بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 44 hadith
ابو بردہ بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو کسی قوم کی طرف سے خطرہ محسوس ہوتا تو آپؐ کہتے اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ ’’اے اللہ! ہم تجھے ان کے مقابل میں رکھتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں ‘‘۔
حضرت عبداللہ خطمی بیان کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ لشکر کو روانہ کرنے کا ارادہ کرتے تو کہتے میں اللہ کو سونپتا ہوں تمہارا دین اور تمہاری امانت اور تمہارے اعمال کا انجام۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب غزوہ کرتے تو یہ دعا کرتے اے اللہ! تو ہی میرا بازو اور میرا مددگار ہے، تجھ سے ہی مدد حاصل کرتا ہوں، تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے لڑتا ہوں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اور آپؐ (بدر کے دن) ایک بڑے خیمہ میں تھے۔ اے میرے اللہ! میں تجھے تیرے ہی عہد اور تیرے ہی وعدہ کی قسم دیتا ہوں۔ اے میرے اللہ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! بس کیجئے۔ آپؐ نے اپنے ربّ سے دعا مانگنے میں بہت اصرار کر لیا ہے اور آپؐ زِرہ میں تھے۔ آپؐ خیمے سے نکلے اور آپؐ یہ پڑھ رہے تھے عنقریب یہ سب کے سب شکست کھا جائیں گے اور پیٹھ پھیر دیں گے اور یہی وہ گھڑی ہے جس سے ڈرائے گئے تھے اور یہ گھڑی نہایت سخت اور نہایت تلخ ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بدر کی لڑائی کے دن (اللہ تعالیٰ سے) دعا کرتے ہوئے عرض کیا کہ اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور وعدہ پورا کرنے کی التجا کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تیری یہی منشاء ہے کہ تیری عبادت نہ کی جائے۔ … اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے آپؐ کا ہاتھ تھام لیا اور کہا بس کیجئے (جو دعا آپؐ کر چکے ہیں وہی کافی ہے۔) پھر آپؐ (خیمے سے) باہر نکلے اور یہ فرما رہے تھے عنقریب یہ جمعیت شکست کھا کر بھاگ جائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر لیں گے۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر میں رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں قیام پذیر تھے اور بار بار یہ دعا کرتے تھے کہ اے میرے اللہ! میں تجھے تیرے عہد کا واسطہ دیتا ہوں تجھے تیرا وعدہ یاد دلاتا ہوں۔ میرے اللہ! اگر تو چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت کرنے والا کوئی نہ رہے تو بے شک ہماری مدد نہ کر۔ یعنی اگر مسلمانوں کی یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حضورﷺ اتنی عاجزی اور زاری کے ساتھ بار بار دعا کر رہے تھے کہ حضرت ابوبکرؓ سے رہا نہ گیا اور گھبرا کر آپﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا اے اللہ کے رسول! کافی ہے اتنی آہ و زاری کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپﷺ کی دعا ضرور قبول کرے گا۔ حضور اس وقت ذرع پہنے ہوئے تھے چنانچہ حضور اس حالت میں خیمہ سے باہر آئے اور مسلمانوں کو خوش خبری دی کہ دشمن کی یہ جمیعت شکست کھا جائے گی۔ ان کے منہ موڑ دئیے جائیں گے بلکہ یہ گھڑی ان کے لئے بڑی دہشت ناک، ہلاکت خیز اور تلخ ہو گی۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے بتایا کہ نبی ﷺ نے مشرکوں کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار تھے اور آپؐ کے ساتھی تین سو سے کچھ اوپر تھے۔ نبی ﷺ قبلہ رخ ہوئے اور اپنے ہاتھ پھیلائے اور اپنے رب سے التجا کرنے لگے ’’اے میرے اللہ! جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا اس کو پورا کر اور مجھے اپنے وعدہ کے مطابق عطا کر۔ اے میرے اللہ! اگر یہ مسلمانوں کی جماعت ہلاک کر دی گئی تو پھر زمین میں تیری سچی عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا‘‘۔
ابو بکر بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے ایک جنگ کے موقع پر سنا وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جنت کے دروازے تلواروں کے سایہ تلے ہیں۔ ایک شخص نے جو دیکھنے میں پراگندہ حال تھا، ابو موسیٰ سے پوچھا کہ کیا تم نے رسول اللہﷺ کو یہ خود فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اس پر ابو موسیٰ نے کہا ہاں۔ یہ سن کر وہ آدمی اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا میں تمہیں سلام کہتا ہوں۔ پھر تلوار کے میان کو توڑ دیا اور لڑتا ہوا شہید ہو گیا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا حضرت انس بن نضرؓ غزوئہ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہؐ ! میں پہلی جنگ میں شریک نہیں ہوسکا جو آپؐ نے مشرکوں سے کی ہے۔ اگر اللہ نے مشرکوں سے جنگ میں مجھے شریک کیا تو پھر اللہ بھی ضرور دیکھ لے گا کہ میں کیا کروں گا۔ جب اُحد کی جنگ ہوئی اور مسلمان میدانِ جنگ سے ہٹ گئے تو انہوں نے کہا اے اللہ! جو میرے ان (مسلمان) ساتھیوں نے کیا ہے میں تیرے حضور اس کی معذرت کرتا ہوں اور جو ان مشرکوں نے کیا ہے میں اس سے تیرے حضور بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ (جنگ کیلئے) آگے بڑھے تو حضرت سعد بن معاذؓ ان کو سامنے سے ملے۔ تب (حضرت انس بن نضرؓ نے حضرت سعد بن معاذؓ سے) کہا اے سعد بن معاذؓ ! میں تو بہشت میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔ نضر کے ربّ کی قسم! میں تو اُحد کے پاس اس کی خوشبو پارہا ہوں۔ سعدؓ کہتے تھے یا رسول اللہ! پھر جو کچھ انہوں نے کیا میں نہ کرسکا۔ حضرت انس (بن مالکؓ ) کہتے تھے ہم نے ان کے بدن پر اَسی سے کچھ اوپر نشان دیکھے جو بعض تلوار کے تھے اور بعض برچھی کے زخم تھے اور بعض تیر کے اور ہم نے ان کو دیکھا کہ وہ ایسی حالت میں قتل کئے گئے ہیں کہ مشرکوں نے ان کی ناک، کان، ہاتھ اور پاؤں سب کاٹ ڈالے۔ حتیٰ کہ ان کو کوئی نہ پہچان سکا سوائے ان کی بہن کے جس نے ان کی انگلیاں دیکھ کر پہچانا۔ حضرت انس (بن مالکؓ ) کہتے تھے ہم سمجھتے تھے یا (کہا) ہم خیال کرتے تھے کہ یہ آیت حضرت انس بن نضرؓ یا ان جیسے دوسرے مومنوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی وہ ایسے مرد ہیں کہ جو عہد انہوں نے اللہ سے کیا تھا اس کو سچا کردکھایا۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مسجد کی قریبی جگہیں خالی ہوئیں تو بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ مسجد کے قریب منتقل ہو جائیں۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپؐ نے ان سے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسولؐ اللہ! ہم نے ایسا ہی ارادہ کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اے بنی سلمہ! اپنے گھروں میں رہو تمہارے (قدموں کے) نشان لکھے جائیں گے۔ اپنے گھروں میں رہو تمہارے (قدموں کے) نشان لکھے جائیں گے۔