(ترمذی کتاب البر و الصلۃ باب ماجاء فی ادب الولد1952)
حضرت ایوب اپنے والد اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی بہترین اعلیٰ تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے۔
(ابن ماجہ کتاب الادب باب بر الوالد و الاحسان الی البنات 3667)
حضرت سُراقہ بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کیا تم کو بہترین نیک خرچ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تمہاری بیٹی جو تمہاری طرف لوٹا دی گئی ہے اور اس کا تیرے علاوہ کوئی کمانے والا نہیں ہے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے فاطمہؓ سے بڑھ کر شکل و صورت، چال ڈھال اور گفتگو میں رسول اللہ ﷺ کے مشابہ کسی اور کو نہیں دیکھا۔ فاطمہؓ جب کبھی رسول اللہ ﷺ سے ملنے آتیں تو حضورﷺ ان کے لئے کھڑے ہو جاتے ان کے ہاتھ کو پکڑ کر چومتے۔ اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے۔ اسی طرح جب حضورﷺ ملنے کے لئے فاطمہؓ کے یہاں تشریف لے جاتے وہ کھڑی ہو جاتیں۔ حضورﷺ کے دست مبارک کو بوسہ دیتیں اور اپنی خاص بیٹھنے کی جگہ پر حضورﷺ کو بٹھاتیں۔
حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے افضل دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جس کو وہ آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جو آدمی اللہ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جسے وہ اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔
(مسلم کتاب البر و الصلۃ باب فضل الاحسان علی البنات(4750
حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیاں اُٹھائے ہوئے آئی تو میں نے اسے تین کھجوریں کھانے کو دیں اس نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی اور ایک کھجور کھانے کے لئے اپنے منہ کی طرف بڑھائی ہی تھی کہ اس کی بیٹیوں نے کھانے کے لئے وہ بھی مانگ لی۔ چنانچہ اس نے وہ کھجور جسے وہ کھانا چاہتی تھی ان دونوں کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کردی۔ مجھے اس کا فعل پسند آیا اور میں نے جو اس نے کیا تھا رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ نے اس وجہ سے اس پر جنت واجب کردی یا (فرمایا) اس کی وجہ سے اسے آگ سے آزاد کردیا۔