بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 56 hadith
حضرت ابو ھریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے۔ لیکن اگر اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو گے تو فائدہ اٹھا لو گے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے بغض نہ رکھے اگر وہ اس کے کسی خُلق کو نا پسند کرے گا تو کسی خُلق کو پسند بھی تو کرے گا۔
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ
حضرت حکیم بن معاویہ قشیریؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی ایک کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ آپؐ نے فرمایا جب تم کھانا کھاؤ تو اسے کھلاؤ اور جب تم کپڑا پہنو تو اسے پہناؤ اور چہرہ پر مت مارو اور عیب نہ لگاؤ اور (اس کو) علیحدہ نہ کرو مگر گھر میں۔
حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے جہنم دکھایا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں اکثر عورتیں ہیں۔ کفر کرتی ہیں۔ پوچھا گیا: کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ فرمایا شوہر کی ناشکر گذاری کرتی ہیں اور احسان فراموش ہوتی ہیں۔ اگر تو ان میں سے کسی پر زمانہ بھر بھی احسان کرتا رہے اور پھر وہ تجھ سے کچھ ایسی ویسی بات دیکھے تو کہہ دے گی کہ میں نے تجھ سے کبھی بھی بھلائی نہیں دیکھی۔
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ (زمانہ جاہلیت میں) لوگوں میں رواج تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو جتنی بار چاہتا طلاق دے سکتا تھا کیونکہ طلاق دیکر عدت کے اندر رجوع کر لیتا اور بعض اوقات تو سو (۱۰۰) سو (۱۰۰) بار بلکہ اس سے بھی زیادہ دفعہ طلاق دیتا (اور پھر رجوع کر لیتا)۔ ایک شخص نے ایک بار اپنی بیوی سے کہا کہ نہ میں تجھے اس طرح طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے آزاد ہو جائے اور نہ تجھے اپنے گھر بساؤں گا۔ عورت نے پوچھا، وہ کس طرح؟ اس نے کہا کہ اس طرح کہ تجھے طلاق دوں گا اور جب تمہاری عدت ختم ہونے لگے گی تو رجوع کر لوں گا اور اسی طرح کرتا رہوں گا۔ وہ عورت حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئی اور اپنے خاوند کی اس زیادتی کا ان کے پاس ذکر کیا۔ حضرت عائشہ خاموش رہیں کوئی جواب نہ دیا۔ جب آنحضرت ﷺ گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ ؓ نے آپ ﷺ کے پاس اس عورت کی اس مشکل کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے بھی کوئی جواب نہ دیا تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ آئندہ اس طرح دو مرتبہ طلاق دی جا سکتی ہے (یعنی پہلی طلاق کے بعد مرد عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضا مندی سے اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے اگر رجوع یا نکاح کے بعد اس نے پھر طلاق دے دی تو اسے یہی اختیار حاصل ہو گا یعنی عدت کے اندر رجوع کر سکے گا اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضا مندی سے نکاح کر سکے گا اگر اس نے اس دوسرے رجوع یا نکاح کے بعد پھر اس نے طلاق دے دی تو پھر نہ وہ رجوع کر سکے گا اور نہ اس عورت سے نکاح کر سکے گا البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد وہ عورت کسی اور سے شادی کر لے اور دوسرا مرد باہمی نباہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے اسے طلاق دے دے تو پھر اگر پہلا مرد چاہے تو عورت کو رضا مند کرکے اس سے تیسری بار شادی کر لے۔ گویا طلاق اور رجوع کے اختیار کو محدود کر دیا گیا اور اس طرح جاہلیت کے اس برے رواج کو ختم کرکے ظالم خاوند سے عورت کی آزادی کی راہ آسان کر دی) چنانچہ اس قانون کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس ہدایت کی پابندی کرنے لگے اور جن لوگوں نے اس طرح طلاق دی ہوئی تھی وہ اس ظلم و زیادتی سے باز آ گئے۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ (زمانہ جاہلیت میں) لوگوں میں رواج تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو جتنی بار چاہتا طلاق دے سکتا تھا کیونکہ طلاق دے کر عدت کے اندر رجوع کر لیتا اور بعض اوقات تو سو (۱۰۰) سو (۱۰۰) بار بلکہ اس سے بھی زیادہ دفعہ طلاق دیتا اور پھر رجوع کر لیتا۔ ایک شخص نے ایک بار اپنی بیوی سے کہا کہ نہ میں تجھے اس طرح طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے آزاد ہو جائے اور نہ تجھے اپنے گھر بساؤں گا۔ عورت نے پوچھا، وہ کس طرح؟ اس نے کہا کہ اس طرح کہ تجھے طلاق دوں گا اور جب تمہاری عدت ختم ہونے لگے گی تو رجوع کر لوں گا اور اسی طرح کرتا رہوں گا۔ اس عورت نے حضرت عائشہؓ کے پاس اپنے خاوند کی اس زیادتی کا ذکر کیا۔ (جب آنحضرتﷺ گھر تشریف لائے) تو حضرت عائشہؓ نے رسول اللہﷺ کے پاس اس عورت کی اس مشکل کا ذکر کیا۔ آپﷺ نے بھی کوئی جواب نہ دیا تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’’ایسی طلاق (جس میں رجوع ہو سکے) دو دفعہ (ہو سکتی) ہے (یا تو) مناسب طور پر روک لینا ہو گا یا حسن سلوک کے ساتھ رخصت کر دینا ہو گا‘‘۔ (یعنی پہلی طلاق کے بعد مرد عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضا مندی سے اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے اگر رجوع یا نکاح کے بعد اس نے پھر طلاق دے دی تو اسے یہی اختیار حاصل ہو گا یعنی عدت کے اندر رجوع کر سکے گا اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضا مندی سے نکاح کر سکے گا اگر اس نے اس دوسرے رجوع یا نکاح کے بعد پھر اس نے طلاق دے دی تو پھر نہ وہ رجوع کر سکے گا اور نہ اس عورت سے نکاح کر سکے گا البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد وہ عورت کسی اور سے شادی کر لے اور دوسرا مرد باہمی نباہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے اسے طلاق دے دے تو پھر اگر پہلا مرد چاہے تو عورت کو رضا مند کرکے اس سے تیسری بار شادی کر لے۔ گویا طلاق اور رجوع کے اختیار کو محدود کر دیا گیا اور اس طرح جاہلیت کے اس برے رواج کو ختم کرکے ظالم خاوند سے عورت کی آزادی کی راہ آسان کر دی)۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا اس کا اس سے ایک بچہ بھی تھا۔ بچہ کے چچا نے عورت کے والد سے اس بیوہ کا رشتہ مانگا۔ عورت نے بھی رضا مندی کا اظہار کیا لیکن لڑکی کے والد نے اس کا رشتہ اس کی رضا مندی کے بغیر کسی اور جگہ کر دیا۔ اس پر وہ لڑکی حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی۔ حضورﷺ نے اس کے والد کو بلا کر دریافت کیا۔ اس کے والد نے کہا کہ اس کے دیور سے بہتر آدمی کے ساتھ میں نے اس کا رشتہ کیا ہے۔ حضورﷺ نے باپ کے کئے ہوئے رشتہ کو توڑ کر بچے کے چچا یعنی عورت کے دیور سے اس کا رشتہ کر دیا۔ (یعنی شادی کے معاملہ میں لڑکی کی پسند اور اس کی مرضی کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے)۔