بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 100 hadith
ابوالیمان(حکم بن نافع) نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب(بن ابی حمزہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زُہری سےروایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب نے بتایا۔ان دونوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ایک شخص اسلم قبیلے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپؐ مسجد میں تھے۔ اُس نے پکار کر کہا: یا رسول اللہ! اس کم بخت نے زنا کیا۔ اس سے مراد اُس کی اپنی ذات تھی۔ آپؐ نے اس سے منہ پھیر ا ۔ وہ اُدھر ہی گیا جدھر آپؐ نے منہ پھیرا تھا اور پھر کہنے لگا: یا رسول اللہ! اس کم بخت نے زنا کر لیا ہے۔ آپؐ نے پھر اس سے منہ پھیر لیا؛ اور وہ اُدھر ہی گیا جدھر آپؐ نے منہ پھیرا تھا اور پھر اس نے وہی کہا۔ آپؐ نے پھر اس سے منہ پھر لیا؛ اور چوتھی دفعہ پھر اُدھر ہی گیا ۔ جب اس نے چار دفعہ اپنے خلاف شہادت دی تو آپؐ نے اُس کو بلایا اور فرمایا: کیا تمہیں جنون تو نہیں۔ اُس نے کہا: نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور اس کو سنگسار کرو۔ اور وہ شادی شدہ تھا۔
اور (اسی سند سے) زُہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس کو سنگسار کیا۔ اور ہم نے مدینہ کی عید گاہ میں اس کو سنگسار کیا تھا۔ جب پتھر اس پر پڑنے لگے تو وہ بھاگا۔ آخر ہم نے اس کو حرہ میں جاپکڑا اور اسے پتھراؤ کیا یہاں تک کہ وہ مرگیا۔
(تشریح)اور (ابن طہمان نے اس حدیث کو) ایوب بن ابی تمیمہ(سختیانی) سے روایت کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے، انہوں نے کہا کہ ثابت بن قیسؓ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میں ثابتؓ پر دین یا اَخلاق کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار نہیں کرتی مگر میں اس کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اُس کو اُس کا باغ واپس کردوگی؟ اُس نے کہا: ہاں۔
سلیمان (بن حرب) نے ہم سے بیان کیا کہ حماد (بن زید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے، ایوب نے عکرمہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) جمیلہ (آپؐ کے پاس آئی۔) اور پھر سارا واقعہ بیان کیا۔
ابوالولید (ہشام بن عبدالملک) نے ہمیں بتایا کہ لیث (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے مِسور بن مَخرمہ زُہری سے روایت کی۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ بنی مغیرہ نے مجھ سے اجازت لی کہ حضرت علیؓ اُن کی بیٹی سے نکاح کرلیں مگر میں اجازت نہیں دیتا۔
(تشریح)ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ اور ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے اس کو یعنی بریرہؓ کے خاوند کو دیکھا کہ وہ غلام تھا۔
اَزہر بن جمیل نے ہمیں بتایا کہ عبدالوہاب ثقفی نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (حذاء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) ثابت بن قیسؓ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! ثابت بن قیسؓ پر میں کسی اخلاق یادین کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار نہیں کرتی لیکن میں مسلما ن رہ کر خاوند کی ناشکر گزاری کو ناپسند کرتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اُسے اُس کا باغ واپس کردو گی؟ اُس نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باغ کو لے لو اور اُسے طلاق دے دو۔ ابو عبد اللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: (اَزہر بن جميل) کی حضرت ابن عباسؓ کے بارے ميں متابعت نہيں کی گئی.
اسحاق (بن شاہین) واسطی نے مجھ سے بیان کیا کہ خالد (بن عبداللہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء سے، حذاء نے عکرمہ سے روایت کی۔ (وہ کہتے تھے:) عبداللہ بن اُبیّ کی بہن (آپؐ کے پاس آئی۔) پھر یہی واقعہ بیان کیا۔ اور آپؐ نے فرمایا: کیا تم اس کا باغ واپس کردوگی؟ اس نے کہا: ہاں۔ چنانچہ اس نے اس کو وہ (باغ) واپس دے دیا اور آپؐ نے اس کو حکم دیا کہ اسے طلاق دے دو۔ اور ابراہیم بن طہمان نے خالد (حذاء) سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی (اور اس میں یوں ہے: آپؐ نے فرمایا:(اس کو طلاق دے دو۔
محمد بن عبداللہ بن مبارک مُخَرمی نے ہمیں بتایا کہ قُراد ابونوح نے ہم سے بیان کیا۔ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ثابت بن قیس بن شماسؓ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یارسول اللہ! میں ثابتؓ (بن قیس) سے دین یا کسی اَخلاق کی وجہ سے ناراض نہیں مگر میں یہ ڈرتی ہوں کہ کہیں ناشکرگزار نہ بنوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اُس کو اُس کا باغ واپس کردو گی؟ اُس نے کہا: ہاں۔ چنانچہ اُس نے اُس کو وہ (باغ) واپس دے دیا اور آپؐ نے ثابتؓ کو حکم دیا اور اُس نے اُس کو چھوڑ دیا۔
اسماعیل بن عبداللہ (اُوَیسی) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے، ربیعہ نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: بریرہؓ میں تین نمونے ہیں: ایک نمونہ تو یہ کہ وہ آزادکی گئی اور اُسے اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور حقِ وراثت اُس کا ہے جو غلام آزاد کرے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے اور ہانڈی میں گوشت ابل رہا تھا۔ آپؐ کے سامنے روٹی اور گھر کے سالن میں سے کچھ رکھا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا میں نے ہانڈی نہ دیکھی تھی جس میں کچھ گوشت تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں مگر وہ ایسا گوشت ہے جو بریرہؓ کو صدقہ کے طور پر دیا گیا ہے اور آپؐ صدقہ نہیں کھایا کرتے۔ آپؐ نے فرمایا: اُس کے لئے صدقہ اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
(تشریح)