بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ سعید مقبری نے ہمیں خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اُمّ القرآن ہی سبع مثانی (سات دُہرائی جانے والی آیات) ہے اور قرآن عظیم ہے۔
(تشریح)عبیداللہ بن موسیٰ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابو ظبیان سے، ابوظبیان نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (آیت) كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِيْنَ کے متعلق روایت کی کہ انہوں نے کہا: یہود اور نصاریٰ نے بعض باتیں مانیں اور بعض کا انکار کیا۔
(تشریح)موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ ہارون بن موسیٰ ابوعبداللہ اعور نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے شعیب (بن حبحاب) سے، شعیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) رسول اللہ
اسحاق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، معمر نے ہمام بن منبہ سے، ہمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی
آدم (بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابواسحاق (عمرو بن عبداللہ سبیعی) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے (حضرت عبداللہ) ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ سورة بنی اسرائیل، سورة الکہف اور سورة مریم سے متعلق کہتے تھے کہ یہ پہلی عمدہ سورتوں میں سے ہیں اور یہ میری پرانی یاد کی ہوئی ہیں۔ آیت فَسَيُنْغِضُوْنَ۠ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ کے متعلق حضرت ابن عباس نے کہا: (فَسَيُنْغِضُوْنَ۠ کے معنی ہیں) وہ (اپنا سر) ہلائیں گے۔ اور ان کے سوا دوسروں نے کہا: نَغَضَتْ سِنُّكَ یعنی تیرا دانت ہل گیا۔
(تشریح)عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا کہ یونس نے ہمیں خبر دی۔نیز احمد بن صالح نے ہمیں بتایا کہ عنبسہ (بن خالد) نے ہم سے بیان کیاکہ یونس نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہؓ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس رات کو جس میں آپؐ بیت المقدس لے جائے گئے دو پیالے لائے گئے، ایک شراب کا اور ایک دودھ کا۔ آپؐ نے ان دونوں کو دیکھا اور پھر دودھ کو لے لیا۔ جبرائیل نے کہا: الحمد للہ جس نے آپؐ کو فطرت کی طرف راہنمائی کی ہے۔ اگر آپؐ شراب کو لیتے تو آپؐ کی امت گمراہ ہوجاتی۔
احمد بن صالح نے ہمیں بتایا کہ (عبداللہ) ابن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: یونس نے مجھے خبر دی۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ ابوسلمہ نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپؐ فرماتے تھے: جب قریش نے مجھے جھٹلایا میں حجر( مقام حطیم) میں کھڑا تھا تو اللہ نے بیت المقدس میرے سامنے لاکر مجھے صاف دکھایا اور میں بیت المقدس کی نشانیاں انہیں بتانے لگا۔ میں اسے دیکھ رہا تھا۔ یعقوب بن ابراہیم نے (اپنی سند میں) یہ (حصہ) زائد بیان کیا ہے۔ ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا (زہری) سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ جب قریش نے مجھے اس وقت جھٹلایا کہ جب میں بیت المقدس رات کے وقت لے جایا گیا۔ پھر انہوں نے اسی طرح پوری روایت بیان کی۔ قَاصِفًا کے معنی ہیں وہ باد تند جوہر چیز کو توڑ پھوڑ دے۔
(تشریح)علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ منصور نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں جب کوئی قبیلہ تعداد میں بڑھ جاتا تو ہم کہتے: فلاں قبیلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔(عبداللہ بن زبیر)حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا اور انہوں نے کہا کہ (یہ لفظ) أَمَرَ ہے (أَمِرَ نہیں)۔
(تشریح)محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ (بن مبارک) نے ہمیں خبردی ۔ ابوحیان تیمی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو زُرْعہ بن عمرو بن جریر سے، ابو زُرْعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا اور اس میں سے دستی کا گوشت اٹھا کر آپؐ کے سامنے پیش کیا گیا اور آپؐ کو یہ بہت پسند تھا۔ آپؐ نے اس گوشت میں سے کچھ دانتوں سے تھوڑا سا لیا۔ پھر فرمایا کہ میں قیامت کے روز لوگوں کا سردار ہوں گا اور (کیا) تم جانتے ہو کس لئے؟ پہلے اور پچھلے لوگ ایک ہی میدان میں اکٹھے کئے جائیں گے۔ پکارنے والا ان سب کو سنائے گا اور آنکھ ان کو دیکھے گی اور سورج نزدیک آجائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم ہوگا اور گھبراہٹ اس حد تک پہنچ جائے گی جس کی وہ طاقت نہیں رکھیں گے اور نہ اسے برداشت کرسکیں گے۔ لوگ (آپس میں) کہیں گے کہ کیا دیکھتے نہیں کہ تمہارا کیا حال ہوچکا ہے۔ کیا اب بھی تم ایسے شخص کو نہیں ڈھونڈو گے جو تمہارے ربّ کے پاس تمہارے لئے سفارش کرے۔ تب بعض لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ چلو آدم ؑ سے مدد لیں ۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور اُن سے کہیں گے کہ آ پؑ تمام انسانو ں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپؑ میں اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا اور وہ آپؑ کے فرمانبردار ہوگئے۔ اپنے ربّ سے ہمارے لئے بھی سفارش کریں۔ کیا آپؑ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں، ہماری نوبت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ سن کر حضرت آدم ؑ کہیں گے کہ میرا ربّ آج بہت بڑے جلال میں ہے کہ اس سے قبل اتنے جلال میں نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد ایسے جلال کا اظہار کرے گا۔ اور (یہ بات بھی ہے کہ) اس نے مجھے درخت سے روکا تھا اور میں نے اس کی نافرمانی کی۔ مجھے تو اپنی جان کی پڑی ہے۔ اپنی ہی فکر ہے اپنی ہی فکر ہے۔ میرے سوا تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ نوحؑ کے پاس جاؤ۔ اور وہ حضرت نوحؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے نوحؑ آپؑ پہلے رسول ہیں جو زمین والوں کی طرف بھیجے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو شکر گزار بندہ قرار دیا ہے۔ اپنے ربّ سے ہمارے لئے سفارش کریں۔ کیاآپؑ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ وہ کہیں گے: میرا ربّ عز و جل آج بہت بڑے غضب میں ہے۔ ایسا غضب ناک نہ وہ اس سے پہلے کبھی ہوا اور نہ آئندہ ایسا غضب ناک ہوگا۔ اور (بات یہ ہے کہ) مجھ سے ایک دعا ہوگئی تھی جو میں نے اپنی قوم ہی کے برخلاف کی تھی۔ مجھے تو اپنی جان کی پڑی ہے۔ مجھے اپنی ہی فکر ہے اپنی ہی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ (بہتر ہوگا کہ) تم ابراہیمؑ کے پاس جاؤ۔ وہ حضرت ابراہیمؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے : اے ابراہیم ! آپؐ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور ساری زمین والوں میں سے اس کے جانی دوست ہیں۔ اپنے ربّ سے ہمارے لئے سفارش تو فرمائیں۔ کیا آپؑ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ وہ ان سے کہیں گے کہ میرا ربّ تو آج اتنے غضب میں ہے کہ ایسا غضب ناک وہ کبھی نہیں ہوا تھا اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا۔ اور میں نے تو تین باتیں خلاف واقعہ کہی تھیں۔ ابوحیان راوی نے حدیث میں ان (خلاف واقعہ باتوں) کا ذکر کیاہے۔ مجھے تو اپنی پڑی ہے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ تم موسیٰؑ کے پاس جاؤ۔ اور وہ حضرت موسیٰؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے موسیٰ ! آپؑ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام سے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ اپنے ربّ سے ہماری سفارش کریں۔ کیا آپؑ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ وہ کہیں گے کہ میرا ربّ تو آج اس قدر غضب میں ہے کہ اتنے غضب میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی اس کے بعد اتنے غضب میں ہوگا۔ اور میں نے ایک جان کو مار ڈالا تھا جس کے مارنے کا مجھے حکم نہیں تھا۔ مجھے تو اپنی پڑی ہے اپنی ہی فکر ہے اپنی ہی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ (بہتر ہوکہ) تم عیسیٰؑ کے پاس جاؤ۔ وہ حضرت عیسیٰؑ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے عیسیٰ! آپؑ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اُس کا کلمہ جو مریم کو اللہ تعالیٰ نے القا کیا اور اس کی روح ہیں۔ آپؑ نے گہوارے میں لوگوں سے باتیں کی تھیں (یعنی بچپن میں۔) ہماری سفارش کریں۔ کیا آپؑ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ حضرت عیسیٰؑ کہیں گے کہ میراربّ آج اس قدر غضب میں ہے کہ ایسا غضب ناک اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا نہ اس کے بعد کبھی ہوگا۔ انہوں نے اپنے کسی گناہ کا ذکر تو نہیں کیا (مگر کہیں گے:) مجھے تو اپنی پڑی ہے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ (بہتر ہوگا کہ) تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ اور وہ حضرت محمد ﷺ کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے محمدؐ ! آپؐ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نبیوں کی مہر ہیں۔ اور اللہ نے آپؐ کو پہلے بھی گناہوں سے محفوظ رکھا اور بعد میں بھی۔ اپنے ربّ سے ہماری سفارش فرمائیں۔ کیا آپؐ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حالت میں ہیں؟ تو میں (یہ سن کر) جاؤں گا اور عرش کے نیچے آکر اپنے ربّ عزوجل کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا اور اللہ مجھے اپنی خوبیاں بیان کرنے کی توفیق دے گا کہ مجھ سے پہلے کسی کو ویسی توفیق نہ دی ہوگی۔ پھر کہا جائے گا : محمد! تم اپنا سر اُٹھاؤ۔ مانگو تمہیں دیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تب میں اپنا سراٹھاؤں گا اور کہوں گا: اے میرے ربّ! میری امت ، اے میرے ربّ! میری امت۔ کہا جائے گا: محمد! اپنی امت ہی سے جن لوگوں کے ذمہ کوئی حساب نہیں جنت کے دروازوں میں سے دائیں جانب کے دروازے سے جنت میں لے جاؤ اور اس کے سوا جو دوسرے دروازے ہیں ان میں بھی وہ لوگوں کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (جنت کا دروازہ اتنا فراخ ہوگا) کہ اس کے دو کواڑوں میں فاصلہ اتنا ہے جتنا مکہ اور حمیر کے درمیان ہے۔ یا (فرمایا:) جتنا فاصلہ مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے۔
(تشریح)