بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 505 hadith
یحيٰ(بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ وکیع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، ابواسحاق نے اسود بن یزید سے، اسود نے حضرت عبداللہ (بن مسعودؓ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فَھَلْ مِنْ مُّذَّكِرٍ پڑھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۰۰ یعنی کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟
(تشریح)اور دو جنت چاندی کے ہوں گے، ان کے برتن بھی اور جو سامان ان میں ہے وہ سب بھی۔ اور دوجنت ایسے ہوں گے کہ اُن کے برتن بھی اور جو سامان ان کے اندر ہے وہ بھی (سونے کا ہوگا۔) اور جنت عدن میں لوگوں کے سامنے اپنے ربّ کو دیکھنے میں کوئی روک نہ ہوگی سوائے کبریائی کی چادر کے جو اس کی چہرے پر ہوگی۔
(تشریح)حسن بن مُدرک نے ہم سے بیان کیا۔ یحيٰ بن حماد نے ہمیں بتایاکہ ابوعوانہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابوبشر (جعفر بن ابی وحشیہ) سے، ابوبشر نے سعید (بن جبیر) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۂ حشر کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا: (یوں) کہو کہ سورۂ بنی نضیر۔
(تشریح)محمد بن عبداللہ بن حوشب نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوھاب نے ہمیں بتایا۔ خالد نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی۔نیز محمد (بن یحيٰ ذہلی) نے مجھ سے بیان کیا کہ عفان بن مسلم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے وہیب سے روایت کی کہ خالد (حذاء) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر کے دن یہ دعا کی۔ اور آپؐ اس وقت ایک بڑے خیمہ میں تھے: اے میرے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہے کہ اس دن کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور کہا: یا رسول اللہ! بس کافی ہے۔ آپؐ نے اپنے ربّ سے بہت الحاح و زاری کی ہے۔ اور آپؐ اس دن زرہ پہنے ہوئے تھے، کبھی اُٹھتے تھے کبھی بیٹھتے تھے۔ آپؐ نکلے اور یہ فرما رہے تھے: اُن کی جماعت کو عنقریب شکست دی جائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔
(تشریح)ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی، کہا: یوسف بن ماہک نے مجھے خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ اُم المؤمنینؓ کے پاس تھا، انہوں نے فرمایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں یہ آیت بَلِ السَّاعَةُ … ’’بلکہ وہ گھڑی ان کے لئے مقررہ میعاد ہے اور وہ گھڑی نہایت ہی مصیبت ڈھانے والی اور نہایت تلخ ہو گی‘‘ نازل کی گئی اور میں اس وقت ابھی لڑکی ہی تھی، کھیلا کرتی تھی۔
اسحاق (بن شاہین واسطی) نے مجھ سے بیان کیا کہ خالد (بن عبداللہ طحان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد (بن مہران حذاء) سے، انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے جنگ بدر کے دن یوں دعا کی اور آپؐ اس وقت ایک بڑے خیمے میں تھے: میں تجھے تیرا عہد اور تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ ! اگر تو چاہے کہ اس دن کے بعد کبھی تیری پرستش نہ کی جائے۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کے ہاتھ کو پکڑ لیا اور کہا: بس یا رسول اللہ! کافی ہے۔ آپؐ نے اپنے ربّ سے (دعا مانگنے میں) بہت اصرار کر لیا ہے۔ آپؐ اس وقت زرہ پہنے تھے۔ آپؐ باہر آئے اور یہ فرمایارہے تھے: عنقریب یہ جتھے شکست کھا کر بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیر دیں گے۔ بلکہ وہ گھڑی ان کے لئے مقررہ میعاد ہے۔ اور وہ گھڑی نہایت ہی مصیبت ڈھانے والی اور نہایت تلخ ہوگی۔
(تشریح)عبداللہ بن ابی الاسود نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن عبدالصمد عمی نے ہمیں بتایا۔ ابوعمران جونی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس سے، ابوبکر نے اپنے باپ(حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو باغ چاندی کے ہوں گے، ان میں برتن اور جو سامان بھی ان میں ہوگا وہ بھی، اور دو باغ سونے کے ہوں گے ان کے برتن بھی اور جو سامان بھی ان میں ہوگا وہ بھی۔ اور جنت عدن میں ان لوگوں کے سامنے اپنے ربّ کو دیکھنے سے کوئی روک نہ ہوگی سوائے کبریائی کی چادر کے جو اس کے چہرے پر ہوگی۔
(تشریح)محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالعزیز بن عبدالصمد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے ابو بکر بن عبداللہ بن قیس سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں خولدار موتیوں کا خیمہ ہو گاجس کی چوڑائی ساٹھ میل ہوگی، جس کے ایک کونے میں رہنے والے دوسروں کو نہیں دیکھیں گے۔ مؤمن ان سب کے پاس چکر لگائیں گے ۔
علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کے سایہ کے نیچے سوار سو برس تک چلتا رہے گا، اس کو طے کرنے میں نہیں آئے گا اور اگر تم چاہو تو (یہ آیت) پڑھو: وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۔ (اور ایسی چھاؤں میں جو بہت لمبی ہو گی)
(تشریح)محمد بن عبدالرحیم نے ہم سے بیان کیا کہ سعید بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ ہشیم نے ہم سے بیان کیا کہ ابو بشر نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباسؓ سے سورۂ توبہ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا: سورۂ توبہ وہی ہے جو فضیحت کرنے والی ہے۔ اس سورة میں برابر یہی اترتا رہا۔ ان میں بعض ایسے ہیں، ان میں بعض ایسے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے خیال کیا کہ یہ سورة ان میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑے گی مگر اس میں اس کا ضرورذکر کیا جائے گا۔ (سعید) کہتے تھے: میں نے سورۂ انفال کے متعلق پوچھا۔ (حضرت ابن عباسؓ نے) کہا: یہ بدر کے متعلق نازل ہوئی۔ کہتے تھے، میں نے پوچھا: سورۂ حشر۔ انہوں نے کہا: بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی۔