بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 56 hadith
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ کیلئے نکلا۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے کہ نبی ﷺ پیچھے سے آکر مجھے مل گئے اور میں اپنے پانی لادنے والے اونٹ پر سوار تھا جو تھک کر رہ چکا تھا اور وہ چلتا ہی نہ تھا۔ تو آپؐ نے مجھے پوچھا: تمہارے اونٹ کو کیا ہوا؟ حضرت جابرؓ کہتے تھے میں نے کہا تھکا ماندہ ہوکر رہ گیا ہے۔ کہتے تھے رسول اللہ ﷺ پیچھے ہوگئے اور آپؐ نے اسے ڈانٹا اور اس کیلئے دعا کی۔ پھر تو وہ تمام اونٹوں کے آگے ہی رہا۔ ان کے آگے ہی آگے چلتا تھا۔ آپؐ نے مجھ سے پوچھا: اب تم اپنے اونٹ کو کیسا دیکھتے ہو؟ کہتے تھے میں نے کہا اچھا ہے۔ آپؐ کی برکت اس کو نصیب ہوئی ہے۔ آپؐ نے پوچھا: تو پھر کیا تم اس کو میرے پاس بیچتے ہو؟ کہتے تھے میں نے شرم کی اور ہمارے پاس اس کے سوا اَور کوئی پانی لانے والا اونٹ نہ تھا۔ کہتے تھے میں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا میرے ہاتھ فروخت کردو۔ چنانچہ میں نے آپؐ کو وہ اونٹ قیمتاً دے دیا اس شرط پر کہ مدینہ پہنچنے تک میں اس کی پیٹھ پر سواری کروں گا۔ کہتے تھے (جب میں مدینہ کے قریب پہنچا) تو میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میں نے ابھی شادی کی ہے۔ یہ کہہ کر میں نے جانے کی اجازت چاہی۔ آپؐ نے مجھے اجازت دی۔ میں لوگوں سے آگے بڑھ کر مدینہ کو چل پڑا۔ جب مدینہ پہنچا تو میرے ماموں مجھے ملے اور انہوں نے اونٹ کی نسبت مجھ سے دریافت کیا۔ تو مَیں نے انہیں جو فیصلہ اس کے متعلق کر چکا تھا بتایا۔ انہوں نے مجھے ملامت کی۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے گھر جانے کی اجازت لی تھی تو آپؐ نے مجھے پوچھا کہ تم نے کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ تو آپؐ نے فرمایا کنواری سے کیوں شادی نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی؟ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ! میرے والد فوت ہوگئے ہیں یا کہا کہ شہید ہوگئے اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں تھیں۔ میں نے ناپسند کیا کہ میں ان جیسی عمر کی عورت سے شادی کروں جو نہ ان کو ادب سکھائے نہ ان کی تربیت کرے۔ اس لئے بیوہ سے شادی کی ہے کہ ان کی نگرانی کرے اور ان کو ادب سکھائے۔ کہتے تھے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں پہنچے تو میں دوسرے دن صبح وہ اونٹ لے کر آپؐ کے پاس گیا۔ آپؐ نے مجھے اس کی قیمت دی اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس دے دیا۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا یہ جو نکاح ہے اس کا اعلان کیا کرو اور اس (موقع) پر دف بجایا کرو۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ’’بدترین کھانا‘‘ اس دعوت ولیمہ کا کھانا ہے جس میں (صرف) امیروں کو بلایا جائے اور غرباء کو چھوڑ دیا جائے۔ اور جو بلانے پر نہ آیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح کے موقعہ پر اس طرح خطبہ نکاح پڑھنا سکھایا ہے۔ کہ ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہے سو ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اس سے بخشش مانگتے ہیں اور اس سے ہدایت کے طلب گار ہیں کیونکہ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ گمراہ قرار دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم یہ بھی گواہی دیتے ہیں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس کے بعد آپﷺ نے ان آیات کے پڑھنے کی ہدایت فرمائی۔ (جن کا ترجمہ یہ ہے کہ) اے لوگو جو اىمان لائے ہو! اللہ کا اىسا تقوى اختىار کرو جىسا اس کے تقوى کا حق ہے اور ہرگز نہ مرو مگر اس حالت مىں کہ تم پورے فرمانبردار ہو۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے نام کے واسطے دے کر تم اىک دوسرے سے مانگتے ہو اور رِحموں (کے تقاضوں) کا بھى خىال رکھو ىقىناً اللہ تم پر نگران ہے۔ اے وہ لوگو جو اىمان لائے ہو! اللہ کا تقوى اختىار کرو اور صاف سىدھى بات کىا کرو وہ تمہارے لئے تمہارے اعمال کى اصلاح کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور جو بھى اللہ اور اس کے رسول کى اطاعت کرے تو ىقىناً اُس نے اىک بڑى کامىابى کو پا لیا۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کو دلہن بنا کر ایک انصاری کے گھر بھجوایا۔ اس پر اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! رخصتانے کے اس موقع پر تم نے گانے بجانے کا اہتمام کیوں نہیں کیا حالانکہ انصار شادی کے موقع پر گانے بجانے کو پسند کرتے ہیں۔( یعنی ہلکے پھلکے اچھے گانے اور ہنسی مذاق کا شریفانہ اہتمام شادی کے موقع پر پسندیدہ ہے یہ منع نہیں)۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا حضرت عائشہ ؓ نے انصار میں کسی اپنی قرابت دار کی شادی کرائی۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا کیا تم نے لڑکی کو تحفوں کے ساتھ رُخصت کر دیا؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا کیا تم نے اس کے ساتھ کسی کو بھیجا جو گائے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار ایسے لوگ ہیں جن کو گانے سے لگاؤ ہے۔ اگر تم اس کے ساتھ کسی کو بھیج دیتے جو یہ کہتا ہم تمہارے ہاں آئے ہیں ہم تمہارے ہاں آئے ہیں۔ وہ ہمیں سلامت رکھے، وہ تمہیں سلامت رکھے۔
حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ ہم فاطمہ ؓ کو تیار کریں یہاں تک کہ ہم اس کو حضرت علی ؓ کے پاس لے جائیں۔ چنانچہ ہم گھر کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے اس کو بطحاء کے نواح کی نرم مٹی سے لیپا۔ پھر ہم نے کھجور کے ریشوں سے دو تکئے بھرے ہم نے اس کو اپنے ہاتھوں سے دُھنا پھر ہم نے کھجور اور منقّٰی کھانے کے لئے رکھا اور میٹھا پانی پینے کے لئے رکھا اور ہم نے ایک لکڑی لی اور اس کو کمرے میں ایک طرف لگا دیا۔ تاکہ اس پر کپڑے ڈالے جائیں اور اُس پر مشکیزہ لٹکایا جائے۔ ہم نے حضرت فاطمہ ؓ کی شادی سے اچھی کوئی شادی نہیں دیکھی۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے عبدالرحمن بن عوفؓ پر زرد رنگ کا نشان دیکھا تو آپﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ گٹھلی بھر سونا مہر میں رکھ کر میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مبارک کرے، ولیمہ بھی کرو چاہے ایک بکری ذبح کر لو۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا شادی کی بدترین دعوت وہ ہے جس میں امراء کو بلایا جائے اور غرباء کو چھوڑ دیا جائے۔ اور جو شادی کی دعوت کو قبول نہ کرے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا نافرمان ہے۔