بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Al Islam
The Official Website of the Ahmadiyya Muslim Community
Muslims who believe in the Messiah,
Hazrat Mirza Ghulam Ahmad Qadiani(as)
Showing 10 of 44 hadith
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں ایک فوجی مہم کے لئے بھیجا۔ لوگ ڈر کر بھاگ آئے۔ جب مدینہ پہنچے تو چھپتے پھرے اور (پشیمان ہو کر) کہنے لگے کہ ہم تو ہلاک ہو گئے۔ پھر ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضورﷺ ہم بھاگنے والے ہیں۔ (یہ سن کر) رسول اللہﷺ نے (ہماری تسلی کی خاطر) فرمایا نہیں بلکہ تم تو ٹھکانے پر تازہ دم ہونے اور تقویت حاصل کرنے کے لئے آئے ہو۔ کیونکہ میں تمہارا ٹھکانہ تمہارا مددگار اور تمہاری پناہ ہوں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔ البتہ جہاد اور نیت (ہجرت کا ثواب ہے) اور جب تمہیں جہاد کے لئے بلایا جائے تو اس کے لئے نکلو۔
حضرت عصامؓ المزنی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا تو فرمایا جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کو سنو تو کسی کو قتل مت کرنا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپؐ فرماتے تھے کہ جو شخص اپنا مال بچاتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف نکلے جب آپؐ حرۃ الوبرہ پہنچے تو آپؐ کو ایک شخص ملا جس کی جرأت اور بہادری کا ذکر کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے صحابہؓ نے جب اسے دیکھا تو بہت خوش ہوئے جب وہ آپؐ سے ملا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا میں آپؐ کے ساتھ جانے اور آپؐ کے ساتھ حصہ پانے کے لئے آیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے کہا نہیں آپؐ نے فرمایا واپس چلے جاؤ کیونکہ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا وہ کہتی ہیں وہ چلا گیا یہاں تک کہ جب ہم شجرہ پہنچے وہ شخص پھر آپؐ کو ملا۔ اس شخص نے آپؐ کو پایا اور ویسا ہی کہا جیسا پہلی مرتبہ کہا تھا۔ نبی ﷺ نے اُسے ویسا ہی فرمایا جیسے پہلے فرمایا تھا۔ آپؐ نے فرمایا لوٹ جاؤ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔ پھر وہ لوٹا اور آپؐ کو بیداء میں ملا تو آپ ﷺ نے اُسے فرمایا جیسے پہلے فرمایا تھا کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں تو رسول اللہ ﷺ نے اُسے فرمایا تو اب چلو۔
حضرت سعدؓ نے بیان کیا کہ جب فتح مکہ کا دن آیا تو رسول اللہ ﷺ نے تمام لوگوں کو امن دیا سوائے چار شخصوں اور دو عورتوں کے اور ان کا نام لیا اور ابن ابی سرح کا……۔ اور باقی روایت بیان کی۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن ابی سرح تو حضرت عثمان بن عفان کے پاس چھپ رہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو وہ (حضرت عثمان) اس (ابن ابی سرح) کو لائے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے لا کھڑا کیا اور بولے اے اللہ کے نبی! عبداللہ سے بیعت لے لیجئے۔ آپؐ نے سر اٹھایا اور اس کو تین دفعہ دیکھا، ہر بار اس کے بارہ میں رکتے تھے۔ پھر اس کی بیعت لی تین دفعہ کے بعد۔ پھر اپنے صحابہؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تم میں کوئی ہدایت یافتہ آدمی نہیں تھا؟ اس کی طرف کھڑا ہو کر جاتا کہ جب اس نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ روک لیا تھا کہ اس کو قتل کرتا۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ کے دل میں کیا ہے، آپ نے اپنی آنکھ سے اشارہ کیوں نہ فرما دیا؟ آپؐ نے فرمایا نبی کے شایان شان نہیں کہ اس کی طرف سے آنکھوں کی خیانت ہو۔
حضرت ابو درداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے دین میں فتنہ کے ڈر سے (بچاؤ کی خاطر) ایک ملک سے دوسرے ملک میں بھاگ جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں صدیق ہے اور اگر وہ اس حالت میں فوت ہو جاتا ہے تو وہ شہید ہے۔ پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ’’اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں وہ اپنے رب کے ہاں صدیق اور شہید ہیں‘‘۔ پھر آپﷺ نے فرمایا جو لوگ اپنے دین کے بچاؤ کی خاطر ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہیں وہ قیامت کے روز (آخری زمانہ میں) عیسیٰ بن مریم کے ساتھ ایک ہی درجہ کی جنت میں ہوں گے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر پر علقمہ بن مُجَزِّز کو سردار مقرر کیا۔ اور میں بھی ان میں تھا جب وہ اپنے غزوہ کے مقام پر پہنچا یا ابھی کسی راستے میں تھا تو لشکر کے ایک گروہ نے ان (علقمہ) سے اجازت چاہی۔ انہوں نے ان کو اجازت دی اور ان پر عبد اللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کو امیر مقرر کیا۔ میں بھی ان میں سے تھا جنہوں نے ان کی معیت میں غزوہ کیا۔ جب یہ (گروہ) کسی رستے پہ تھا تو اُن لوگوں نے آگ جلائی تاکہ وہ آگ تاپیں یا اس پر کچھ بنائیں۔ تو عبد اللہ نے کہا۔ اور اس کی مذاق کی عادت تھی۔ کیا میرا تم پر حق نہیں کہ تم سنو اور اطاعت کرو؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ اس نے کہا میں تمہیں جس بات کا حکم دوں گا تم اس پر عمل کرو گے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا میں تمہیں یقینی حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود جاؤ۔ کچھ لوگ کھڑے ہوگئے اور (کود نے کے لئے) تیار ہوگئے۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ تو کودنے لگے ہیں اس نے کہا اپنے آپ کو روک لو کیونکہ میں تو تم سے صرف مذاق کر رہا تھا۔ جب ہم واپس آئے تو لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو تمہیں ان (امراء) میں سے اللہ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کرو۔
حضرت سعید بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔ جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے، جو اپنے دین و مذہب کی حفاظت کرتے ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے، جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔