بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
سعید بن تلید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن قاسم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بکر بن مضر سے، بکر نے عمرو بن حارث سے، عمرو نے یونس بن یزید سے، یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیّب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ لوطؑ پر رحم کرےوہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لینا چاہتے تھے۔ اور اگر میں قید خانہ میں اتنا عرصہ رہتا جتنا کہ یوسف رہے توجو بلانے والا شخص آیا تھا میں اس کی بات مان لیتا۔ اور ہم ابراہیمؑ سے زیادہ حقدار ہیں جب اس نے اس سے کہا:کیا تو ایمان نہیں لاچکا؟ (ابراہیم نے) کہا: کیوں نہیں۔ (ایمان تو بے شک حاصل ہو چکا ہے) لیکن اپنے اطمینان قلب کی خاطر(میں نے یہ سوال کیا ہے)۔
(تشریح)ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ نے بتایا کہ (انہوں نے کہا:) میں نے (حضرت عائشہؓ سے) کہا کہ ہو سکتا ہے یہ كُذِبُوا ہو، تخفیف کے ساتھ۔ تو انہوں نے کہا: معاذاللہ۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ سفیان نے عمرو سے، عمرو نے عطاء سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے آیت اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ … کے متعلق سنا۔ یعنی ’’(اے مخاطب!) کیا تو نے اُن لوگوں (کی حالت) کو (غور کی نظر سے) نہیں دیکھا جنہوں نے ناشکری سے اللہ کی نعمت کو بدل ڈالا۔‘‘ آپؓ نے فرمایا: یہ (ناشکرگذار لوگ) کفار اہل مکہ ہیں۔
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق پوچھا: یہاں تک کہ جب رسول نااُمید ہو گئے۔ عروہ نے کہا: میں نے پوچھا کہ اس آیت میں كُذِبُوْا ہے یا كُذِّبُوْا؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: كُذِّبُوْا ہے یعنی انہیں جھٹلایا گیا۔ میں نے کہا: انہیں تو یقین تھا کہ ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا ہے اور یہ صرف گمان نہیں تھا۔ انہوں نے فرمایا: بے شک انہیں اس کا یقین ہو چکا تھا۔ میں نے اُن سے کہا: شاید اس آیت میں كُذِبُوْا ہو۔ یعنی ان سے جھوٹے وعدے کئے گئے۔ حضرت عائشہؓ کہنے لگیں: معاذاللہ! رسول ایسے نہیں ہوتے کہ اپنے ربّ پر یہ گمان کریں۔ میں نے کہا: پھر اس آیت کے کیا معنی ہیں؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: یہ (گمان کرنے والے) رسولوں کے پیرو ہیں جو اپنے ربّ پر ایمان لائے اور ان رسولوں کو سچا سمجھا اور ان کی آزمائش دیر تک ہوتی رہی اور اُن کو مدد پہنچنے میں دیر ہو گئی۔ یہاں تک کہ جب رسول اپنی قوم کے ان لوگوں سے بالکل نا اُمید ہو گئے جنہوں نے انہیں جھٹلایا تھا اَور رسولوں نے یہ خیال کیا کہ ان کے پیروؤں نے بھی انہیں جھوٹا قرار دے دیا ہے تو اس وقت اللہ کی مدد اُن کو پہنچی۔
ابراہیم بن منذر نے مجھے بتایاکہ معن نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ بن دینار نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: غیب کی چابیاں پانچ ہیں جنہیں کوئی نہیں جانتا مگر اللہ ہی۔ کوئی نہیں جانتا کہ کل کو کیا ہوگا مگر اللہ ہی، اور کوئی نہیں جانتا کہ رحم کیا کچھ اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں مگر اللہ ہی، اور کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی مگر اللہ ہی، اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ کس زمین میں مرے گا مگر اللہ ہی، اور کوئی نہیں جانتا کہ گھڑی کب برپا ہوگی مگر اللہ ہی۔
(تشریح)عبید بن اسمٰعیل نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو اُسامہ سے، ابو اُسامہ نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے۔ آپؐ نے فرمایا: مجھے ایک ایسا درخت بتلاؤ جو مسلمان شخص کے مشابہ یا اس کی طرح ہے۔ اس کے پتے نہیں گرتے۔ اور نہ ایسا ہے اور نہ ایسا اور نہ ایسا۔ وہ اپنا پھل ہر وقت دیتا ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے: میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور ہے۔ اور میں نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ وہ نہیں بول رہے تو میں نے بُرا جانا کہ میں بات کروں۔ پس جب وہ کچھ نہ بولے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور ہے۔ پھر جب ہم کھڑے ہوئے تو میں نے حضرت عمرؓ سے کہا: ابا! بخدا میرے دل میں آیا تھا کہ وہ کھجور ہے، تو انہوں نے کہا: تمہیں (یہ بات) کہنے سے کس نے روکا؟ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: مجھے صرف اسی بات نے روکا کہ میں نے آپؓ کو (اور حضرت ابوبکرؓ کو) بات کرتے نہیں دیکھا اس لئے میں نے برا جانا کہ میں بولوں یا کچھ کہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو یہ مجھے ایسی ایسی بات سے زیادہ پسند تھا۔
(تشریح)ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا، کہا: علقمہ بن مرثد نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا۔ سعد نے حضرت براء بن عازبؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے کہ جب اس سے قبر میں پوچھا جاتا ہے تو وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور یہی مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں اللہ اس قائم رہنے والی (اور پاک) بات کے ذریعہ سے (اس) ورلی زندگی میں (بھی) ثبات بخشتا ہے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی (بخشے گا)۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی۔ وہ اس روایت کو نبی ﷺ تک پہنچاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا:جب اللہ آسمان میں کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کی بات سن کر عاجزی سے اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں جس کی ایسی آواز ہوتی ہے جیسے زنجیر کو پتھر پر مارنے سے۔ علی (بن عبداللہ) کہتے تھے: سفیان کے علاوہ بعض نے کہا: اللہ اس (امر) کو اُن تک پہنچا دیتا ہے۔ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں: تمہارے ربّ نے کیا کہا ہے؟ وہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم ہے جس نے حق کہا ہے۔ اور وہ بلند شان اور بڑے اختیارات والا ہے۔ تب چوری سے سننے والے سن لیتے ہیں اور چوری سے سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اُوپر ہوتے ہیں۔ اور سفیان نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے اسے بیان کیا۔ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو اس طرح کھولاکہ ایک دوسرے کے اوپر تھی۔ کبھی تو سننے والے کے اپنے ساتھی کو پہنچانے سے پہلے شہاب اسے پکڑ لیتا ہےاور اسے جلا دیتا ہے۔ اور کبھی وہ اسے نہیں پکڑتا یہاں تک کہ وہ اسے اپنے سے نیچے والے ساتھی کو پہنچا دیتا ہے اور وہ اسے زمین تک پہنچا دیتا ہے۔ اور ایک مرتبہ سفیان نے کہا: یہاں تک کہ وہ زمین تک پہنچ جاتی ہے اور دھوکہ دینے والے کے منہ پر آجاتی ہے تو وہ سو جھوٹ اس کے ساتھ ملا کر بولتا ہےپھر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں: کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن نہیں بتایا تھا کہ ایسا ایسا ہو گا؟ تو ہم اسے اس بات کی وجہ سے جو آسمان سے سنی گئی تھی سچا سمجھ لیتے ہیں۔علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ سفیان نے ہم سے بیان کیاکہ عمرو نے ہمیں یہی بتلایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی کہ جب اللہ کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے۔ اورانہوں نے (اس روایت میں یہ لفظ) زائد بیان کیا ہے یعنی اور کاہن…۔ اور سفیان نے ہم سے بیان کیااور کہا: عمرو کہتے تھے: میں نے عکرمہ سے سنا کہ حضرت ابوہریرہؓ نے ہمیں بتلایا،کہا: جب اللہ کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے۔ اور کہا: دھوکہ دینے والے کے منہ پر۔ میں نے سفیان سے پوچھا: کیا آپ نے عمرو سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عکرمہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہؓ سے سنا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے سفیان سے کہا کہ ایک آدمی نے آپ سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی۔ اور وہ اسے مرفوع بیان کرتے تھے کہ آنحضور ﷺ نے یوں پڑھا ہے کہ گھبراہٹ دور کردی گئی۔ سفیان نے کہا: عمرو نے اسی طرح پڑھا۔ اور میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اسی طرح سنا تھا یا نہیں۔ سفیان نے کہا: اور یہی ہماری قرأت ہے۔
ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا۔ معن نے ہمیں بتایا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر والوں کی نسبت فرمایا: تم اس قوم (کے آثار) پر نہ جاؤ سوائے اس کے کہ تم گریہ و زاری کرنے والے ہو۔ پس اگر تم گریہ وزاری نہ کرو تو اُن کے پاس نہ جاؤ، مبادا تمہیں وہی عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا۔
(تشریح)محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔ غندر نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے، خبیب نے حفص بن عاصم سے، حفص نے حضرت ابو سعید بن معلیٰؓ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی ﷺ میرے پاس سے گزرے اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپؐ نے مجھے بلایا، لیکن میں آپؐ کے پاس نہ آیا۔ یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھ لی پھر آیا۔ تو آپؐ نے فرمایا: تمہیں (میرے پاس) آنے سے کس بات نے روکا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا؟ اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو۔ پھر آپؐ نے فرمایا: سنو ! میں مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورة بتاؤں گا۔ پھر نبیﷺ (مسجد سے) نکلنے لگے تو میں نے آپؐ کو یاد دلایا۔ آپؐ نے فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ یعنی ہر (قسم کی) تعریف کا اللہ (ہی) مستحق ہے(جو) تمام جہانوں کا ربّ (ہے۔) یہی سات دُہرائی جانے والی (آیات) اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔