متعلق کوئی طلاق نہیں شمار کی گئی۔
5264:اور لیث نے کہا: اُنہوں نے نافع سے نقل کیا۔ اُنہوں نے کہا: حضرت (عبداللہ) بن عمرؓ سے جب اس شخص کے متعلق پوچھا جاتا جس نے تین طلاقیں دے دیں تو وہ کہتے: اگر تو ایک دفعہ یا دو دفعہ طلاق دیتا (تو رجوع کرسکتا تھا) کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی حکم دیا ۔ اگر تم اس کو تین طلاقیں دے دو تو وہ تم پر حرام ہوگئی یہاں تک کہ تمہارے سوا کسی اور خاوند سے نکاح کرے.
محمد (بن سلام) نے ہمیں بتایا کہ ابومعاویہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: ایک مرد نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ اس عورت نے اُس کے سوا کسی اور مرد سے شادی کرلی ۔ پھر اُس نے بھی اُس کو طلاق دے دی اور اُس کا کپڑے کے حاشیہ کی طرح تھا۔ اور اُس سے وہ کچھ بھی مقصد حاصل نہ کرسکی جو وہ چاہتی تھی۔ پھر جلد ہی اس نے اس عورت کو طلاق دے دی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ ! میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی تھی اور میں نے اُس کے سوا ایک اور خاوند سے شادی کی وہ مجھ سے ہم بستر ہوا اور اس کا تو کپڑے کے حاشیہ کی طرح تھا۔ اور وہ ایک ہی بار کچھ ایسے ہی میرے ساتھ رہا کہ مجھ سے کچھ کر نہ سکا، تو کیا میں اپنے پہلے خاوند کے لئے جائز ہوں گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے پہلے خاوند کے لئے اس وقت تک جائز نہیں ہوسکتی جب تک یہ دوسرا تمہارا مزہ نہ اٹھا ئے اور تم اس کا مزہ نہ اٹھاؤ۔
حسن بن صباح نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ربیع بن نافع سےسنا کہ معاویہ (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا۔ معاویہ نے یحيٰ بن ابی کثیر سے، یحيٰ نے یعلیٰ بن حکیم سے، یعلیٰ نے سعید بن جبیر سےروایت کی کہ وہ اُنہیں خبر دیتے تھے کہ اُنہوں نے حضرت ابن عباسؓ سے سنا وہ کہتے تھے: اگر کوئی اپنی بیوی سے یوں کہے کہ تو مجھ پر حرام ہے تو اُس سے کچھ نہیں ہوتا اور اُنہوں نے کہا: تمہارے لئے رسول اللہ میں اچھا نمونہ ہے۔
حسن بن محمد بن صباح نے مجھ سے بیان کیا کہ حجاج (بن محمد اعور) نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابنِ جریج سے، ابن جریج نے کہا: عطاء (بن ابی رباح) نے کہا: اُنہوں نے عبید بن عمیر سے سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زینبؓ بنت جحش کے پاس ٹھہرجایا کرتے تھے اور وہاں شہد پیا کرتے تھے۔ میں نے اور حفصہؓ نے مل کر آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئیں، تو وہ یوں کہے: میں آپؐ سے ہینگ کی بو محسوس کرتی ہوں ۔ آپؐ نے ہینگ کھائی ہے۔ چنانچہ آپؐ اُن میں سے ایک کے پاس آئے اور اُس نے آپؐ سے یہ کہا۔ آپؐ نے فرمایا: نہیں بلکہ میں نے زینبؓ بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور اب کبھی اسے دوبارہ نہیں پیوں گا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اے نبى! تُو کىوں حرام کررہا ہے جسے اللہ نے تىرے لئے حلال قرار دىا ہے تُو اپنى بىوىوں کى رضا چاہتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اللہ نے تم پر اپنى قسمىں کھولنا لازم کردىا ہے اور اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ صاحبِ علم (اور) صاحبِ حکمت ہے۔اور جب نبى نے اپنى بىوىوں مىں سے کسى سے بصىغۂ راز اىک بات کہى پھر جب اس نے وہ بات (آگے) بتا دى اور اللہ نے اُس (ىعنى نبى) پر وہ (معاملہ) ظاہر کر دىا تو اُس نے کچھ حصہ سے تو اُس (بىوى) کو آگاہ کردىا اور کچھ سے چشم پوشى کى پس جب اُس نے اُس (بىوى) کو اِس کى خبر دى تو اُس نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتاىا ہے تو اس نے کہا کہ علىم و خبىر نے مجھے بتاىا ہے۔ اگر تم دونوں اللہ کى طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو (ىہى زىبا ہے۔) یہ خطاب حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کو ہے۔ یعنی جب نبی نے اپنی بیویوں میں سے کسی کو بطور راز کے بتایا، اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا تھا: نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔
فروہ بن ابی المغراء نے ہم سے بیان کیا کہ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد اور میٹھا پسند کرتے تھے اور جب عصر کی نماز سے فارغ ہو جاتے تو اپنی ازواج کے پاس جاتے اور ان میں سے ایک کے پاس بیٹھ کر باتیں بھی کرتے۔ آپؐ حفصہ بنت عمرؓ کے پاس گئے اور وہاں اس سے زیادہ دیر ٹھہرے جو عموماً آپؐ ٹھہرا کرتے تھے۔ میں نے اس سے غیرت کھائی اور میں نے اس کی وجہ دریافت کی۔ مجھے بتایا گیا کہ حفصہؓ کی قوم کی ایک عورت نے اُن کو شہد کا ایک کُپا ہدیۃً دیا اور اُنہوں نے نبی صلی ا للہ علیہ وسلم کو شہد کا کچھ شربت پلایا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں بھی آپؐ کے لئے حیلہ کروں گی ۔ میں نے سودہ بنت زمعہؓ سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اب تمہارے پاس آئیں گے جب تمہارے پاس آئیں تو تم کہنا آپؐ نے ہینگ کھائی ہے تو وہ تم سے کہیں گے نہیں۔ پھر تم اُن سے کہنا: یہ کیا بو ہے جو میں آپؐ سے محسوس کررہی ہوں ؟ وہ تم سے کہیں گے کہ حفصہؓ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ تم کہنا: اس شہد کی مکھی نے عُرفط کے درخت کا رس چوسا ہے اور میں بھی یہی کہوں گی اور صفیہؓ! تم بھی ایسا ہی کہنا۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا: سودہؓ کہتی تھیں: اللہ کی قسم! ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن کھڑے ہوئے اور میں نے تمہارے ڈر سے یہ چاہا کہ جو بات تم نے مجھ سے کہی تھی وہ جھٹ پہلے ہی آپؐ سے کہہ دوں (مگر کہہ نہ سکی۔) جب آپؐ اُن کے نزدیک آئے تو سودہؓ نے آپؐ سے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے کہیں ہینگ کھائی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں۔ سودہؓ نے کہا: پھر یہ کیا بو ہے جومیں آپؐ سے محسوس کرتی ہوں؟ آپؐ نے فرمایا: حفصہؓ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ تب سودہؓ نے کہا: اس شہد کی مکھی نے عُرفط کا رس چوسا ہے۔ جب آپؐ چکر لگا کر میرے پاس آئے میں نے آپؐ سے یہی کہا اور جب صفیہؓ کے پاس گئے اُنہوں نے بھی یہی کہا۔ جب حفصہؓ کے پاس (دوسرے دن) چکر لگاتے ہوئے گئے انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ ! کیا میں آپؐ کو شہد کا شربت نہ پلاؤں؟ آپؐ نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت عائشہؓ کہتی تھیں: سودہؓ کہنے لگیں: اللہ کی قسم ! ہم نے آپؐ کو شہد سے محروم کیا۔ میں نے کہا: چپ رہو۔
مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایاکہ ہشام (دستوائی) نے ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُرارہ بن اوفیٰ سے، زُرارہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ نے میری امت سے ان خیالات میں درگزر کیا ہے جو کہ اُن کے نفس میں پیدا ہوتے ہوں جب تک کہ وہ اُن پر عمل نہ کرے یا زبان سے نہ نکالے۔ قتادہ نے کہا: اگر کسی نے اپنے دل میں طلاق دے دی تو وہ بے کار ہے۔
اصبغ (بن فرج) نے ہم سے بیان کیا کہ (عبداللہ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت جابرؓ(انصاری) سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ (وہ کہتے تھے:) اسلم قبیلے کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ مسجد میں تھے اور کہنے لگا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپؐ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ مگر پھر وہ اُدھر ہی گیا جدھر آپؐ نے منہ پھیرا اور اپنے متعلق چار قسمیں کھاکر اپنے خلاف شہادت دی۔ آپؐ نے اُس کو بلایا اور فرمایا: تمہیں جنون تو نہیں؟ کیا تمہارا نکاح ہوچکا ہے؟ اُس نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اُس کو عید گاہ میں سنگسار کیا جائے۔ جب پتھر اس پر پڑنے لگے تو وہ بھاگا۔ آخر حرہ میں جاکر پکڑا گیا اور پھر مار ڈالا گیا۔