بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 105 hadith
قتیبہ (بن سعید) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا اور اس کا جنین گرا دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق ایک بَردہ دینے کا فیصلہ فرمایا غلام ہو یا لونڈی۔
اور اسی سند سے ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنین کے متعلق کہ جو اپنی ماں کے پیٹ میں مارا جائے، ایک بردہ دینے کا فیصلہ فرمایا، غلام ہو یا لونڈی۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھاکہنے لگا میں اس کا تاوان کیسے دوں؟ جس نے نہ کھایا، نہ پیا،نہ بولا اور نہ چلایا۔ ایسا خون تو بلا تاوان کے ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (قافیہ بندی) سن کر فرمایا: یہ تو کاہنوں کا بھائی ہے۔
عبداللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان کیا کہ (سفیان) بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث سے، ابوبکر نے حضرت ابومسعود (عقبہ بن عمرو انصاریؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت اور رنڈی کی خرچی اور کاہن کی شیرینی سے منع فرمایا۔
عبدالعزیز بن عبداللہ (اویسی) نے مجھ سے بیان کیا۔ وہ کہتے ہیں سلیمان (بن بلال) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ثور بن زید (دیلی) سے، ثور نے ابوالغیث سے، ابوالغیث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلاک کرنے والی باتوں سے بچتے رہو یعنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور جادو۔
عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید بن اسلم سے، زید نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ مشرق سے دو آدمی آئے اور ان دونوں نے تقریریں کیں۔ لوگوں نے ان کے بیان کو پسند کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یقیناً بعض تقریریں بھی جادو ہوتی ہیں یا فرمایا: کوئی تقریر بھی جادو ہی ہوتی ہے۔
علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہمیں بتایا۔ کہ ہشام بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ معمر نے زہری سے، زہری نے یحيٰ بن عروہ بن زبیر سے، یحيٰ نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، آپ بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ لوگوں نے کاہنوں کے متعلق پوچھا۔ آپؐ نے فرمایا: ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ ہمیں کبھی کبھی کچھ بتا ہی دیتے ہیں جو سچ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: وہ بات جو سچی ہوتی ہے وہ یہ کسی جن سے اچک لیتے ہیں۔ پھر وہ اس بات کو اپنے دوست کے کان میں ڈال دیتے ہیں اور یہ کاہن اس کے ساتھ سو جھوٹ ملاتے ہیں۔ علی(بن مدینی) کہتے تھے: عبدالرزاق الْكَلِمَةُ مِنَ الْحَقِّ کو مرسلاً روایت کرتے تھے۔ پھر مجھے یہ خبر پہنچی کہ عبدالرزاق نے اس کے بعد اس کو سند کے ساتھ بیان کیا۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عیسی بن یونس نے ہمیں بتایا۔ ہشام (بن عروہ) سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ آپ بیان کرتی ہیں: بنو زریق (یہودی) قبیلے کے ایک شخص نے جسے لبید بن اعصم کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوتا کہ آپؐ نے کوئی کام کیا ہے بحالیکہ وہ نہ کیا ہوتا۔ آخر ایک دن یا ایک رات کو جبکہ آپؐ میرے ہاں تھے دعا میں مشغول رہے اس کے بعد فرمایا: عائشہؓ کیا تمہیں معلوم ہوا ہے کہ اللہ نے مجھے وہ بات بتلادی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی۔ میرے پاس دو شخص آئے۔ ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میری پائنتی کی طرف۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اس شخص کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے جواب دیا وہی جس کو جادو کیا گیا ہے۔ اس نے پوچھا: اس کو کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: لبید بن اعصم (یہودی)نے۔ اس نے پوچھا: کس چیز میں ؟ اس نے کہا: کنگھی میں اور کنگھی سے اترے ہوئے بالوں میں اور نر کھجور کے خشک خوشہ میں۔ اس نے پوچھا کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: ذروان کے کنویں میں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض صحابؓہ سمیت وہاں گئے اور پھر وہاں سے آئے اور فرمانے لگے: عائشہؓ اس کنویں کا پانی مہندی کے پانی جیسا تھا اور وہاں کھجوروں کے درختوں کی چوٹیاں ایسے تھیں جیسے سانپوں کے پھن۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ آپؐ نے اس جادو کو نکال کیوں نہ لیا؟ فرمایا: اللہ نے تو مجھے اچھا کردیا ہے اس لئے میں نے ناپسند کیا کہ میں اس وجہ سے لوگوں میں شر برپا کروں۔ آپؐ نے اس کنویں کی بابت حکم دیا اور وہ پُرکردیا گیا۔ (عیسیٰ بن یونس کی طرح) ابواُسامہ اور ابوضمرہ (انس بن عیاض) اور ابن ابی زناد نے بھی ہشام سے ہی اس کو روایت کیا اور لیث اور (سفیان) بن عیینہ نے بھی ہشام سے اس کو روایت کیا انہوں نے یوں کہا: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ۔ المُشَاطَةُ اُن بالوں کو کہتے ہیں جو کنگھی کرنے سے نکلتے ہیں اور سوت کے تار کو بھی مُشَاطَةٌ کہتے ہیں۔
(تشریح)عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا میں نے ابن عیینہ سے سنا وہ کہتے تھے: پہلے جس نے ہم سے جادو کی حدیث بیان کی وہ ابن جریج تھے وہ کہتے تھے: مجھ سے عروہ کی اولاد نے عروہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔ پھر میں نے ہشام (بن عروہ) سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہمیں اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے تھے۔ وہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا یہاں تک کہ آپؐ سمجھتے کہ آپؐ اپنی عورتوں کے پاس ہو آئے ہیں حالانکہ ان کے پاس نہیں آئے تھے۔ سفیان (بن عیینہ) کہتے تھے: یہ تو بہت ہی سخت جادو ہے اگر ایسا ہی تھا ۔ آپؐ نے فرمایا: عائشہؓ کیا تمہیں معلوم ہے ہوا کہ میں نے جو بات اللہ سے پوچھی تھی اس نے مجھے وہ بتلا دی ہے۔ میرے پاس دو شخص آئے۔ ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھا دوسرا پائنتی کی طرف۔ جو شخص میرے سرہانے بیٹھا تھا اس نے دوسرے سے کہا: اس آدمی کو کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: اس کو جادو کیا گیا ہے۔ اس نے پوچھا: کس نے جادو کیا ہے؟ اس نے جواب دیا۔ لبید بن اعصم نے جو بنو زریق قبیلے کا ایک شخص ہے جو یہود کا حلیف ہے وہ منافق تھا۔ اس نے پوچھا: کس چیز میں جادو کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: کنگھی اور سوت میں۔ اس نے پوچھا: یہ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ نَر کھجور کے خوشے کے غلاف میں ذروان کنویں میں ایک پتھر کے نیچے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں: اس پر نبی ﷺ اس کنویں پر گئے اور اس کو نکالا۔ آپؐ نے فرمایا: یہ وہ کنواں ہے جو مجھ کو دکھلایا گیا تھا۔ اس کا ایسا پانی تھا جیسے مہندی کاپانی اور وہاں کی کھجوروں کے درخت ایسے تھے جیسے سانپوں کے پھن ۔ عروہ نے کہا: کیا پھر وہ جادو نکالا گیا؟ حضرت عائشہؓ نے کہا میں نے آپؐ سے پوچھا: آپؐ نے جادو کیوں نہیں کھلوایا؟ آپؐ نے فرمایا: اب تو بخدا مجھے اللہ نے شفا دے دی ہے اور میں برا مناتا ہوں کہ میں لوگوں میں سے کسی کے بر خلاف شر بھڑکاؤں۔
عبیدبن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ابواُسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہؓ سے، وہ بیان کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا یہاں تک کہ آپؐ کو یہ خیال ہوتا تھا کہ آپؐ کوئی کام کررہے ہیں حالانکہ آپؐ نے وہ کیا نہ ہوتا۔ ایک دن جب کہ آپؐ میرے پاس تھے۔ آپؐ نے اللہ سے بہت بہت دعا کی پھر فرمایا: عائشہؓ کیا تمہیں معلوم ہوا کہ اللہ نے جو میں نے اس سے دریافت کیا تھا اس کے متعلق مجھے بتلایا ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ کیاہے؟ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس دو آدمی آئے ان میں سے ایک میرے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پائنتی۔ پھر اُن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اس شخص کو کیا بیماری ہے؟ اس کا ساتھی یوں بولا: اسے جادو کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھی نے کہا:اس کو کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا: لبید بن اعصم یہودی نے جو بنی زریق قبیلے سے ہے۔ پوچھا: کس میں جادو کیا ہے؟ اس نے کہا: کنگھی اور کنگھی کے بالوں میں اور نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں۔ پوچھا: یہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: ذی اروان کنویں میں۔ عروہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں سمیت اس کنوئیں پر گئے اور اس کو دیکھا اور وہاں کھجوروں کے درخت تھے۔ پھر حضرت عائشہؓ کے پاس لوٹ آئے اور فرمانے لگے: اللہ کی قسم ! اس کا پانی ایسا تھا جیسے مہندی کا پانی اور وہاں کے درخت ایسے تھے جیسے سانپوں کے پھن۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے اس کو نکال دیا؟ فرمایا: نہیں مجھے جب خدا نے تندرست کر دیا ہے اور شفا دے دی ہے اور مجھے خدشہ تھا کہ میں اس وجہ سے لوگوں کے برخلاف کسی شر کو نہ بھڑکادوں۔ آپؐ نے اس کنوئیں کے متعلق حکم دیا اور وہ دفنا دیا گیا۔