بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 105 hadith
اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا کہ ابواسامہ (حماد بن اسامہ) نے ہمیں بتایاکہ ہاشم بن ہاشم نے ہم سے بیان کیا، ہاشم نے کہا میں نے عامر بن سعد سےسنا، (عامر نے کہا) میں نے حضرت سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے: جس نے صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھالیں اس دن اس کو نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا اور نہ جادو۔
(تشریح)اور اسی سند سے ابو سلمہ (بن عبدالرحمٰن) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا وہ اس کے بعد کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی تندرست اونٹ کے پاس بیمار اونٹ نہ لایا جائے اور حضرت ابوہریرہؓ نے پہلی حدیث کا انکار کیا ۔ ہم نے کہا: کیا آپؓ نے نہیں بتایا تھا کہ چھوت سے کوئی بیماری نہیں ہوتی؟ پھر وہ حبشی (زبان)بولنے لگے۔ ابوسلمہ کہتے تھے میں نے حضرت ابوہریرہؓ کو نہیں دیکھا کہ وہ اس کے سوا کوئی اور حدیث بھولے ہوں ۔
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے کہا مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن (بن عوف) نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: چھوت سے کوئی بیماری نہیں ہوتی۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: بیمار اونٹ کو تندرست اونٹ کے پاس نہ لاؤ۔
اور اسی سند سے زہری سے مروی ہے انہوں نے کہا: مجھے سنان بن ابی سنان دُؤَلی نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوت سے کوئی بیماری نہیں۔ یہ سن کر ایک اعرابی کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ آپؐ نے اونٹوں کو دیکھا ہے کہ ریگستان میں ہرنوں کی طرح ہوتے ہیں تو ان میں ایک خارشی اونٹ آجاتا ہے۔ پھر وہ سب خارشی ہو جاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پہلے کو کس نے چھوکر بیمار کیا تھا۔
محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ شعبہ (بن حجاج) نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔ قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: چھونے سے کوئی بیماری نہیں ہوتی اور نہ بدشگونی کوئی حقیقت رکھتی ہے اور مجھے فال اچھا لگتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: فال کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: اچھی بات۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھے بتایا کہ ہشام بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا، معمر نے زہری سے، زہری نے ابو سلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے، ابوسلمہ نے حضرت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو کوئی متعدی بیماری ہوتی ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ کوئی ایسا اُلو ہے جس میں مردے کی روح نے جنم لیا ہو ۔ یہ سن کر ایک اعرابی نے کہا: یا رسول اللہ ! پھر ان اونٹوں کو کیا ہوجاتا ہے کہ ریگستان میں ایسے ہوتے ہیں جیسے کہ ہرن اتنے میں ان میں ایک خارش زدہ اونٹ آملتا ہے اور ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر پہلے اونٹ کو کس نے چھو کر بیمار کیا تھا۔
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: (عبداللہ) بن وہب نے مجھے بتایا۔ انہوں نے یونس (بن یزید) سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:سالم بن عبداللہ اور حمزہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو چھونے سے کوئی بیماری ہوتی ہے نہ بدشگونی کوئی چیز ہے۔ نحوست تین چیزوں میں ہے۔ گھوڑے، عورت اور گھر میں۔
قتیبہ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سعید بن ابی سعید سے، سعید نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب خیبر فتح کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری بطور ہدیہ کے دی گئی جو زہر آلود تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہاں جو یہود ہیں انہیں میرے پاس جمع کرو۔ چنانچہ وہ سب آپ کے پاس لائے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: میں تم سے ایک بات پوچھنے لگا ہوں کیا تم مجھے اس کے متعلق سچ سچ بتاؤگے؟ انہوں نے کہا: ابوالقاسم ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے اُن سے پوچھا: تمہارا باپ کون ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارا باپ فلاں شخص ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جھوٹ کہا ہے تمہارا باپ تو فلاں ہے۔ انہوں نے کہا: آپؐ نے سچ کہا اور ٹھیک فرمایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم مجھ سے ایک بات کے متعلق سچ بیان کرو گے اگر میں تم سے اس کے متعلق پوچھوں؟ انہوں نے کہا: ہاں ابوالقاسم اور اگر ہم نے آپؐ سے جھوٹ کہا تو آپؐ ہمارا جھوٹ معلوم کرلیں گے جیسا کہ آپؐ نے ہمارے باپ کے متعلق جھوٹی بات کو معلوم کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا:دوزخی کون ہیں؟ وہ کہنے لگے: ہم دوزخ میں تھوڑی دیر رہیں گے پھر تم لوگ اس میں ہمارے بعد جاؤ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: دور ہو جاؤ تم ہی اس میں رہو۔ اللہ کی قسم ! ہم اس میں کبھی بھی تمہارے بعد نہیں جائیں گے۔ پھر آپؐ نے انہیں فرمایا:اگر میں تم سے ایک بات پوچھوں، سچ سچ بیان کرو گے اگر میں تم سے پوچھوں؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے فرمایا: کیا تم نے اس بکری کو زہر آلود کیا تھا؟ اُنہوں نے کہا: ہاں۔ آپؐ نے پوچھا: تمہیں اس بات پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اُنہوں نے کہا: ہم چاہتے تھے کہ اگر آپؐ جھوٹے ہوئے ہم آپؐ سے چھٹکارا پائیں گے اور اگر آپؐ (سچے) نبی ہوئے تو آپؐ کو یہ نقصان نہ دے گا۔
(تشریح)عبداللہ بن عبدالوہاب نے ہمیں بتایا کہ خالد بن حارث نے ہم سے بیان کیاکہ شعبہ نے ہمیں بتایا، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے کہا میں نے ذکوان سے سنا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا: جو شخص پہاڑ سے کود کر خودکشی کر لے تو وہ جہنم کی آگ میں گرتا رہے گا۔ جس میں اسے ہمیشہ رکھا جائے گا اور جس نے زہر کا گھونٹ پیا اور اپنے تئیں مار ڈالا اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جہنم کی آگ میں ہمیشہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیتا رہے گا۔ اس حالت میں اسے ہمیشہ رکھا جائے گا اور جس نے اسے لوہے کے کسی ہتھیار سے خودکشی کی تو اس کا ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا وہ جہنم کی آگ میں پڑے ہوئے ہمیشہ اس کو اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا اس حالت میں اس کو ہمیشہ رکھا جائے گا۔