بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 56 hadith
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومنوں میں سے ایمان کے لحاظ سے کامل ترین مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں۔ اور تم میں سے خلق کے لحاظ سے بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں سے بہترین اور مثالی سلوک کرتا ہے۔
حضرت اُمِّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جو کوئی عورت ایسی حالت میں فوت ہو کہ اس کا خاوند اس سے راضی ہو وہ جنت میں داخل ہوگئی۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر پر تھے۔ ایک سیاہ رنگ کا غلام جسے انجشہ کہا جاتا تھا حُدی پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اے انجشہ! آہستہ، آبگینے لے جا رہے ہو۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب آپؐ عسفان سے لوٹے اور رسول اللہ ﷺ اس وقت اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور آپؐ نے حضرت صفیہؓ بنت حییّ کو پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔ آپؐ کی اونٹنی نے ٹھوکر کھائی اور دونوں گر پڑے۔ حضرت ابو طلحہؓ یہ دیکھ کر فوراً اونٹ سے کودے اور بولے: یا رسول اللہ! میں آپؐ پر قربان۔ آپؐ نے فرمایا اس عورت کی خبر لو۔ حضرت ابو طلحہؓ نے اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیا اور حضرت صفیہؓ کے پاس آئے اور وہ کپڑا اُن پر ڈالا اور ان دونوں کی سواری درست کی جس پر وہ سوار ہوگئے۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اس شخص پر رحم کرے جو رات کو اٹھا اور اس نے نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا اگر اس نے انکار کیا اس نے اس کے چہرے پر پانی چھڑکا۔ اللہ اس عورت پر رحم کرے جو رات کو اٹھی اس نے نماز پڑھی اور اپنے خاوند کو جگایا اگر اس نے انکار کیا اس نے اس کے چہرے پر پانی چھڑکا۔
ایک دفعہ اسماء بنت یزید انصاری نبی ﷺ کی خدمت میں عورتوں کی نمائندہ بن کر آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں۔ میں عورتوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مردوں اور عورتوں سب کی طرف مبعوث فرمایا ہے۔ ہم عورتیں گھروں میں بند ہو کر رہ گئی ہیں اور مردوں کو یہ فضیلت اور موقعہ حاصل ہے کہ وہ نماز باجماعت، جمعہ اور دوسرے مواقع اجتماع میں شامل ہوتے ہیں، نماز جنازہ پڑھتے ہیں، حج کے بعد حج کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جب آپ میں سے کوئی حج، عمرہ یا جہاد کی غرض سے جاتا ہے تو ہم عورتیں آپ کی اولاد اور آپ کے اموال کی حفاظت کرتی ہیں اور سوت کات کر آپ کے کپڑے بنتی ہیں، آپ کے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ کیا مردوں کے ساتھ ہم ثواب میں برابر کی شریک ہو سکتی ہیں؟ جبکہ مرد اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور ہم اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔ نبی ﷺ اسماء کی یہ باتیں سن کر صحابہؓ کی طرف مڑے اور انہیں مخاطب کرکے فرمایا کہ اس عورت سے زیادہ عمدگی کے ساتھ کوئی عورت اپنے مسئلہ اور کیس کو پیش کر سکتی ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا حضور ہمیں تو گمان بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اتنی عمدگی کے ساتھ اور اتنے اچھے پیرایہ میں اپنا مقدمہ پیش کر سکتی ہے۔ پھر آپ ﷺ اسماءؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے خاتون (محترم) اچھی طرح سمجھ لو اور جن کی تم نمائندہ بن کر آئی ہو ان کو جا کر بتا دو کہ خاوند کے گھر کی عمدگی کے ساتھ دیکھ بھال کرنے والی اور اسے اچھی طرح سنبھالنے والی عورت کو وہی ثواب اور اجر ملے گا جو اس کے خاوند کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر ملتا ہے۔
ایک دفعہ اسماء بنت یزید انصاری نبیﷺ کی خدمت میں عورتوں کی نمائندہ بن کر آئیں اور عرض کیا حضور میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا ہوں۔ میں عورتوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو مردوں اور عورتوں سب کی طرف مبعوث فرمایا ہے۔ ہم عورتیں گھروں میں بند ہو کر رہ گئی ہیں اور مردوں کو یہ فضیلت اور موقعہ حاصل ہے کہ وہ نماز باجماعت، جمعہ اور دوسرے مواقع اجتماع میں شامل ہوتے ہیں، نماز جنازہ پڑھتے ہیں، حج کے بعد حج کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جب آپ میں سے کوئی حج، عمرہ یا جہاد کی غرض سے جاتا ہے تو ہم عورتیں آپ کی اولاد اور آپ کے اموال کی حفاظت کرتی ہیں اور سوت کات کر آپ کے کپڑے بنتی ہیں، آپ کے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ کیا مردوں کے ساتھ ہم ثواب میں برابر کی شریک ہو سکتی ہیں؟ جبکہ مرد اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور ہم اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔ حضورﷺ اسماء کی یہ باتیں سن کر صحابہؓ کی طرف مڑے اور انہیں مخاطب کرکے فرمایا کہ اس عورت سے زیادہ عمدگی کے ساتھ کوئی عورت اپنا مسئلہ اور کیس کو پیش کر سکتی ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا حضور ہمیں تو گمان بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اتنی عمدگی کے ساتھ اور اتنے اچھے پیرایہ میں اپنا مقدمہ پیش کر سکتی ہے۔ پھر آپﷺ حضرت اسماءؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے خاتون (محترم) اچھی طرح سمجھ لو اور جن کی تم نمائندہ بن کر آئی ہو ان کو جا کر بتا دو کہ خاوند کے گھر کی عمدگی کے ساتھ دیکھ بھال کرنے والی اور اسے اچھی طرح سنبھالنے والی عورت کو وہی ثواب اور اجر ملے گا جو اس کے خاوند کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر ملتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کے بارے میں میری وصیت پر کاربند ہو۔ بھلائی سے ان کے ساتھ پیش آیا کرو۔ کیونکہ عورت کی پیدائش بھی پسلی ہی کی ہے اور تم دیکھتے ہی ہو کہ پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اوپر کا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے لگو تو اس کو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو تو ٹیڑھا ہی رہے گا۔ اس لئے عورتوں کے متعلق میری وصیت پر عمل کرو۔