بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 44 hadith
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ اپنی جگہیں چھوڑ کر مدینہ کے قریب آ جائیں تو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند کیا کہ مدینہ کے کسی طرف جگہ خالی رہے اور فرمایا اے بنی سلمہ! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے۔ پھر وہ وہیں ٹھہرے رہے۔
عبدالواحد بن ایمن اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت جابر (بن عبداللہ انصاری) رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا ہم خندق کے دن زمین کھود رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آگیا۔ پس وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ خندق میں ایک پتھر آگیا ہے۔ آپ نے فرمایا میں اُترتا ہوں۔ آپؐ کھڑے ہوگئے اور آپؐ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا اور تین دن سے ہم نے کچھ بھی نہیں چکھا تھا۔ نبی ﷺ نے کدال لی اور اس سے پتھر پر ضربیں لگائیں تو وہ بُھربُھرا، یا کہا کہ پھسلتی ہوئی ریت کا ڈھیر ہوگیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! مجھے گھر تک جانے کی اجازت دیجئے۔ میں نے جاکر اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے نبی ﷺ میں ایک بات محسوس کی ہے جس پر صبر نہیں ہوسکتا۔ کیا تمہارے پاس کچھ (خوراک) ہے؟ کہنے لگی: کچھ جَو اور بکری کا چھوٹا بچہ ہے۔ میں نے اس بچے کو ذبح کیا اور اس نے جَو پیسے اور ہم نے پتھر کی ہانڈی میں گوشت ڈال دیا۔ پھر میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آٹا خمیر ہوچکا تھا اور ہانڈی چولہے پر پکنے کے قریب تھی۔ میں نے کہا (یا رسول اللہ!) میرے پاس کچھ کھانا ہے۔ یا رسول اللہ! آپؐ اُٹھیں اور ایک یا دو آدمی ساتھ لے لیں۔ آپؐ نے پوچھا: کھانا کتنا ہے؟ میں نے آپؐ سے بیان کیا۔ آپؐ نے فرمایا بہت ہے اور اچھا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا اپنی بیوی سے کہو ہانڈی نہ اُتارے اور نہ روٹی تنور سے نکالے جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔ پھر آپؐ نے صحابہؓ سے کہا اُٹھو۔ چنانچہ مہاجرین اور انصار کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت جابرؓ اپنی بیوی کے پاس گئے، کہنے لگے: تمہارا بھلا ہو! نبی ﷺ مہاجرین اور انصار اور جو اُن کے ساتھ ہیں سب کو لے کر آگئے ہیں۔ ان کی بیوی نے کہا کیا آنحضرت ﷺ نے تم سے کچھ پوچھا تھا؟ میں نے کہا ہاں۔ پھر آپؐ نے (صحابہؓ سے) فرمایا اندر چلو اور کشمکش نہ کرو۔ آپؐ روٹیوں کے ٹکڑے کرکے ان پر گوشت ڈال کر صحابہؓ کو دینے لگے اور جب ہانڈی اور تنور سے کچھ لیتے تو اسے ڈھانپ دیتے۔ اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ صحابہؓ سیر ہوگئے اور کچھ کھانا بچ بھی رہا۔ آپؐ نے (حضرت جابرؓ کی بیوی سے) فرمایا لو اَب یہ کھا لو اور ہدیہ بھیجو کیونکہ لوگوں کو بھوک کا سامنا تھا۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے تھے جب خندق کھودی گئی میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپؐ شدید بھوک سے دوچار ہیں۔ میں وہاں سے لوٹ کر اپنی بیوی کے پاس آیا۔ میں نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپؐ شدید بھوک سے دوچار ہیں۔ یہ سن کر وہ میرے پاس ایک تھیلا لائی جس میں ایک صاع جَو تھے اور ہمارے گھر کا پلا ہوا ایک بکری کا بچہ تھا۔ میں نے اسے ذبح کیا اور بیوی نے جَو پیسے۔ میرے فارغ ہونے تک وہ بھی فارغ ہوگئی۔ میں نے گوشت کاٹ کر اُس کی ہانڈی میں ڈال دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی طرف واپس چلا۔ وہ کہنے لگی: رسول اللہ ﷺ اور آپؐ کے ساتھیوں کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرنا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور چپکے سے کہا یا رسول اللہ! ہم نے اپنا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جَو جو ہمارے پاس تھے پیسے ہیں۔ آپ آئیں اور آپؐ کے ساتھ کچھ لوگ بھی۔ یہ سن کر نبیﷺ نے بلند آواز سے فرمایا خندق والو! جابرؓ نے دعوت کی ہے۔ چلو جلدی چلو اور (مجھ سے) فرمایا اپنی ہانڈی نہ اُتارنا اور اپنے آٹے کی روٹیاں بھی نہ پکانا جب تک کہ میں نہ آجاؤں۔ میں گھر میں آیا اور رسول اللہ ﷺ لوگوں کے آگے تھے۔ میں اپنی بیوی کے پاس گیا، کہنے لگی: تمہارا بھلا ہو۔ میں نے کہا میں نے تو وہی کیا ہے جو تم نے کہا تھا۔ چنانچہ اس نے آٹا آنحضرت ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپؐ نے اس میں اپنا لعاب ڈالا اور برکت کی دعا کی۔ آپؐ ہماری ہانڈی کی طرف گئے اور اس میں لعاب ڈالا اور برکت کی دعا کی پھر فرمایا روٹی پکانے والی کو بلاؤ کہ وہ میرے سامنے روٹی پکائے اور ہانڈی نہ اُتارو اور اس سے گوشت نکالتے جاؤ۔ کھانے والے ایک ہزار تھے۔ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں ان سب نے کھایا اور بچ بھی رہا اور وہ چلے گئے اور ہماری ہانڈی ویسی ہی اُبل رہی تھی اور ہمارے آٹے کی روٹیاں بھی پکائی جا رہی تھیں۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ یا حضرت ابو سعید ؓ ( اعمش کو شک ہے ) سے روایت ہے کہ جب غزوہ ءِ تبوک کے دن تھے تو لوگوں کو سخت بھوک کا سامنا ہوا۔ لوگوں نے کہا یا رسول اللہؐ ! اگر آپؐ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے پانی لانے والے اونٹ ذبح کر لیں اور ہم کھائیں اور چکنائی استعمال کریں۔ آپ ؐ نے فرمایا کر لو۔ راوی کہتے ہیں اس پر حضرت عمرؓ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر آپ ؐ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی ہاں لوگوں کو اپنا باقی ماندہ زاد راہ لانے کا ارشاد فرمائیں اور پھر ان کے لئے اس پر برکت کی دعا کریں۔ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت رکھ دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ راوی کہتے ہیں آپ ؐ نے ایک چمڑے کا دسترخوان منگوایا اور بچھا دیا اور پھر ان کے باقی ماندہ زاد منگوائے۔ راوی کہتے ہیں کوئی مٹھی بھر مکئی لایا اور کوئی مٹھی بھر کھجوریں اور کوئی روٹی کا ٹکڑا وغیرہ لے آیا یہاں تک کہ اس دستر خوان پر اس میں سے کچھ تھوڑا سا اکٹھا ہو گیا۔ راوی کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس پر برکت کی دعا کی ، پھر فرمایا اپنے برتنوں میں لے لو۔ انہوں نے برتنوں میں اس کو لے لیا یہاں تک کہ لشکر میں کوئی برتن نہ چھوڑا مگر اس کو بھر لیا پھر سب نے کھایا اور سیر ہو گئے اور کچھ بچ بھی گیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ؐ ہوں اور جو شخص بغیر کسی شک کے ان دونوں (شہادتوں) کے ساتھ خدا سے ملے گا وہ جنت سے روکا نہیں جائے گا۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بھیجا اور حضرت ابو عبیدہؓ کو ہمارا امیر مقرر فرمایا کہ ہم قریش کے قافلہ کا مقابلہ کریں اور آپؐ نے ہمیں کھجوروں کا ایک تھیلا زادِ راہ کے طور پر دیا۔ اس کے علاوہ آپؐ نے ہمارے لئے کچھ نہ پایا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ (اور ایک وقت ایسا آیا) کہ حضرت ابو عبیدہؓ ہمیں ایک ایک کھجور دیتے تھے۔ راوی کہتے ہیں میں نے کہا تم ایک (کھجور سے) کیسے گذارا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا ہم اسے چوستے تھے جس طرح بچہ چوستا ہے پھر اس پر کچھ پانی پی لیتے تھے تو وہ ہمیں دن رات کے لئے کافی ہو جاتا تھا۔ اور ہم اپنی چھڑیوں کے ساتھ پتے جھاڑتے پھر انہیں پانی سے تر کر کے کھا لیتے۔ وہ کہتے ہیں ہم ساحلِ سمندر پر جا رہے تھے تو بڑے ٹیلے کی طرح کوئی چیز نظر آئی۔ ہم اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک جانور ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں حضرت ابو عبیدہؓ نے کہا یہ مری ہوئی ہے۔ پھر کہا نہیں ہم رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اللہ کی راہ میں بھیجے ہوئے ہیں اور تم مضطر بھی ہو اس لئے کھاؤ۔ وہ کہتے ہیں ہم نے اس پر ایک ماہ گذارا کیا اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم خوب موٹے (صحت مند) ہو گئے۔ وہ کہتے ہیں میں دیکھ رہا ہوں ہم اس کی آنکھ کے گڑھے سے چربی کے مٹکے بھر بھر کر نکالتے تھے اور اس سے بیل کی طرح یا بیل کے برابر ٹکڑے کاٹتے تھے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے ہم میں سے تیرہ آدمی لئے اور انہیں اس کی آنکھ کے گڑھے میں بٹھا دیا اور اس کی پسلیوں سے ایک پسلی لی اسے کھڑا کیا اور ہمارے پاس جو اونٹ تھے ان میں سے سب سے بڑے اُونٹ پر پالان باندھا تو وہ اس کے نیچے سے گذر گیا اور ہم نے توشہ کے طور پر اس کے گوشت کے پارچے خشک کر کے ساتھ لئے۔ جب ہم مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ کو یہ بات بتائی۔ آپؐ نے فرمایا یہ رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے نکالا تھا کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ گوشت ہے کہ تم ہمیں بھی کھلاؤ۔ راوی کہتے ہیں ہم نے اس میں سے کچھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا اور آپؐ نے اسے تناول فرمایا۔
حضرت خباب (بن ارت) رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا، کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ وطن چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ ہی کی رضامندی ہم چاہتے تھے اور ہمارا بدلہ اللہ کے ذمہ ہوگیا۔ ہم میں سے ایسے بھی ہیں جو مر گئے اور انہوں نے اپنے بدلہ سے کچھ نہیں کھایا۔ انہیں میں سے حضرت مصعب بن عمیرؓ بھی ہیں اور ہم میں ایسے بھی ہیں جن کا میوہ پک گیا اور وہ اس میوہ کو چن رہے ہیں۔ حضرت مصعبؓ احد کے دن شہید ہوئے تھے اور ہمیں صرف ایک ہی چادر ملی تھی کہ جس سے ہم ان کو کفناتے۔ جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور اگر ان کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر کھل جاتا تو نبی ﷺ نے ہمیں فرمایا ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر (خوشبودار گھاس) ڈال دیں۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ مجھ سے ملے۔ حضور علیہ السلام نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے جابر آج میں تمہیں پریشان اور اداس کیوں دیکھ رہا ہوں میں نے عرض کیا حضور میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور کافی قرض اور بال بچے چھوڑ گئے ہیں۔ حضور فرمانے لگے کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ کس طرح تمہارے والد کی اللہ تعالیٰ کے حضور پذیرائی ہوئی۔ میں نے عرض کیا ہاں حضور! ضرور سنائیں اس پر آپﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اگر کسی سے گفتگو کی ہے تو ہمیشہ پردہ کے پیچھے سے کی ہے لیکن تمہارے باپ کو زندہ کیا اور اس سے آمنے سامنے گفتگو کی اور فرمایا میرے بندے مجھ سے جو مانگنا ہے مانگ۔ میں تجھے دوں گا تو تمہارے والد نے جواباً عرض کیا اے میرے رب میں چاہتا ہوں کہ تو زندہ کرکے مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دے تاکہ تیری خاطر دوبارہ قتل کیا جاؤں۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ میں یہ قانون نافذ کر چکا ہوں کہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے دنیا میں نہیں لوٹاؤں گا۔
حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے تیر اندازوں پر ــــــ اور وہ پچاس تھے ــــــ حضرت عبد اللہ بن جبیرؓ کو مقرر کیا اور آپؐ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمیں اچک رہے ہیں تب بھی تم اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلا بھیجوں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے اس قوم کو شکست دیدی اور ان کو روند ڈالا تب بھی تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلا بھیجوں۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو شکست دی اور وہ کہتے ہیں کہ بخدا! میں نے عورتوں کو دیکھا وہ پہاڑ پر چڑھ رہی ہیں۔ تو حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کے ساتھیوں نے کہا لوگو! غنیمت، تمہارے ساتھی غالب آگئے، تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ حضرت عبداللہؓ بن جبیر نے کہا کیا تم بھول گئے جو رسول اللہ ﷺ نے تمہیں فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا بخدا! ہم ضرور لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور غنیمت حاصل کریں گے۔ وہ ان کے پاس آئے تو ان کے رخ پھیر دیے گئے اور وہ شکست کھا کر مڑے۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے جنگ احد کے دن پیادہ فوج پر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کو مقرر فرمایا اور یہ پچاس آدمی تھے اور ان سے فرمایا اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا خواہ دیکھو کہ پرندے ہم پر جھپٹ رہے ہیں۔ اپنی جگہ پر رہنا، تاوقتیکہ میں تمہیں نہ بلا بھیجوں اور اگر تم ہمیں اس حالت میں بھی دیکھو کہ لوگوں کو ہم نے شکست دے دی ہے اور انہیں ہم نے روند ڈالا ہے۔ تب بھی یہاں سے نہ سِرکنا، جب تک کہ میں تمہیں نہ کہلا بھیجوں۔ چنانچہ مسلمانوں نے ان کو شکست دے کر بھگا دیا۔ حضرت براءؓ کہتے تھے بخدا میں نے (مشرک) عورتوں کو دیکھا کہ وہ بھاگ رہی تھیں اور وہ اپنے کپڑے اُٹھائے ہوئے تھیں۔ ان کی پازیبیں اور پنڈلیاں ننگی ہو رہی تھیں۔ (حضرت عبداللہ) بن جبیرؓ کے ساتھیوں نے یہ دیکھ کر کہا لوگو! چلو، غنیمت حاصل کریں۔ تمہارے ساتھی غالب ہوگئے۔ تم کیا انتظار کر رہے ہو؟ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ نے کہا کیا تم وہ بات بھول گئے ہو جو رسول اللہ ﷺ نے تم سے فرمائی تھی؟ انہوں نے کہا بخدا ضرور ہم بھی لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور غنیمت کا مال لیں گے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو ان کے منہ پھیر دئیے گئے اور شکست کھا کر بھاگتے ہوئے لوٹے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جبکہ رسول تمہاری سب سے پچھلی جماعت میں (کھڑا) تمہیں بلا رہا تھا۔ نبی ﷺ کے پاس بارہ آدمیوں کے سوا اور کوئی نہ رہا اور کافروں نے ہم میں سے ستر آدمی شہید کئے اور نبی ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ نے جنگ بدر میں مشرکوں کے ایک سو چالیس آدمیوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ ستر قیدی اور ستر مقتول۔ ابوسفیان نے تین بار پکار کر کہا کیا ان لوگوں میں محمد ہے؟ نبیﷺ نے صحابہؓ کو اسے جواب دینے سے روک دیا۔ پھر اس نے تین بار پکار کر پوچھا: کیا لوگوں میں ابوقحافہ کا بیٹا ہے؟ پھر تین بار پوچھا: کیا ان لوگوں میں ابن خطاب ہے؟ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گیا اور کہنے لگا: یہ جو تھے وہ تو مارے گئے۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بولے: اے اللہ کے دشمن! بخدا تم نے جھوٹ کہا ہے۔ جن کا تونے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔ جو بات ناگوار ہے اس میں سے ابھی تیرے لئے بہت کچھ باقی ہے۔ ابوسفیان بولا: یہ معرکہ بدر کے معرکے کا بدلہ ہے اور لڑائی تو ڈول کی طرح ہے۔ (کبھی اس کی فتح اور کبھی اس کی)۔ تم ان لوگوں میں کچھ ایسے مردے پاؤ گے جن کے ناک کان کٹے ہوئے ہیں۔ میں نے اس کا حکم نہیں دیا اور میں نے اسے برا بھی نہیں سمجھا۔ پھر اس کے بعد وہ یہ رجزیہ فقرہ پڑھنے لگا: ہبل کی جَے۔ ہبل کی جے۔ نبیﷺ نے فرمایا کیا اسے جواب نہیں دوگے؟ صحابہؓ نے کہا یارسول اللہ! ہم کیا کہیں؟ آپؐ نے فرمایا تم کہو۔ اللہ ہی سب سے بلند اور بڑی شان والا ہے۔ پھر ابوسفیان نے کہا عُزّٰی نامی بت ہمارا ہے اور تمہارا کوئی عُزّٰی نہیں۔ نبیﷺ نے یہ سن کر فرمایا کیا تم اسے جواب نہیں دو گے؟ حضرت براء بن عازبؓ کہتے تھے صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں؟ آپؐ نے فرمایا کہو اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔