بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبردی کہ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عز و جل فرماتا ہے: خر چ کر میں بھی تجھ پر خرچ کروں گا اور آپؐ نے فرمایا: اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے کوئی خرچ اس کو گھٹاتا نہیں ہے، رات دن اس کے فیض (بارش کی طرح) جاری ہیں اور آپؐ نے فرمایا: تم نے دیکھا کہ جب سے اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے تب سے کتنا کچھ خرچ کیا ہے۔ پھر بھی اس خرچ نے جو اس کے ہاتھ میں ہے گھٹایا نہیں اور اُس کا عرش پانی پر ہے اور اُس کے ہاتھ میں میزان ہے۔ جسے جھکا بھی رہا ہے اور اُٹھا بھی رہا ہے۔ اعْتَرٰىكَ لفظ عَرَی سے افتعل کے وزن پر ہے، جیسے عَرَوْتُهُ ہے یعنی اس کو میں نے پالیا اور اس سے يَعْرُوهُ (وہ اس کو پکڑ لیتا ہے) اور اعْتَرَانِي (اس نے مجھے آپکڑا) ہیں۔ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا سے مراد یہ ہے کہ وہ اس کے قبضہ قدرت اور تسلط میں ہے۔ عَنِيْدٌ ، عَنُودٌ اور عَانِدٌ ایک ہی ہیں۔ (یعنی سرکش، مخالف۔) عَنِيْدٌ لفظ جَبَّار کے بعد بطور تاکید کے ہے۔ وَيَقُوْلُ الْاَشْهَادُ میں اَشْهَادُ کا مفرد شاہد ہے۔ جیسے صَاحِب کی جمع أَصْحَاب ہے۔ اسْتَعْمَرَكُمْ کے معنیہیں تم کو آباد کرنے والے بنایا۔ کہتے ہیں أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ میں نے اس کو گھر میں آباد کیا۔ آباد گھر کو کہتے ہیں عُمْرَی (أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ) یعنی اس کو گھر عمر بھر کےلیے دے دیا۔ نَكِرَهُمْ ، أَنْكَرَهُمْ اور اسْتَنْكَرَهُمْ کے ایک ہی معنی ہیں۔ (اس نے اُنہیں نہ پہچانا۔ ) حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ فعیل کے وزن پر ہیں۔ مَجِيْدٌ کے معنی ہیں ماجد (یعنی بزرگ) اور حَمِيْدٌ کے معنی محمود ہیں (یعنی جس کی بہت تعریف کی جائے)یہ حَمِدَ سے ہے۔ سِجِّيْل کے معنی ہیں سخت اور بڑا۔ سِجِّيْلٌ اور سِجِّينٌ کے ایک ہی معنی ہیں۔’’ل‘‘ اور ’’ن‘‘ دو ایسے حروف ہیں جو ایک دوسرے سے بدل جاتے ہیں۔ اور تمیم بن مقبل شاعر نے کہا ہے: اور بہت سے پیادے لوگ تھے جو اُن خودوں پر جو کہ سورج کی روشنی میں چمک رہی تھیں، سخت چوٹیں مار رہے تھے۔ ایسی چوٹیں کہ بہادر ایک دوسرے کو ان سے متعلق وصیت کرگئے تھے، (جو ایسی چوٹیں تھیں) کہ جن پر پڑتی ان کو وہیں کاٹ ڈالتی تھیں۔
مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زُرَیع نے ہمیں بتایا کہ سعید (بن ابی عروبہ) اور ہشام (بن ابی عبداللہ) نے ہم سے بیان کیا۔ اُن دونوں نے کہاکہ قتادہ نے ہمیں بتایا: صفوان بن محرز سے روایت ہے۔ اُنہوں نے کہا: ایک بار حضرت ابن عمرؓ طواف کررہے تھے اتنے میں ایک شخص سامنے سے آیا اور کہنے لگا:ابوعبدالرحمٰن! یا کہا ابن عمرؓ! کیا آپؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مناجات (سرگوشی) کی بابت کچھ سنا ہے۔ اُنہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مومن اپنے ربّ سے اتنا قریب کیا جائے گا۔اور ہشام نے یوں کہا: مومن اپنے ربّ سے اتنا قریب ہوجائے گا کہ اُس کا ربّ اُس پر اپنا پہلو جھکا دے گا اور اُس سے اُس کے گناہوں کا اقرار کروائے گا۔ (یعنی کہے گا:) کیا تجھے فلاں گناہ معلوم ہے۔ کہے گا: میرے ربّ مجھے معلوم ہے۔ دو دفعہ کہے گا، تو پھر اس کا ربّ کہے گا۔ دنیا میں میں نے پردہ پوشی کی اور آج بھی میں تیرے لیے اِن پر پردہ پوشی کرتا ہوں۔ پھر اِس کے بعد اُس کی نیکیوں کا صحیفہ لپیٹ دیا جائے گا اور جو دوسرے ہوں گے یا (کہا:) کافر ہوں گے تو تمام حاضرین کے سامنے برملا پکار کر کہا جائے گا:یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے ربّ کے برخلاف جھوٹ کہا۔ اور شیبان نے (بھی) قتادہ سے روایت کرتے ہوئے (اپنی سند میں) یوں کہا: ہم سے صفوان نے بیان کیا۔
(تشریح)صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ ابومعاویہ نے ہمیں خبردی کہ بُرَید بن ابی بردہ نے ہمیں بتایا۔ ابوبردہ سے روایت ہے۔ اُنہوں نےحضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺنے فرمایا: اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے۔ مگر جب اُس کو پکڑتا ہے تو پھر اس کو چھوڑتا نہیں۔ حضرت ابوموسیٰؓ کہتے ہیں: پھر آپؐ نے یہ آیت پڑھی: اور تیرے ربّ کی گرفت جب وہ بستیوں کو اس حالت میں کہ وہ ظلم پر ظلم کر رہی ہوں پکڑتا ہے، اسی طرح (یعنی اتمام حجت کے بعد) ہوا کرتی ہے۔ اس کی گرفت بڑی ہی دردناک (اور) سخت ہوتی ہے۔
(تشریح)مسدد نے ہمیں بتایا کہ ہم سے یزید بن زُرَیع نے بیان کیا کہ سلیمان تیمی نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابوعثمان سے، ابوعثمان نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپؐ سے اس کا ذکر کیا۔ پھر آپؐ پر یہ وحی نازل ہوئی: اور (اے مخاطب) تو دن کی دونوں طرفوں نیز رات کے (متعدد اور مختلف)اوقات میں عمدگی سے نماز ادا کیا کر یقیناً نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ (تعلیم اللہ کی) یاد رکھنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔وہ شخص کہنے لگا: یہ آیت میرے لیے ہے؟ آپؐ نے فرمایا: میری امت میں سے جس نے بھی اِس پر عمل کیا اُس کے لیے ہے۔
(تشریح)محمد نے مجھے بتایا کہ عبدہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری) سے، عبیداللہ نے سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون زیادہ معزز ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اُن میں سے اللہ کے نزدیک وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ لوگوں نے کہا: اس کے متعلق آپؐ سے نہیں پوچھ رہے۔ آپؐ نے فرمایا: پھر لوگوں میں سب سے بڑھ کر شریف یوسفؑ ہیں جو اللہ کے نبی، نبی اللہ کے بیٹے، نبی اللہ کے پوتے اور خلیل اللہ (حبیب خدا) کے پڑپوتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اس کے متعلق بھی ہم آپؐ سے نہیں پوچھتے۔ آپؐ نے فرمایا: تو کیا پھر تم مجھ سے عربوں کے خاندانوں کی نسبت پوچھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: تم میں سے جو جاہلیت میں اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں، بشرطیکہ دین سیکھیں اور سمجھیں۔ (عبدہ کی طرح) ابو اسامہ نے بھی عبیداللہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔
(تشریح)عبد العزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، نیز کہا۔ اور حجاج نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر نمیری نے ہمیں بتایا کہ یونس بن یزید ایلی نے ہمیں خبر دی۔کہا: میں نے زہری سےسنا۔ انہوں نے عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہؓ کے اس واقعہ کے متعلق سنا جس میں تہمت لگانے والوں نے آپؓ پر تہمت لگائی تھی اور پھر اللہ نے آپؓ کی برأت نازل کی تھی۔ ان میں سے ہر ایک نے اس واقعہ کا ایک حصہ مجھ سے بیان کیا۔ (اس میں ہے کہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بَری ہو تو ضرور اللہ تعا لیٰ تمہیں بَری فرمائے گا، اور اگر تم سے کوئی کمزوری ہو گئی ہو تو اللہ سے مغفرت مانگو اور اس کے حضور توبہ کرو۔ (حضرت عائشہ ؓنے بیان کیا کہ) میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کوئی مثال نہیں پاتی سوائے حضرت یوسفؑ کے باپ کی مثال کے۔ (انہوں نے کہا تھا:) اب اچھی طرح صبر کرنا (ہی میرے لئے مناسب) ہے اور جو بات تم بیان کرتے ہو اس (کے تدارک) کے لئے اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے یہ دس آیات نازل کیں: یقیناً وہ لوگ جنہوں نے ایک بڑا اتہام باندھا تھا۔ تمہیں میں سےایک گروہ ہے…۔
موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے، حصین نے ابو وائل سے روایت کی۔ کہا: مسروق بن اجدع نے مجھ سے بیان کیا، کہا: مجھے حضرت اُم رومانؓ نے بتایا اور وہ حضرت عائشہؓ کی والدہ تھیں، انہوں نے کہا: اس دوران کہ میں اور عائشہؓ بیٹھی تھیں، عائشہؓ کو بخار ہو گیا تھا۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: شاید اس بات کی وجہ سے جو بتائی گئی ہے۔ (حضرت اُم رومانؓ نے) کہا: جی ہاں۔ عائشہؓ یہ بات سن کر بیٹھ گئیں اور کہنے لگیں: میری مثال اور آپؐ کی مثال حضرت یعقوبؑ اور ان کے بیٹوں کی سی ہے۔ (حضرت یعقوبؑ نے کہا تھا) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لئے ایک بات کو خوبصورت کر کے دکھلایا ہے (جسے تم کر گزرے ہو) اب اچھی طرح صبر کرنا (ہی میرے لئے مناسب) ہے اور جو بات تم بیان کرتے ہو اس(کے تدارک) کے لئے اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے (اور اسی سے مدد مانگی جائے گی)۔
(تشریح)احمد بن سعید نے مجھ سے بیان کیا کہ بشر بن عمر نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: هَيْتَ لَكَ۔ کہا: ہم اس کو ویسا ہی پڑھتے ہیں جیسا ہم کو سکھایا گیا ہے۔ مَثْوَاهُ کا معنی ہے اس کا ٹھکانا۔ اَلْفَيَا کا معنی ہے ان دونوں نے پایا۔ اسی سے اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ (انہوں نے اپنے باپ دادوں کو پایا) اور اَلْفَيْنَا (ہم نے پایا) ہے۔ اور حضرت ابن مسعودؓ سے بَلْ عَجِبْتَ وَ يَسْخَرُوْنَ منقول ہے۔
حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے مسلم سے، مسلم نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ سے اسلام کے بارے میں توقف کیا تو آپؐ نے فرمایا: اے اللہ! میرے لئے اُن کے مقابل یوسف کے سات سالوں کی طرح کے سات سالوں کی صورت میں کافی ہو جا۔ سو اُن پر ایسا قحط پڑا جس نے ہر ایک چیز کو فنا کردیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیاں کھائیں اور کوئی شخص اگر آسمان کی طرف دیکھتا تو اُسے اپنے اور اس کے درمیان دھواں ہی نظر آتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس انتظار کراُس دن کا جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم عذاب کو تھوڑی دیر کے لئے ہٹا دیں گے مگر تم پھر وہی (کرتوتیں) کرنے لگ جاؤ گے۔پس کیا قیامت کے دن اُن سے عذاب دور کر دیا جائے گا؟ چنانچہ دھواں اور سخت گرفت والی پیشگوئی ہو چکی۔
(تشریح)